بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> حق نواز پاکستان کا اہم سرمایہ
حق نواز

حق نواز پاکستان کا اہم سرمایہ

حق نواز پاکستان کا اہم سرمایہ
تحریر سدرہ اسلم
اللہ تعالی کی بنائی اس دنیا میں بہت سے عجیب و غریب آنکھوں کو حیرأں کر دینے والے راز موجود ہیں جنہیں کھلی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود کسی خواب یا پر اسراریت میں ڈوبی داستان کا گمان ہوتا ہے۔ بچپن میں ہم نے یہ قصہ یا یہ کہہ لیں یہ کہانی اپنے بڑے بوڑھوں سے سنی تھی کہ ایک تھا عالم چنا جس کا قد آٹھ فٹ چھ انچ تھا وہ دنیا کا لمبا ترین شخص تھا اور حیرت کی انتہا اس وقت ہوتی تھی جب یہ پتہ چلتا اس کا تعلق پاکستان سے تھا۔ اس وقت اس کہانی کو دل کو بہلانے کا سامان سمجھا جاتا آہستہ آہستہ اس دنیا سے کب نکلے پتہ نہ چلا مگر اس دوران کچھ باتیں ایسی تھیں جن پر بہت ہنسی آتی ایسا لگتا کتنی عجیب باتیں تھیں جو بچپن میں ہمیں سنا کر بہلایا جاتا تھا۔ ہم نے تو یہ تک سنا تھا عالم چنا اتنا لمبا شخص تھا کہ اس کا گزر جب بازار سے ہوتا تو لوگ گھروں سے شکایت لے کر اس کے گھر پہنچ جاتے کہ عالم چنا نے ہمارے گھر چھانکا ہے جبکہ وہ بیچارہ صفا?ی دے دے کر تھک جاتا میں نے ایسا کچھ نہیں کیا میں تو بس بازار سے گزر رہا تھا اور گردن تھوڑی سی مڑی تو پورا گھر چلا اٹھا۔ یہ تو ہوئی پرانی بات مگر ہمارے اس ملک پاکستان میں آج بھی ایک ایسا شخص موجود ہے جس کا قد آٹھ فٹ سے زیادہ ہے اور مزید بڑھ رہا ہے۔ اس شخص کا نام حق نواز ہے جو بہاولپور شہر سے تعلق رکھتا ہے تعلیم یافتہ نہ ہونے کے باعث روزگار کے مواقع بھی موجود نہیں۔حق نواز ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اس کے تین بھائی اور دو بہنیں ہیں جبکہ وہ سب قد کاٹھ کے لحاظ سے بالکل نارمل ہیں۔ حق نواز کا ایک مکمل سوٹ چودہ میٹر کپڑے میں سلتا ہے اکثر حالات اتنے تنگ ہوتے ہیں کہ کپڑے تک سلوانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ غور طلب بات یہ ہے حق نواز کا قد سولہ سال کی عمر سے اتنی تیزی سے بڑھنا شروع ہوا کہ تاحال بڑھتا جا رہا ہے یہی نہیں اگر یہ دعوا کیا جائے اس وقت حق نواز دنیا کے سب سے زیادہ قد آور شخص ہیں تو یہ غلط نہیں ہو گا۔ حق نواز سے جب خصوصی بات کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ انہیں بہاولپور میں لمبا قد ہونے کی وجہ سے تمغہ شان بہاولپور دیا گیا ہے۔ مگر ان کے لئے یہ لمبا قد بہت سی مشکلات پیدا کر رہا ہے ان کا سب سے بڑا مسلہ یہ ہے کہ ان کے ہاتھ اور پاوں میں بہت کم جان ہے جس کے باعث وہ بہت مشکل سے چلتے پھرتے ہیں۔ ہاتھ پاوں میں طاقت کم ہونے کی وجہ سے کام کرنے میں بھی دقت پیش آتی ہے جس وجہ سے حق نواز حکومت سے اپیل کرتے ہیں مجھے بہتر سہولیات دی جائیں اور میرا علاج کروایا جائے تاکہ ہاتھ پاوں جو آہستہ آہستہ انتہائی کمزور ہوتے جا رہے ہیں وہ پھر سے متواتر کام کر سکیں اور حکومت سے ان کی ایک بڑی اپیل یہ بھی ہے انہیں روزگار کا کوئی بہتر بندوبست کرکے دیا جائے تاکہ زندگی کا گزر بسر آرام سے ہوجائے۔ حق نواز پاکستان کا ایک اہم سرمایہ ہے عین ممکن ہے اگر انہیں پاکستان کی جانب سے پروموٹ کیا جا?ے تو ان کا نام بھی گینیز بک آف ورلڈ رکارڈ میں شامل کر دیا جا?ے۔ جو پورے پاکستان کے لءئے ایک بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔ اسطرح حق نواز کو اپنا حق بھی مل جائے گا اور پاکستان کا نام بھی مزید روشن ہو جائے گا۔ کیونکہ یہ یقینی بات ہے کہ حق نواز دنیا کا ایک اہم ترین شخص ہے کیونکہ اپنے پراسرار طور پر بڑھتے قد کے باعث وہ دنیا کے لئے ایک عجوبہ بن کر سامنے آیا ہے اور پوری دنیا میں بہت سے پراسرار لوگ اور ایسی شخصیات موجود ہیں جو اپنے ملک و قوم کے لئے ایک ورثے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اسی طرح حق نواز بھی پاکستان کا اہم ورثہ ہے اس ورثے کو سمھالنا ہمارے ملک کے حکمرانوں کی زمہ داری ہے تاکہ حق نواز کی بیماری کو کنٹرول کر کے اس کا علاج کروایا جائے تاکہ یہ اہم سرمایہ پاکستان کے ل?ے فخر کا باعث بن سکے۔ صحافی تنظیموں کو چاہیے اس بات کو زیادہ سے زیادہ پروموٹ کریں تاکہ حق نواز کا نام بھی گینیز بک آف ورلڈ رکارڈ میں شامل کیا جاسکے۔ کیونکہ حق نواز اپنی غربت کی وجہ سے اتنا مجبورہے کہ اپنا با قاعدہ علاج نہیں کروا سکتا مختلف اسکولوں یونیورسٹیوں اور فلاحی اداروں سیمدد لے کر زندگی کا گزر بسر کر رہا ہے۔ حق نواز کا کہنا تھا آخر کوئی کب تک کسی کی مدد کر سکتا ہے مجھے زندگی کی گاڑی چلانے کے لئے بہتر روزگار کی اشد ضرورت ہے تاکہ لوگوں کی محتاجی اور اس مجبوری سے بچ جاوں۔ حکومت سے اپیل ہے حق نواز کے لئے بہتر روزگار کے مواقعے فراہم کئیے جا?یں تاکہ وہ اپنے قد کے لحاظ سے بڑھتی اپنی ضروریات کو پورا کر سکے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*