بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> ہم بھی کسی سے کم نہیں!
ہم بھی کسی سے کم نہیں

ہم بھی کسی سے کم نہیں!

ہم بھی کسی سے کم نہیں!
تحریر سدرہ اسلم
اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے سب سے زیادہ خواتین کے حقوق پر زور دیا یہی نہیں بلکہ اسلام نے اس وقت خواتین کے حق میں آواز اٹھائی جب یہ لبرل اور ماڈرن مغربی تہذیب کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا آج سے چودہ سو سال پہلے جب لڑکی کو پیدا ہوتے ہی دفن کر دینے کا رواج عام تھا اس وقت وہ اسلام ہی وہ مذہب تھا جس نے خواتین کو تحفظ دیا۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ وسلم وہ پہلے انسان ہیں جنہوں نے خواتین کو ماں بہن اور بیٹی کے روپ میں عزت اور احترام دیا اس کے بعد خواتین کے حقوق میں اللہ تعالی نے قرآن میں سورۃ النساء نازل فرمائی۔ اسلام نے عورت کو باپ کی جائیداد میں وراثت کا حق دیا تو شوہر کے حقوق میں حق مہر کا حکم دے دیا اس سے قبل کسی مذہب نے عورت کے لئے اتنا کچھ نہ کیا یہ ہے اصل اسلام۔ جو معاشرے میں عورت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اب میں بات کروں کی اسلام میں پردے کے حکم کی۔جہاں اسلام عورت کو پردے کا حکم دیتا ہے وہیں مرد کو بھی نگاہ نیچی رکھنے کا حکم دیتا ہے۔ عورت کے لئے سب سے محفوظ ٹھکانہ گھر کی چار دیواری ہے۔اگر آپ لبرل اور پڑھی لکھی ہیں تب بھی اسلام عورت پر کہیں نہ ظلم و جبر کا حکم دیتا ہے نہ زیادتی کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اسلام یہ ضرور کہتا ہے اپنا سنگھار نہ محرم مردوں کو نہ دکھاتی پھرو تو اس میں کون سی غلط بات ہے اگر اس وقت میں اتنے سخت الفاظ استعمال کر رہی ہوں تو اس کی ایک بڑی وجہ آٹھ مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے نکالی جانے والی ریلی ہے۔ اس ریلی میں خود ساختہ لبرل اور جدید سوچ کی حامل خواتین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر اس قسم کی عبارات رقم تھی جو مغربی کلچر کو پاکستان میں نافذ کرنے کی کھل کر اپیل کر رہے تھے۔ایک دو کارڈز تو ایسے بھی تھے جن کی عبارات کو میں یہاں لکھنا بھی مناسب نہیں سمجھتی میرا سوال یہ ہے اگر ان خواتین کو آزادی نہ ہوتی تو کیا ان کے گھروں کے مرد انہیں اس طرح سڑکوں پر نکل پر مارچ کرنے دیتے یا ان کی اس قسم کی خواہش پر انہیں گھر میں بند کر کے رکھتے اس طرح معاشرے میں کھلا نہ چھوڑتے اس قسم کی بے حیائی کو فروغ دینے کے لئے۔ان خواتین کا اس طرح سڑکوں پر نکل کر ایسے مارچ کرنا اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ اسلام یا پاکستان میں عورت کے حقوق کو آزادی رائے کی مکمل چھوٹ ہے خواتین جب جیسے چاہیے اپنے حقوق کو استعمال کر سکتی ہیں۔ مگر مجھے برا اس بات کا لگا جب خواتین کے پلے کارڈز پر پردے کی مخالفت کے حوالے سے عبارات درج دیکھی۔جس سے یہ ظاہر کیا جا رہا تھا ان خواتین کو جبراً پردہ کرنے کو کہا جاتا ہے جو کہ ان کی آزادی کی راہ میں رکاوٹ کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ان خواتین کو انتہائی معذرت کے ساتھ کہوں گی پردہ کرنے سے کوئی بھی عورت اپنے آپ کو اتنا محفوظ سمجھتی ہے جتنا کہ اپنی چار دیواری میں اس بات کو میں نے نوٹ کیا ہے مردوں کی نظر ان عورتوں پر زیادہ اٹھتی ہے جنہوں نے پردہ نہ کیا ہو بہ نسبت پردہ کرنے والی خاتون کیجب آپ خود کی دعوت نظارہ کے تمام ہتھیار سے لیس ہو کر نکلیں گی تو ہزاروں بری نظریں تو آپ پر اٹھیں گی۔ میں نے بہت سی ایسی خواتین جو پردہ کرتی ہیں ان سے پوچھا کیا آپ پر کسی نے دباو ڈالا ہے جو آپ نے خود کو اتنا ڈھکا ہوا ہے تو انہوں نے مجھے جواب دیا نہیں بلکہ ہم اس طرح باہر نکل کر زیادہ مطمعن اور محفوظ خود کو محسوس کرتی ہیں۔اس پر میں نے ان سے کہاں تو پھر آپ خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے ان پلے کارڈز پر لکھی عبارات کے بارے میں کیا کہیں گی۔ انہوں نے بہت اچھا جواب دیا جن خواتین نے پہلے ہی پردہ نہیں کیا ہوا وہ پردے کے خلاف آواز اٹھارہی ہیں یہ کیا چاہتی ہیں کہ ہم جیسی لڑکیاں جو خود اپنی مرضی اور خوشی سے پردہ کرتی ہیں ان سے بھی پردہ کرنے کا حق چھین لیا جائے ہمیں معاشرے میں پردے کے لئے کسی کا دباو نہیں بلکہ ہمارے اللہ اور ہمارے نبی ہمیں بری نظروں کے حصار سے بچانا چاہیتے ہیں تبھی ہمیں پردہ کرنے کی توفیق دی۔ ان سب باتوں کو دیکھنے کے بعد ایک سوال بہت شدت سے میرے ذہین میں آیا کہ یہ خواتین جو اس قسم کی مارچ پاکستان کے بڑے شہروں میں کر رہی ہیں خواتین کی آزادی رائے کے حوالے سے ہو نہ ہو یہ ایک مغربی پروپیگنڈہ ہے ہمارے معاشرے میں بگاڑ اور انتشار کو فروغ دینے کے لئے۔ یہ کچھ اس قسم کی این جی اوز ہیں جو مغربی ممالک کے طرز زندگی کو پاکستان میں فروغ دینا چاہتی ہیں اس طرح کی این جی اوز سے اپنی بہنوں بیٹیوں کو دور رکھیں تاکہ انتشار کو پھیلانے والے اس ناسور کا خاتمہ کیا جا سکے اور اسلام کے اصولوں کو اپنایا جاسکے۔ خواتین ہمیشہ سے قابل احترام تھیں، ہیں اور رہیں گی اس کے لئے یہ سب کرنے کی بالکل ضرورت نہیں۔اللہ پاک سب خواتین کو اپنے حفظ و امان میں رکھے، آمین

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*