بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> قرضوں کے انبار۔۔بات کہاں تک جائے گی؟

قرضوں کے انبار۔۔بات کہاں تک جائے گی؟

قرضوں کے انبار۔۔بات کہاں تک جائے گی؟
سید عارف نوناری
یہ حقیقت ہے کہ جب برصغیر تقسیم ہوا تو اس وقت پاکستان مقروض نہیں تھا بلکہ اپنے وسائل کے ذریعہ منی کی طلب و رسد میں توازن برقرار کر کے ملک کو چلا رہا تھا۔ ہم مقروض کیسے ہوئے اور معاشی آزادی ہمیں کیوں نہ ملی سیاسی، مذہبی اور غلامی آزادیاں حاصل کر لیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے کئی عشروں پر محیط پاکستان میں حکومت کی اور آئی ایم ایف سے قرضے حاصل کئے۔ انہوں نے اتنے عشروں میں آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے ایسی معاشی پالیسیاں کیوں نہیں بنائیں یا ایسے اقدامات کیوں نہیں کئے جس کے سبب پاکستانی قوم معاشی آزادی بھی حاصل کر لیتی۔ چائنہ اور ترکی ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح پاکستان میں موجود ہیں۔ ہماری پیداواری اشیاء کی جگہ چائنہ کی پیداواری اشیاء نے لے لی ہے اور پاکستان کا اب ہر بچہ مقروض ہے بلکہ آئندہ کی آنے والی نسلیں بھی مقروض ہیں۔ حکومتیں قرضے لیتی گئیں اور قرضوں کے ذریعے معیشت کو سنبھالا دیتی رہیں۔ لیکن شروع میں جب حکومت پاکستان نے قرضوں کا آغاز کیا اور قرضوں کے ذریعے معشیت اور یاست کو چلانے کی کوشش کی اس وقت سے مقروض ہونے سے بچنے کے لئے حکومت کو کفایت شعاری اور اپنے اخراجات میں کمی کر کے ملک کو قرضوں کے راستہ سے روکنا چاہئے تھا۔ اب ملک قرضوں کی زد میں ہے اور ملک کے تمام شعبے قرضوں پر چل رہے ہیں حالانکہ ملک پاکستان کے قدرتی اور انسان وسائل کثرت سے موجود ہیں۔ لیکن حکمت عملی نہیں سوچ نہیں اور مناسب منصوبہ بندی نہیں ہے۔ عمران خان کی ہیلتھ کارڈ سکیم اگرچہ صحت کی سہولیات کی فراہمی میں نہایت مناسب قدم ہے لیکن اس سکیم میں نگرانی اس عمل کی کرنی ہے کہ مستحق، غریب ہی کو اس صحت کی سہولیات کا حق جائے تاکہ روپے کا ضیاع نہ ہو۔ بجلی اور پٹرول مہنگا کرنے سے وزیر اعظم کو بھی پتہ ہے کہ مہنگائی ہوتی ہے کیونکہ بجلی اور پٹرول سے اشیائے خوردو نوش بنتی ہیں اور عوام تک استعمال کے لئے رسائی حاصل کرتی ہیں۔ سابقہ حکومتوں پر الزام تراشیاں لگانا کہ مہنگائی کے ذمہ دار وہ ہیں کسی حد تک درست ہے لیکن اب ملک پر وقت یہ آ چکا ہے کہ ملک قرضوں کے بغیر چل ہی نہیں سکتا ہے اور ادھار لے کر سود کے ساتھ سود در سود قرضے لیتے جا رہے ہیں۔ آخر قرضوں کا سلسلہ کب تک چلے گا اور مقروض ملک کو کب تک عوام اس حالت میں دیکھیں گے۔ ملازمین کی تنخواہیں، محکموں کو برقرار رکھا، انتظامی امور کو چلانا، ریاست کی بقاء کا دارو مدار قرض کے حصول پر رہ گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم غلامی سے ابھی تک نہیں نکل پائے ہیں بلکہ پہلے برطانیہ کے غلام تھے اب ساری دنیا کے غلام ہیں۔ معیشت میں توازن اور ملک کو خود کفیل بنانے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے حکومت کو عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے کے لئے معیاری زندگی کو لگژری زندگی سے پاک کرنا، معیشت اور زراعت کو ترقی یافتہ ممالک کے برابر لانا، سیاسی اور انتظامی ڈھانچہ کی درستگی کے ذریعے اخراجات میں کمی لانا، عوام میں سادہ زندگی بسر کرنے کی ترغیب دینا، سیاست دانوں اور سیاسی پارٹیوں میں مثبت سوچ پیدا کرنا تاکہ وہ بلاوجہ اخراجات سے پرہیز کریں۔ جیسے اقدامات کرنے ہیں اگر ہم یونہی قرضوں کے عمل کو جاری رکھیں گے تو ایک دن اللہ نہ کرے ملک گروی ہو جائے گا۔ آئی ایم ایف کے معاہدہ کے مطابق 6 ارب ڈالر کے قرضہ کی اقساط کا معاہدہ 3 سال 3 ماہ کا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ضرور اس قرضہ کے بدلے پاکستان کو کوئی نہ کوئی قیمت ادا کرنا ہو گی۔ اپوزیشن کا یہ بھی خیال ہے کہ ایران کے خلاف بھی پاکستان کو کوئی کردار ادا کرنے کا کہا جا سکتا ہے۔ آئی ایم ایف سے معاہدہ سے ایک فائدہ یہ بھی ہوا ہے کہ عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے علاوہ دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے بھی پاکتان کو امداد ملے گی جو ملا کر 9 ارب ڈالر تک ہے اور اس کی شرح سود بھی کم ہو گی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے ان میں آئی ایم ایف، ایشیائی ترقیاتی بینک یا عالمی بینک ہو۔ ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کی فراہمی اپنے مفادات کے حصول کے لئے کرتا ہے۔ اس میں معاشی مفادات کم ہوتے ہیں اور جغرافیائی اور سیاسی مفادات زیادہ ہوتے ہیں۔ بیرون ممالک کے قرضے پاکستان کے ذمہ 90 ارب ڈالر سے زائد ہو گئے ہیں اب سوچنے کی بات ہے کہ 90 ارب ڈالر کے قرضے پاکستان کیسے اتارے گا اور اپنی معیشت کو بھی کیسے درست رکھ پائے گا۔ پاکستانی قوم اب ہمیشہ مقروض بلکہ قرضہ کے بوجھ تلے ہے، بہت سے ملک ہمارے سامنے ہیں۔ انہوں نے قرضوں کو بھی اتارا ہے اور ملک کی عوام کو خوشحالی اور ترقی بھی دی ہے۔ لیکن صرف کفایت شعار قومیں ہی اپنے ملک کی ترقی و خوشحالی تک لے کر جاتی ہیں پاکستان کے تمام شعبوں کا اگر تجزیہ کیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح سامنے ہے کہ ہر شعبہ میں بلاوجہ پیسہ خرچ کیا جاتا ہے۔ کفایت شعاری کی طرف توجہ نہیں دی جاتی ہے عوام کو ایسی ڈگر پر لانا ہو گا کہ وہ مثبت اور باعمل قوم بن سکے۔ پھر آئی ایم ایف کی شرائط سے مہنگائی، بے روزگاری، ٹیکس وصولیوں میں اضافہ،یکساں ٹیکس لاگو کرنا، اسٹیٹ بینک کی خود مختاری میں اضافہ شامل ہے۔ معاشی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان شرائط سے عوام پر براہ راست بوجھ پڑتا ہے لیکن بعد میں اس کے نتائج بہتر سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔ موجودہ حکومت کے لئے معاشی ترقی کو آگے لے کر جانا مشکل نظر آرہا ہے کیونکہ قرضوں کے بوجھ کے سبب عوام کا معیار زندگی متاثر ہو رہا ہے اور اب زندگی کی بقاء کا سوال بھی ابھر کر سامنے آ رہا ہے کہ اب جینا کیسے ہے؟ حکومت کو ایسی ترقیاتی، اقتصادی منصوبہ بندی کرنی چاہئے کہ وہ ملک کو قرضوں سے نجات دلا سکیں۔ ملک کا اب سب سے ضروری مسئلہ یہی ہے کہ موجودہ حکومت ایسی کیا حکمت عملی وضع کرتی ہے کہ جس سے قرضوں سے ہمیشہ کے لئے خلاصی ہو جائے اور قوم و افراد کے مسائل میں بھی کمی آئی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*