بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> جنوبی پنجاب صوبہ کا قیام ناگزیر

جنوبی پنجاب صوبہ کا قیام ناگزیر

جنوبی پنجاب صوبہ کا قیام ناگزیر
سید عارف نوناری
جنوبی پنجاب صوبہ کا قیام انتظامی امور اور ملکی وسائل کو بہتر طریقہ سے استعمال کر کے لوگوں کے مسائل کو فوری حل کرنے کا اچھا اقدام ہے۔ پی ٹی آئی نے جب الیکشن لڑا اور کامیابی کے بعد اور پہلے بھی جنوبی پنجاب صوبہ کو بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ حکومت کا فرض ریاست کی سالمیت کو قائم رکھنا اور ریاستی امور کو آئین کے مطابق چلانا بھی ہوتا ہے۔ جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام کی بہت سی وجوہات حقیقت کے بہت قریب ہیں۔ چونکہ ہمیشہ حکومتوں پر یہ الزام عائد ہوتا رہا ہے کہ جنوبی پنجاب کی ترقی و خوشحالی کو ہمیشہ نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور پنجاب کے اضلاع پر ترقیاتی بجٹ کا بہت بڑا حصہ خرچ کر دیا جاتا ہے جس سے جنوبی پنجاب کے اضلاع پسماندگی کا عرصہ سے شکار ہیں اور انتظامی امور کی سرانجام دہی میں مشکلات درپیش ہیں۔ ملک یا ریاست کی مزید صوبوں میں تقسیم کر کے عوامی مسائل کو بہتر طریقہ سے سر انجام دہی میں کوئی حرج نہیں۔ یہ بھی تاثر سامنے آ رہا ہے۔ جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام کا عمل اگر مکمل ہو گیا تو پھر دوسرے صوبوں سے بھی آوازیں آنی شروع ہو جائیں گی۔ ہندوستان نے بہتر حکمرانی کے لئے اپنے ملک کو 22 صوبوں میں تقسیم کیا ہوا ہے۔ امریکہ میں 50 سے زائد ریاستیں یعنی صوبے ہیں۔ جغرافیائی لحاظ سے اگر ریاست اور حکومتی ادارے محسوس کرتے ہیں کہ ملک میں مزید صوبے بنا دیئے جائیں اور اگر عوام بھی اس بات سے متفق ہیں تو پھر کوئی حرج نہیں۔ نواز شریف کے دور میں لاہور کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے کا منصوبہ تھا تاکہ آبادی کے دباؤ کے پیش نظر لاہور کے انتظامی امور میں بہتری لائی جا سکے۔ پتہ نہیں یہ منصوبہ پھر کیوں پورا نہیں ہوا حالانکہ لاہور کی دو اضلاع میں تقسیم سے بہت سے امور اور عوام کو نچلی سطح تک مشکلات کو دور کرنے میں آسانی میسر آ سکتی تھی۔ موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ نیا صوبہ ملتان، بہاولپور اور ڈی جی خاں ڈویژن پر مشتمل ہو گا اور اس میں 120 صوبائی اسمبلی کی نشستیں ہوں گی۔ جس سے پنجاب کے بالائی صوبہ کی نشستیں 251 رہ جائیں گی۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ جنوبی صوبہ پنجاب کے قیام کا بل پہلے ہی قومی اسمبلی میں جمع ہو چکا ہے۔ لیکن اس میں پیش رفت کی ضرورت ہے۔ جبکہ موجودہ حکومت کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں ہے۔ جس کے سبب نئے صوبہ کے قیام میں ان کو مشکلات ہیں۔ اس صوبہ کے قیام کے لئے آئینی ترامیم بھی لانا ضروری ہے۔ جس کے سبب ہی آئینی طریقہ سے صوبہ کا قیام ممکن ہو سکے گا۔ ملتان، صادق آباد، لیہ، کوٹ ادو بھی جنوبی پنجاب کے وہ اضلاع ہیں جہاں اکثر سیلاب آتے ہیں۔ جس سے روز مرہ کی زندگی بھی متاثر ہوتی ہے اور ان قدرتی آفات سے نجات اور بحالی کے امور میں بھی سیلاب میں مشکلات پیش آتی ہیں اور صوبہ پنجاب کی تمام انتظامی مشینری سیلاب کے ایام میں جنوبی پنجاب کے علاقوں پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہوتی ہے۔ فلاحی تنظیمیں بھی سیلاب کی بحالی کے کاموں میں مصروف نظر آتی ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام کے لئے جدوجہد کی لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئے تھے۔ اس وقت بھی دو تہائی اکثریت کا مسئلہ درپیش تھا اور اب بھی ہے۔ اب دیکھیں موجودہ حکومت دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر اور ان کو قائل کر کے الیکشن میں کئے گئے اس وعدہ کو پورا کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔ تجویز ہے کہ آزاد کشمیر میں بھی علیحدہ وزیراعظم اور صدر نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس کو بھی پاکستان کے صوبہ کی حیثیت سے وفاق کا حصہ ہونا چاہئے جس سے پاکستان کی یگانگت اور بہتر پاکستان اور مضبوط پاکستان کا تصور ابھر کر سامنے آئے گا۔ یورپی نظام کو دیکھ لیں وہاں عوامی مسائل کی تیز تر ترقی اور فوری سہولیات کی فراہمی کے لئے کاؤنٹی سسٹم رائج ہے۔ جس کے سبب لوگوں کے 70 فیصد سے زائد مسائل نچلی سطح پر حل ہو جاتے ہیں اور صوبوں پر انتظامی بوجھ بہت کم ہے۔ دنیا بھر میں یہ طریضہ اپنایا جاتا ہے کہ جو صوبے بڑے ہیں ان کو اتنظامی امور اور بہتر حکمرانی اور آسانیاں پیدا کرنے کے لئے تقسیم کر کے ریاست کو مضبوط کیا جاتا ہے۔ لیکن پاکستان میں سیاسی گیم کھیلی جاتی ہیں اور ریاستی و ملکی مفادات کی بہتری کی بجائے بیانات اور ایک دوسرے پر تنقید کا عمل جاری رہتا ہے۔ اب یہ بھی ایسے وقت میں عندیہ دیا جا رہا ہے کہ حکومت کے خلاف عید کے بعد اپوزیشن جماعتیں مل کر لائحہ عمل تیار کر کے محاذ آرائی شروع کر دیں گی۔ فاٹا کو جس طرح ترامیم کے ذریعے ضم کیا گیا ہے۔ اسی طرح صوبہ جنوبی پنجاب کے قیام کے لئے بھی ممبران قومی اسمبلی اور ممبران صوبائی اسمبلیوں میں اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے حکومت کو کمیٹیاں بنانی چاہئیں بلکہ جنوبی پنجاب کے اضلاع میں تو بے شمار نشستیں پی ٹی آئی کو اسی نعرہ کی وجہ سے ملی تھیں۔ عوام میں جنوبی صوبہ کے قیام کے لئے کچھ افراد کی مخالفت میں آوازیں آ رہی ہیں۔ صوبہ پنجاب کے وسائل بے شما ر ہیں اور اس کی آمدن بھی دوسرے صوبوں سے زیادہ ہے۔ آبادی اور رقبہ زیاد ہونے کے سبب سیاست دانوں اور بیوروکریسی کو اس طرح کے امور اور عوام کو فوری انصاف اور مسائل کے حل میں دشواریاں عرصہ سے چلی آ رہی ہیں۔ برصغیر میں انگریزوں کی حکومت کے وقت بنگلہ دیش کو بھی دو صوبوں میں انتظامی دشواریوں کے سبب تقسیم کیا گیا تھا۔ جس کے سبب بنگلہ دیش کو دو صوبوں میں تقسیم کرنے سے بہت بہتری آ گئی تھی۔ اپوزیشن جماعتوں کو بھی ملکی مفاد اور ملک کی بہتری کے خاطر اس سلسلہ میں مثبت کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان ہم سب کا ہے اور ہم سب اس ملک کی خوشحالی اور ترقی میں حصہ ڈالنے کے ذمہ دار ہیں۔ موجودہ حکومت کو صوبہ کے قیام کے علاوہ اس وقت اگرچہ بہت سے ایشوز درپیش ہیں جن میں بجٹ اور خارجہ پالیسی، عوامی مخالفت ردعمل کو روکنا، انتظامی امور کی درستگی اوراپوزیشن جماعتوں کے اتحاد اور اکٹھ کو روکنے کے لئے حکمت عملی بنانا بھی شامل ہے۔ سیاست دانوں، وزراء، پارٹی عہدیداروں پارٹی ورکرزی کا بیوروکریسی کے ساتھ تعلقات کو بہتر اور خوشگوار رکھنا بھی بہت ضروری ہے۔ جس کی وجہ سے موجودہ حکومت نے کئی بار بیوروکریسی کی اکھاڑ بچھاڑ کی ہے لیکن ابھی تک نتائج بہتر نکلتے سامنے نہیں آ رہے ہیں۔ جنوبی پنجاب صوبہ کی پسماندگی اور اس کی ترقی و خوشحالی کے لئے اگر مثبت سوچ کے ساتھ عمل پیرا ہونا ہے تو اس کے لئے اس کا قیام نہایت ضروری ہے۔ 1971ء میں بنگلہ دیش کی پاکستان سے علیحدگی کا ایک سبب یہی تھا کہ 1000 سے زائد کلومیٹر کا فاصلہ ہونے کی وجہ سے انتظامی امور اور بہتر تعلقات کی استواری میں مشکلات تھیں اور بنگلہ دیشی عوام میں اس وقت ناانصافی اور یکساں ترقی اور منصوبے نہ بنانے کا رونا روتے رہے۔ پاکستان کی سالمیت اور حفاظت کرنا ملک کے تمام شہریوں کا فرض ہے اور اس کی خوشحالی اور ترقی کے لئے ہم تمام نے حصہ ڈالتے رہنا ہے تاکہ بہتر پاکستان کا خواب قائم رہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*