بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> معاشرے کی بہتری میں خواتین کا کردار
خواتین

معاشرے کی بہتری میں خواتین کا کردار

معاشرے کی بہتری میں خواتین کا کردار
؂سید عارف نوناری
خواتین دنیا بھر میں مثبت کردار ادا کر رہی ہیں۔ خاندانی پرورش اور معیشت کی ترقی میں بھی ان کے کردار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔ دنیا کے باقی مذاہب عیسائیت، نصرانی، یہودیت اور مغربی تہذیب میں اتنے حقوق عورت کو نہیں ملتے ہیں ، جتنے حقوق اسلام نے دےئے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں عورتوں پر ظلم و زیادتیاں بھی ہوتی ہیں۔ تیزاب پھینکا جاتا ہے۔ ان کے بنیادی حقوق کی پرواہ نہیں کی جاتی ہے۔ حق ملکیت کے حقوق کو غصب کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں جائیداد کی تقسیم پر خواتین کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اب پاکستان میں خواتین کے حقوق کے سلسلہ میں باقاعدہ خواتین ایکٹ اور خواتین حقوق و تحفظ کا محکمہ قائم ہوا ہے۔ اور باقاعدہ ایکٹ منظور کروایا گیا ہے۔ جس کے ذریعہ خواتین کو ہراساں کرنے، تشدد، بلیک میل کرنے اور سرکاری خواتین کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ خواتین کے حقوق کی آگاہی کے لیے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں سماجی تنظیمیں کام کرتی ہیں۔ خواتین کے حقو ق کے معلق کمپین چلا کر عالمی سطح پر شعور و آگاہی مہیا کرتی ہی۔ اب پاکستان میں بے شمار خواتین بیوروکریسی، پولیس، افواج، میڈیکل تعلیم اور صحت کے شعبہ میں خدمات سر انجام دے کر ملک کی معیشت و استحکام میں کردار ادا کرتی ہیں، یتیم بے سہارا ، بیوہ خواتین ہوٹلوں میں کام کرتے ہیں، اور بعض خواتین نے اپنے ہوٹل کھول رکھے ہیں جہاں وہ روزی روٹی کماتی ہیں۔ خواتین ملک کی معیشت اور استحکام کے علاوہ خاندانی ، عائلی زندگی کے علاوہ بچوں کی نشو و نما ان کی تربیت، اصلاح اور ملک کے باشندوں کومفید شہری بھی بناتی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ خواتین کے حقوق شہروں کی نسبت دیہاتوں میں کم مہیا ہوتے ہیں۔ شہروں میں الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا اخبارات کے سبب عورتوں کو مسلسل آگاہی ، سینمار اور واک کے ذریعہ ملتی ہے۔ خاوند اور بیوی کے حقوق کے سلسلہ میں خواتین کی والدین کی، جائیداد میں حصہ کا معاملہ بہت سنگین صورت حال اختیار کر گیاہے۔ جس کے سبب لڑائی جھگڑے، میاں بیوی کے باہمی تعلقات، رشتہ داروں سے تعلقات دڑریں پڑتی ہیں۔ اور میاں بیوی کے علاوہ گھریلو زندگی میں بچوں کی نشو و نما پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں معاشرہ میں خواتین کو اپنے حقوق جائیداد کے متعلق جاننا بہت ضروری ہے تاکہ عورتیں اپنا اسلامی اور آئینی حق لے سکیں۔ خاندانواں کے خاندان تباہ ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں جائیداد میں عورت کے حصہ کو قانوناً لازمی قرار دے دیا ہے۔ عورتیں اب اپنے حقوق کے حصول کی جنگ میں آگے نظر آتی ہیں ملک کی معیشت کے پہیہ کو چلانے میں بھی ان کی خدمات عیاں ہیں۔ سول سوسائٹی اور فلاحی تنظیموں کے ذریعہ وہ اپنی آواز اب پوری دنیا میں بلند کرتی ہیں۔ حکومت کی خواتین کے حوالہ سے کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ وہاں انفرادی ذمہ داریاں کو نبھانا، بھی بہت ضروری ہے۔ خواتین معاشرہ کا اہم جز وہیں۔ اسلام نے عورت کے حقوق، والدین کے حقوق، میاں بیوی کے حقوق اور ہمسائیوں کے حقوق کو واضح کردیا ہے۔ اور ان پر کاربند رہنے کی تاکید کی ہے۔ طلاق کی شرح میں اضافہ حقوق کی عدم پیروی کے سبب اور طلاق میں اضافہ کی وجہ سے خاندانوں کے خاندان اور عائلی زندگی تباہ و برباد ہو جاتی ہے۔ پارلیمنٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین کی نمائندگی اس بات کی روشن مثال ہے کہ خواتین اب کسی بھی مذہب معاشرہ میں ترقی کی دوڑ میں پیچھے نہیں ہیں۔ یہ اب تعلیم یافتہ طبقہ میں شمار ہو کر نوجوان کی بہتر ترتیب اور پرورش کے سبب نہ صرف بہتر پاکستان بلکہ بہتر دنیا میں بھی بھر پور کردار نبھا رہی ہیں۔ پاکستان کے 70% کے قریب لوگ دیہاتوں میں آباد ہیں۔ وہاں خواتین اپنے حقوق سے اتنا باخبر نہیں ہیں۔ حکومت پاکستان کو ایسی خواتین کو با شعور اور مفید شہری بنانے کے لیے ابھی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ قبائلی علاقوں میں خواتین پر اگرچہ کچھ پابندیاں ہیں ۔ جن کو دور کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ سیاسی جماعتوں، مذہبی جماعتوں اور فلاحی اداروں میں اب خواتین کی بھر پور تعداد موجود ہے۔ جو کسی نہ کسی طریقہ سے معاشرہ کی ترقی اور بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ اگرچہ والدین کی طرف سے ان کے ساتھ زیادتیاں ہوتی ہیں، اور جائیداد کی تقسیم میں ان کو نظر انداز کرکے بے شمار مسائل جنم لے رہے ہیں ۔ خواتین کی بہتری اور ان کی آگاہی کے لیے بے شما رملکی اور بین الاقوانی سطح پر ادارے کام کرتے ہیں۔ جس کے سبب ان کو اپنے حقوق کی معلومات اور حقوق کو کیسے حاصل کرنا ہے کی معلومات فراہم کی جاتی ہے۔ عملی جد و جہد میں بھی ملک کے تمام طبقات اور شعبہ جات میں وہ اپنے حقوق کے لیے جنگ کرتی ہیں۔ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے۔ مغربی تہذیب کے برعکس اس نے عورت کو چودہ سو سال قبل وہ حقوق اور عزت و احترام دے دیا ہے۔ کہ دنیا بھر میں کوئی بھی تہذیب اسلامی مقابلہ کی نسبت ان کو وہ مقام نہیں دے سکی۔ اسلام میں عورتوں کے حقوق کی حفاظت اس انداز میں کی گئی ہے کہ یتیموں، بیوؤں اور محتاجوں کا حصہ رکھا گیا ہے۔ بیوہ کی کفالت کا ذمہ دار ریاست کو قرار دیا گیا ہے۔ اسلام دنیا کے بہترین نظاموں میں سے ایک ہے۔ جس میں عائلی زندگی، خاندانی زندگی، معیشت، تجارت، خارجہ پالیسی، افواج اور طرز حکومت کے علاوہ دیگر مسائل کا حل پوشیدہ ہے۔ دنیا بھر میں گذشتہ روز خواتین کے عالمی دن پر سینمار، تقریبات ، واک اور حقوق کے مطالبات پیش کے گئے۔ پاکستان کی سرکاری خواتین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کو رہائش اور بچوں کی تعلیمی سہولیات بھی دی جائی۔ خواتین پر مظالم اور ناروا سلوک کے واقعات پیش ہوتے ہیں۔ عورت کی عزت محفوظ نہیں خواتین کو عزت اور احترام معاشرہ میں دینا ضروری ہے۔ اگر ہمارا معاشر اسلامی ہو گا تو طرز زندگی بھی اسلامی ہوگا۔ جس میں عورت کو خود بہ خود اپنے حقوق مل جائیں گے۔ سب سے اہم مسئلہ اج کل عورت کے حصہ کو جائیداد سے محروم کرنا ہے۔ جس میں پڑھے لکھے والدین شادی کے بعد عورت کو اس کا حصہ نہیں دیتے ہیں۔ اس وجہ سے بے شمار خاندانی الجھیں اور طلاق کی شرح میں بھی اضافہ ہو اہے۔ معاشرتی اتار چڑھاؤ میں تبدیلیاں آتی ہیں۔ مکمل آگاہی اور شعور کی معاشرہ کو بھی ضرورت ہے تمام معاشرتی مسائل کا حل اسلام کے سنہری اصولوں میں مضمر ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*