بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> بھارت کی ہٹ دھرمی، کشمیر اور سلامتی کونسل

بھارت کی ہٹ دھرمی، کشمیر اور سلامتی کونسل

بھارت کی ہٹ دھرمی، کشمیر اور سلامتی کونسل
تحریر۔۔۔سید کمال حسین شاہ
جموں و کشمیر جسے جنت ارضی بھی کہا جاتا ہے تقریباً 48,471 مربع میل پر پھیلی ہوئی ریاست ہے ۔کشمیر میں اسلام چودہویں صدی کے شروع میں ترکستان سے صوفی بلبل شاہ قلندر اور ان کے ایک ہزار مریدوں کے ساتھ پہنچا۔ بودھ راجا رنچن نے دینی افکار سے متاثر ہو کر بلبل شاہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ یوں راجا رنچنسلطان صدر الدین کے نام سے کشمیر کا پہلا مسلمان حکمران بنا۔ بعد ازاں ایک ایرانی صوفیمیر سید علی ہمدانی سات سو مبلغوں ‘، ہنرمندوں اور فن کاروں کی جماعت لے کر کشمیر پہنچے اور اس ثقافت کا جنم ہوا جس نے جدید کشمیر کو شناخت مہیا کی۔ انہوں نے ہزاروں ہندوؤں کو اسلام میں داخل کیا3 جون 1947ء میں جب تقسیم ہند کا فارمولا منظور ہوا تو برصغیر کی 562 ریاستوں کو ازاد چھوڑ دیا گیا تھا کہ وہ اپنی جغرافیائی اور معاشیاتی حقائق کے پیش نظر اپنی اپنی ابادی کی خواہشات کے مطابق بھارت یا پاکستان سے الحاق کر لیں۔ ریاست جموں و کشمیر کی 80 فیصد ابادی مسلمانوں پر مشتمل تھی اس کی 600میل لمبی سرحدپاکستان سے ملتی تھی۔ ریاست کی واحد ریلوے لائن سیالکوٹ سے گزرتی تھی اور بیرونی دنیا کے ساتھ ڈاک اور تار کا نظام بھی پاکستان سے جڑا تھا۔ ریاست کی دونوں پختہ سڑکیں راولپنڈی اور سیالکوٹ سے گزرتی تھیں۔ ان سب حقائق کے پیش نظر ریاست جموں و کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق لازمی طور پر ایک قدرتی اور منطقی فیصلہ ہونا چاہیے تھا لیکن مہا راجہ ہری سنگھ اور کانگریسی لیڈروں کے عزائم اس فیصلہ کے بالکل برعکس تھے۔ مقاصد کو عملی جامعہ پہنانے کے لیے انھوں نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے ساتھ مل کر سازش کا جال بنا جس کے پھندے میں مقبوضہ ریاست کے بے بس اور مظلوم باشندے اج تک بری طرح گرفتار ہیں۔کچھ مجاہدین نے ازاد کرواا لیا وہ ازاد کشمیر کہلایا جبکہ باقی ماندہ کشمیر پر بھارت نے اپنا غاصبانہ قبضہ جما لیا۔ چونکہ بھارت اپنی گھناؤنی کارروائیوں سے واقف تھا سو اس نے دنیا کے سامنے یہ اعلان کرنا شروع کیا کہ کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق محض عار ضی اور وقتی ہے۔ الحاق کا حتمی فیصلہ جموں و کشمیر کے باشندوں کی ازادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدازنہ رائے شماری کے ذریعے کرا یا جائے گا۔ اس بات کا اعلان پنڈت جواہر لعل نہرو نے کیا۔ چنانچہ اقوام متحدہ میں بھارت کی طرف سے دائر کردہ جنگ بندی کی اپیل منظور کر لی گئی اور بھارت نے اقوام متحدہ میں قرار داد پیش کی کہ کشمیر کا فیصلہ استصواب رائے سے کیا جائے گا اور انھیں حق خودارادیت دیا جائے گا۔ یوں 15اگست 1948ئکو اقوام متحدہ میں قرار داد حق خود ارادیت منظور کی گئی لیکن بھارت اج تک اس پر عمل کرنے سے گریزاں ہے اور مسلسل عذر تراشیوں بلکہ ہٹ دھرمی سے کام لے رہا ہے۔
بھارتی آئین ہند کی دفعہ 370 ایک خصوصی دفعہ ہے جو ریاست ریاست جموں و کشمیر کو جداگانہ حیثیت دیتی ہے۔ یہ دفعہ ریاست جموں و کشمیر کو اپنا آئین بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی دیتی ہے جبکہ زیادہ تر امور میں وفاقی آئین کے نفاذ کو جموں کشمیر میں ممنوع کرتی ہے۔ اس خصوصی دفعہ کے تحت دفاعی امور، مالیات، خارجہ امور وغیرہ کو چھوڑ کر کسی اور معاملے میں متحدہ مرکزی حکومت، مرکزی پارلیمان اور ریاستی حکومت کی توثیق و منظوری کے بغیر بھارتی قوانین کا نفاذ ریاست جموں و کشمیر میں نہیں کر سکتی۔ دفعہ 370 کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو ایک خصوصی اور منفرد مقام حاصل ہے۔ بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست جموں کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے پاکستان مسئلہ کشمیر پر ایک بنیادی نظریے پر کھڑا ہے۔ تقسیم ہند کے دوران جموں و کشمیر برطانوی راج کے زیر تسلط ایک ریاست ہوتا تھا۔ جس کی آبادی 95 فیصد آبادی مسلم تھی۔ جب ہندوستان کو تقسیم کیا جا رہا تھا تو جن علاقوں میں مسلم اکثریت تھی وہ علاقے پاکستان اور جہاں ہندو اکثریت تھی وہ علاقے بھارت کو دیے گئے۔ پر کشمیر میں اکثریتی آبادی تو مسلمان تھے لیکن یہاں کا حکمران ایک سکھ تھا اور سیکھ حکمران چاہتا تھا کہ بھارت کے ساتھ ہو جائے۔ لیکن تحریک پاکستان کے رہنماؤں نے اس بات کو مسترد کیا۔
کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان میں تنازعے کی اہم ترین وجہ ہے کیونکہ بھارت سارے کشمیر کے وسائل لوٹنا چاہتا ہے اور پاکستان کشمیر کو آزادی دلوانا چاہتا ہے۔ پاکستان پورے خطہ کشمیر کو متنازع سمجھتا ہے.پاکستان اور بھارت دونوں جوہری طاقتیں ہیں جو کشمیر کے آزادی اور خود مختاری کو بامسئلہ کشمیر دنیا کے خطرناک ترین علاقائی تنازعات میں سے ایک شمار کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کشمیر پر تین جنگیں لڑچکے ہیں جن میں 1947ء کی جنگ، 1965ء کی جنگ اور 1999ء کی کارگل جنگ شامل ہیں.
اج بھی کشمیریوں کے حوصلے اسی طرح بلند ہیں اور بھارت سے حد درجہ بیزاراور ازادی کے اسی قدر متوالے ہیں جس قدر ان کے اباؤ اجداد تھے۔ اس کی واضح مثالیں کشمیر میں بھارتی افواج پر ہونے والے حملے اور بھارت کے یوم جمہوریہ کو ایک بار پھر یوم سیاہ کے طور پر منانے جیسے اقدامات ہیں۔کشمیر میں صورتِ حال کشیدہ ہے اور اس اعلان سے قبل انڈیا کے وادی میں ہزاروں اضافی فوجی تعینات کیے جا چکے ہیں.وادی میں دفعہ 144 نافذ ہے ‘تمام سرکردہ سیاستدانوں کو گھروں میں بند کر دیا گیا ہے.کشمیر میں ڈر اور خوف کا ماحول ہے، لوگ گھروں میں بند ہوگئے ہیں۔ لوگوں نے مہینوں کے لیے خوراک کا ذخیرہ کر رکھا ہے۔دفعہ 144 کے تحت لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد ہے اور وادی کے تمام تعلیمی ادارے بھی بند کر دیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ سری نگر سمیت پوری وادی کشمیر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ہر سڑک پر بڑے پیمانے پرسکیورٹی فورسز کو تعینات کیاگیا ہے۔انڈیا میں برسرِ اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے انڈین آئین کی شق 370 کے خاتمے کا اعلان.کشمیری یہ ماننے کو ہی تیار نہیں ہیں کہ آرٹیکل 370 کا خاتمہ درست ہے۔ کشمیری اسے نہیں مانتے۔آرٹیکل 370 کے خاتمے کے اعلان کے موقع پر راجیہ سبھا میں اپوزیشن کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور کشمیر میں بھی اس فیصلے پر سخت ردعمل.کشمیر سے کانگریس رہنما غلام نبی آزاد نے ایوان میں کہا بی جے پی نے اس آئین کا قتل کیا ہے.سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی کی رہنما محبوبہ مفتی نے اس اعلان کے بعد اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ‘ آج کا دن انڈیا کی جمہوریت میں سیاہ ترین دن ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’جموں و کشمیر کی قیادت کی جانب سے سنہ 1947 میں دو قومی نظریے کو رد کرنا اور انڈیا کے ساتھ الحاق کا فیصلہ بیک فائر کر گیا ہے

بھارتی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد 5 روز تک مقبوضہ وادی کا دورہ کرنے والے بھارتی صحافیوں کا کہنا ہے کہ وادی میں ’آل از ویل نہیں بلکہ آل از ہیل‘ ہے، مقبوضہ کشمیر کے حالات دنیا کو بتانے والے صحافیوں کی زبان بند کر دی گئی.اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کرے۔وادی کے درجنوں مختلف علاقوں سے طلبہ کے مظاہروں سمیت بڑے احتجاجی جلسوں اور ریلیوں کی خبریں موصول ہو رہی ہیں اس حقیقت کے باوجود کہ ہندوستان کی حکومت کی جانب سے وادی میں سماجی رابطوں کی 22 ویب سائیٹوں تک رسائی بند کردی گئی ہے۔ مختلف دیہاتوں کو تقریبا 30 ہزار ہندوستانی فوجیوں نے محاصرے میں لے کرگھر گھر تلاشیوں جیسے وحشیانہ اورننگے جبر کو تین دن تک ان علاقوں کے عوام پر ایک قہر کے طور پر مسلط کیے رکھا۔ ان محصور علاقوں کے نوجوانوں، عوام اور خواتین کے اس محاصرے کے خلاف مسلسل احتجاجی مظاہروں اورفوج کے ساتھ تصادم کی خبریں بھی منظر عام پر آ تی رہی ہیں۔ محصور کئے گئے علاقوں میں وحشیانہ ریاستی جبر لوگوں کو خوفزدہ کرنے کی بجائے ان کو زیادہ جرات مندانہ مزاحمت میں ابھارنے کا باعث بن رہا ہے اور کشمیر میں جاری موجودہ سرکشی کی شدت اور طاقت کا اندازہ لگانے کے لئے یہی ایک ثبوت کافی ہے۔ درحقیقت کشمیر کی اس وقت جاری تحریک آزادی کئی حوالوں سے ماضی کی تمام تحریکوں سے نہ صرف یکسر مختلف ہے بلکہ یہ ماضی کی تمام تحریکوں کے مقابلے میں زیادہ وسیع اور طاقتوربھی ہے مسلح جدوجہد اس انقلابی بغاوت۔ ہندوستانی ریاست کے جبر اور دہلی کے گماشتے حکمرانوں کے خلاف نفرت ان انتہاؤں کو چھو رہی ہے کہ ان کے خلاف کسی بھی شکل میں آواز بلند کرنے والا کشمیری عوام اور نوجوانوں کی ہمدردیاں حاصل کرلیتا ہے۔ مسلح جدوجہد کرنے والوں کے خلاف ہونے والی ہر فوجی کاروائی میں مقامی لوگوں کی بڑے پیمانے پر فوج کے خلاف پرتشدد مداخلت اس تحریک کا ایک طاقتور پہلو ہے جس نے حکمران طبقات کے تمام جبر کو شکست و ریخت سے دوچار کر دیا ہے۔ تقریباًہر ضلع میں طلبہ نے احتجاجی ریلیا ں نکالیں اور کئی ایک مقامات پر پولیس کے ساتھ طلبہ کے تصادم بھی ہوئے۔ آغاز کے لمحے ہی اس تحریک کی وسعت اور طاقت اتنی زیادہ تھی کہ حکومت کو فوری طور پر تمام تعلیمی ادارے بند کرنے پڑے۔کشمیری نوجوانوں کی موت کے خوف سے آزادی نے آبادی کے تناسب سے دنیا کی سب سے زیادہ فوج کی تعیناتی کے باوجود ہندوستانی حکمران طبقے کے ایوانوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ کشمیر کی جدوجہد آزادی کے دوران جرات اور بہادری کی انفرادی مثالوں کی کوئی کمی نہیں رہی لیکن ایسا تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے کہ ایک پوری نوجوان نسل موت کے خوف کو فتح کر کے ہندوستانی ریاست کے جبر کے سامنے سینہ سپر ہو گئی ہے خاص کر نوجوان خواتین و طالبات جس بلا کی جرات اور بے خوفی سے ریاستی جبر کے خلاف لڑ رہی ہیں۔ کشمیر کی طالبات نے انہونی کردکھائی ہے، انہوں نے خاک سے اٹھ کر کئی آسمانوں کو تہہ خاک ملا دیاہے، انہوں نے جرات، بہادری اوربے خوفی جیسے لفظوں کے مفہوم و معنی کو نئی وسعتیں عطا کر دی ہیں۔آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے، پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے ہندوستان کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کردیئے ہیں۔اس کے ساتھ ہی، پاکستانی وزیراعظم نے مسئلہ کشمیرکو قانونی دائرے میں آگے لے جانے کے لئے ایک 7 رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے.
پاکستان میں یوم ازادی کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا دن، ملک بھر میں ریلیاں، بھارت کو جواب دینے کا عزم. یوم ازادی جوش و خروش اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے’یوم یکجہتی کشمیر‘ قومی دن کے طور پر منایا گیا اور اسی مناسبت سے ملک بھر میں یوم ازادی پر اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلیاں بھی نکالی گئیں، رات 12 بجتے ہی جشن ازادی منانے کیلئے بڑی تعداد نوجوان سڑکوں پر نکل ائے اور پاکستان زندہ باد ”کشمیر بنے گا پاکستان“ کے نعرے لگاتے رہے، وزیراعظم عمران خان نے پوری دنیا میں کشمیریوں کا سفیر بننے کا اعلان کردیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ پوری دنیا کشمیری عوام کے لئے فکرمند ہے،مودی کو 370 کا کارڈ کھیلنا بہت مہنگا پڑے گا،اب دنیا کی نظر مقبوضہ کشمیر پر ہے۔ اب دنیا کی نظر کشمیر پر ہے، اب یہ ہم پر ہے کہ اسے مزید کیسے عالمی دنیا تک لے کر جائیں۔ارمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہیکہ پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے اور کشمیر پر کبھی کوئی سمجھوتا نہیں ہوسکتا۔یوم ازادی اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے موقع پر (ائی ایس پی ار) سے جاری بیان کے مطابق ارمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہیکہ کشمیر کی حقیقت تبدیل نہیں کی جاسکتی، 1947 میں کاغذ کا ایک غیرقانونی ٹکڑا کشمیر کی حیثیت بدل سکانہ بدل سکے گا‘نہ ہی کوئی اور کشمیر کی حقیقت اب یا مستقبل میں تبدیل کرسکتا ہے۔ ارمی چیف نے کہا کہ پاکستان بھارت کے غاصبانہ عزائم کے خلاف کشمیریوں کے ساتھ کھڑاہے اور رہے گا‘ہم کسی بھی قیمت پر ظلم کے خلاف کھڑے رہیں گے،جموں و کشمیر کے تقدس کا بھرپور اَدراک ہے ہم کشمیر کاز کیلئے اپنی قومی ذمہ داریاں نبھانے کیلئے ہروقت تیار ہیں سلامتی کونسل کا مسئلہ کشمیر کو بھارت کا اندرونی معاملہ تسلیم کرنے سے انکار مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضے کا معاملہ 50 سال بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک پہنچ گیا۔مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کیا گیا، یہ اجلاس وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے تحریر کردہ خط کے بعد بلایا گیا تھا۔.اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر خصوصی اجلاس ہوا۔ اس بندکمرہ اجلاس میں کشمیر کی صورتحال پر غور کیا گیا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 15 رکن ممالک کے مندوبین اجلاس میں شریک ہوئے۔ انڈیا کی اس اجلاس کو روکنے کی تمام تر کوششیں ناکام رہیں اور دنیا نے انڈیا کا موقف مسترد کر دیا ہے۔وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ ہوا جس کے دوران عمران خان نے امریکی صدر کو پاکستان کے موقف سے آگاہ کیا اور انہیں اعتماد میں لیایو این ملٹری ایڈوائزر جنرل کارلوس لوئٹے نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر بریفنگ دی۔پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل کے اجلاس کا خیرمقدم کرتا ہے، مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کی بات آج اعلیٰ ترین سفارتی سطح پر سنی گئی، پاکستان مسئلہ کشمیر پرامن طور پر حل کرنے کے لیے تیار ہے۔اقوام متحدہ میں تعینات چین کے مندوب کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی کونسل اجلاس میں کشمیر کے معاملے پر تفصیلی بات ہوئی اور تمام ارکان نے کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا، بھارت نے یک طرفہ طورپر کشمیر کی حیثیت تبدیل کی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*