بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> سائنس اور چاند۔۔!!

سائنس اور چاند۔۔!!

سائنس اور چاند۔۔!!
سید تصور حسین نقوی
سائنس موجودات ِ عالم کی علمی تحقیقات اور اس پر تفصیلی بحث ہے۔ سائنس وہ مطالعہ ہے جو قدرت کی رنگینیوں میں گونا گوں تبدیلی کے سمجھنے میں مدد دیتی ہے اور غور و فکر کے دریچے کھولتی ہے۔ سائنس خود ہمارے بارے میں اور ہمارے اردگرد کی دنیا کے بارے میں جاننے کی جستجو کا نام ہے۔ سائنس کی بدولت ایسی ایسی ایجادات اختراعات ہو چکی ہیں کہ جنہیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اگر انسان اپنی عقل، علم اور جدید سائنس و ٹیکنالوجی کو بروئے کار لائے تو اسے سمجھ آجائے گی کہ یہ کائنات اتنی بڑی ہے کہ اس میں اربوں کھربوں کی تعداد میں کہکشائیں ہیں، جس میں ہماری کہکشاں کی وقعت ایک نقطعے یعنی ذرّے کی سی ہے۔ ہماری اس کہکشاں کے اندر اتنا بڑا نظام ِ شمسی ہے، جس میں سورج، چاند اور سیاروں سمیت نجانے کتنی چیزیں پائی جاتی ہیں جنہیں سائنس تاحال ڈھونڈنے سے قاصر ہے۔ ہماری کہکشاں میں زمین کی حیثیت بھی ایک نقطعے کی سی ہے اور اس زمین پر ہماری حیثیت بھی ایک ذرّے سے زیادہ نہیں، یعنی انسانی عقل اس چیز کا احاطہ نہیں کر سکتی، یہ انسانی عقل و فہم سے بالاتر ہے۔ خدا تمام جہانوں کا خالق، مالک اور معبود ہے۔ اس نے انسان کو خلق کیا اور اسے اتنی فہم و ذکا سے نوازا کہ وہ اپنے روز مرہ ضروریات کو پورا کرنے کے لئے مختلف ایجادات کر سکے۔ قرآن ِ پاک میں کائنات کو مسخر کرنے اور اس پر تدبر و تفکر کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ اب تک ترقی کے جو آسمان فتح کئے ہیں سب سائنس کا کرشمہ ہے۔ خدا نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اوراُسے لاتعداد ذہنی خوبیاں و صلاحیتیں بخشی ہیں۔ انسان نے اپنی ذہنی خوبیوں اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے چھوٹی بڑی ایجادات کے ذریعے اس دنیا کو طلسماتی دنیا میں بدل دیا ہے۔ انسان ہواؤں میں اُڑ رہا ہے، سمندروں کا سینہ چاک کر رہا ہے، زمین سے معدنیات کے خزینے نکال رہا ہے، چاند کو تسخیر کر چکا ہے۔ آج کے انسان نے ہواؤں، فضاؤں، سمندروں، صحراؤں پر حکومت قائم کر لی ہے۔ اپالو ۰۱ اور ۱۱ کے ذریعے ناسا نے چاند کی جو تصویر لی ہے اس سے صاف طور پر پتہ چلتا ہے کہ زمانہ ماضی میں چاند دو حصوں میں تقسیم ہو اتھا۔ چاند کا دو ٹکڑے ہونا ایک معجزہ تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے نبوت محمدی ﷺ کی سچائی کے لئے بطور دلیل دکھایا جسے آج سائنس نے بھی سچ ثابت کیا۔ سائنس کا کمال دیکھئے کہ ناسا نے کچھ عرصہ پہلے چاند پر دو راکٹ داغے، پہلے راکٹ کے بعد چاند کے ایک گڑھے سے مٹی اُڑی، جب کہ دوسرے راکٹ نے ناسا کے ماہرین کو بتایا کہ چاند کی زمین میں پانچ فیصد کے حساب سے پانی موجودہے۔ اس تجربے کے دوران چاند پر ۵۵۱ کلو گرام پانی کے بخارات اُڑے جن سے سائنسدانوں نے حساب لگایا کہ چاند کی ایک ٹن مٹی سے گیارہ سے بارہ گیلن پانی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس تجربے کے بعد چاند پر زندگی کے امکانات دکھائی دے رہے ہیں۔ جاپان کے سائنسدانوں نے اس سے بھی بڑا کمال کردیا، ایک جاپانی ادارے شیروز کارپوریشن نے چاند سے ایک لاکھ تیس ہزار ٹیٹرا واٹ بجلی حاصل کرنیکا منصوبہ بنا لیا۔ یہ بجلی مائیکروویو کے ذریے زمین پر لائی جائے گی اور یہ آدھی دنیا کی ضرورت پوری کریگی۔آج کے سائنسی دور میں دس ہزار سال پیچھے جا کر چاند کی پوزیشن کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اور اسی طرح مستقبل میں دو ہزار سال تک چاند کی حرکات و سکنات اور اینگلز کا تخمینہ لگا نا ممکن ہے۔ اس وقت بھی چاند کی زیادہ تر پوزیشنز انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں، تھوڑی سی محنت سے اپنی لوکیشن اور اور اس لوکیشن پر چاند کی پوزیشن معلوم کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح آج سے چار سو سال قبل ایک اہم ایجاد ہوئی جسے دوربین کہتے ہیں۔ اس ایجاد کا آج کی ترقی یافتہ دنیا میں فلکیات کے مطالعہ میں اہم کردار ہے۔ اگرچہ اب جدید ڈیجیٹل دوربینیں بھی بن چکی ہیں جو اپنی پہلی صورت سے کئی گنا بہتر اور تیز ہیں۔ انہیں زمین پر بھی بڑی بڑی ابزرویٹریز میں نصب کیا جاتا ہے اور خلاء میں بھی نصب کیا گیا ہے۔ ہبل ٹیلی سکوپ زمین کی فضا سے باہر نصب ایک ایسی دوربین کا نام ہے جس نے حیرت انگیز کائنات کا مطالعہ کرنے اور اس کے ان گنت راز فاش کرنے میں فلکیات کے حوالے سے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ قرآن پاک کے ایک ہزار سے زائد آیات جدید سائنس کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہیں اور اس میں بیسیوں آیات صرف فلکیات کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں۔ کائنات کی تخلیق یعنی بگ بینگ،پھیلتی ہوئی کائنات، کہکشاؤں کی تخلیق سے پہلے، ابتدائی گیسی کمیت یعنی مادہ،زمین کی کروی ساخت،چاند کی روشنی،منعکس شدہ روشنی، سورج کاگھومنا،سورج کا بجھ جانا،بین الخمی مادہ یہ سب کچھ سائنس دان قرآن پاک سے ثابت کر رہے ہیں۔ آج کے دور میں جب سائنس نے مریخ سے لیکر چاند تک دنیا کی تمام بڑی مسٹریز حل کر لی ہیں، جب مریخ پر گاڑیاں تک پہنچائی جا چکی ہیں، اور یہ ریسرچ ہورہی ہے کہ مریخ کے کس کس حصے میں پانی موجود ہے، دنیا چاند پر پہنچ چکی ہے لیکن ہم آج بھی چاند دیکھنے کے تنازعات میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے اس دور میں کہ جب دنیا بہت بدل گئی ہے سائنسی علوم نے انتہا کی ترقی کرلی ہے لیکن ہمارا نظام جوں کا جوں انجماد کا شکار ہے، غور و فکر، ریسرچ، تدبر کا دروازہ بند ہے۔ حالانکہ چاند کے نکلنے کا تعین علم فلکیات کے ذریعے سیکنڈز میں کیا جاسکتا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں چاند پر تنازعہ برقرار ہی رہتا ہے اور حکومت ٹھوس اقدامات سے گریزاں رہتی ہے۔ دنیا کے بے شمار ممالک میں یہ مسئلہ علم فلکیات سے حل کیا جاچکا ہے لیکن پاکستان ایک ایسا ملک ہے کہ یہ مسئلہ ہر روز سر اٹھاتا ہے۔ آج سائنس نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ آئندہ سو سال کا کیلنڈر پوری ایکوریسی کے ساتھ بنایا جاسکتا ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی جہاں ماہرین فلکیات و موسمیات مستقبل کے ہزاروں سال کے موسم، چاند اور سورج گرہن کی صحیح نشاندہی کردیتے ہیں۔ ڈاکٹر ماں کے پیٹ کے اندر بچے یا بچی کی نشاندہی اور اسکی صحیح تاریخ پیدائش بھی بتا دیتے ہیں لیکن ہم ان ماہرین کے علم سے فائدہ اُٹھانے کے بجائے مفتی منیب الرحمن کے چھبیس رُکنی وفد کے بے نور آنکھوں کے محتاج اور دنیا بھر میں ایک تماشا بن کے رہ گئے ہیں۔ ہمارے ملک میں مختلف لوگوں نے اپنے کام سے الگ ذمہ داریاں لی ہوئی ہیں اور چاند دیکھنے کہ ذمہ داری انکے پاس ہے جنہیں اپنے ہی ہاتھوں کی لکیریں تک نظر نہیں آتیں۔ اگر یہ اُس دور میں ہوتے تو نیل آرم اسٹرانگ کو بھی چاند پر نہ جانے دیتے، بلکہ اُسکی ٹانگوں سے ہی لٹک جاتے یا لپٹ جاتے اور بدعت، شرک اور کفر کے فتوے دیتے۔اگر دیکھا جائے توجس طرح گھڑی کے ایجاد ہونے کے بعد ہم نماز کے لئے سورج کی پوزیشن اور طلوع و غروب کے محتاج نہیں رہے اسی طرح علم فلکیات کی ترقی کے بعد اب آنکھ سے چاند دیکھنے کے بھی محتاج نہیں رہے۔سارا سال نمازوں کے اوقات کا کیلنڈر ہر مسجد میں ایڈوانس میں نصب ہوجاتا ہے، ہر سال رمضان المبارک میں روزہ رکھنے اور افطار کا وقت ایڈوانس میں بتا دیا جاتاہے۔ یہ جدول سائنسی ماہرین نے تیار کیا جس کی مدد سے ہم نے یہ اوقات وضع کر لئے ہیں۔اسی طرح آج کے سائنسی دور میں گریڈ سترہ کا ایک آفیسر بھی چاند کا اعلان کر سکتا ہے۔ اس میں چھبیس ارکان کا کیا عمل دخل ہے۔؟ اس مسئلے کا ایک ہی حل ہے کہ چاند کو”علماء کرام“ کی پہنچ سے دور رکھیں۔ اور جن کا کام ہے ان کو سونپ دیں۔ محکمہ موسمیات و فلکیات کا ایک ماہر یہ کام نہایت ہی بہترین اور احسن انداز سے کرسکتا ہے کیونکہ باقی گیارہ مہینے بھی وہی کرتا ہے۔ مولانا صاحبان اگر چالیس لاکھ لیکر بھی اس مسئلے کو حل نہیں کرسکتے تو کیوں ناں یہ مسئلہ اُنکے سپرد کیا جائے جنکے متعلقہ ہے کیونکہ یہ مسئلہ مذہبی ہے ہی نہیں بلکہ سائنسی ہے اور اس میں اسی کے ماہرین کو رائے دینی چاہیے اورانہی کی رائے کو حتمی ہونا چاہیے۔ سائنس میں اسکا طریقہ کار اور مسائل کا حل موجود ہے۔ اعداد و شمار اور سائنسی طریقے کار سے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ چاند کب اور کہاں تلاش کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ جب نئے ذرائع پیدا کر دیتا ہے تو اس سے فائدہ اُٹھانا چاہیے۔ علم فلکیات سے ہم نئے چاند کے نکلنے کا وقت اور اسکی عمر سیکنڈز میں معلوم کرسکتے ہیں۔اگرایڈوانس میں کیلنڈر بنا دیا جائے جس سے ہم ہجری تقویم کو اپنے ہاں رائج کر سکیں تویہ مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل ہو سکتاہے۔ویسے اگر دیکھا جائے تویہ دور بین بھی تو سائنسی ایجاد ہے جو ایک صدیوں پہلے کی ایجاد ہے۔ اگر پسماندہ اور پُرانی دوربین سے دیکھنا جائز ہے جو یہ مولانا دیکھتے ہیں تو اس میں کیا امر مانع ہے کہ جدید سائنسی ٹیکنالوجی سے مدد لی جائے۔؟ یا تو ایسا ہو کہ مولوی حضرات کسی ٹیکنالوجی کی مدد کے بغیر صرف انسانی آنکھ کی مدد سے چاند دیکھ کر فیصلے کر رہے ہوں، ایسا نہیں ہے، وہ بھی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں۔ پسماندہ اور پرانی دوربین سے دیکھنا درست اور شرعی ہے مگر جدید ٹیکنالوجی سے دیکھنا غلط ہے۔؟ یہ منطق سمجھ میں نہیں آتی۔ وسعت اللہ خان نے کیا خوب کہا کہ جنہوں نے ہر سونپے گئے کام میں چار چاند لگا دئیے ہوں، جو ہر میدان میں مسلسل چن چڑھا رہے ہوں ان انوکھے لاڈلوں کے کھیلن کو آخر ایک ہی چاند کیوں کافی ہو۔؟ معلوم نہیں پاکستانی پرچم پر ایک چاند کیسے ہے۔۔؟ فواد چوہدری نے تو کمال کردیا اگر یہ مسئلہ حل ہوجائے تو تاریخ میں امر ہوجائیں گے، ویلڈن۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*