تلخ حقییقت

تلخ حقییقت
طاہر فرید
قارئین آج میرا کالم پنجاب حکومت بیڈ گورننس مے متعلق کے جس نے عوام کو مایوی کے ساتھ ریاست مدینہ کے وزیر اعظم پاکستان کے خواب کو چکنا چور کر دیا ہے پاکستان تحریک انصاف بھاری عوامی مینڈیٹ غربت بے روزگاری اور لاقانونیت سے تنگ سابق حکومت کے خلاف احتجاج اور دھرنوں سے بلند وبانگ دعووں کے زریعے حکومت میں آئی اور عمران خان نے پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کی محرومیوں کو دور کرنے کے لئے پنجاب کے پسماندہ علاقہ عثمان بزدار کو وزیر اعلی پنجاب منتخب کیا لیکن بد قسمتی سے پنجاب کے وزیر اعلی نے خود کو خادم اعلی بنانے کی بجائے صوبہ پنجاب کی گورننس کو بہتر کرنے کی بجائے بدحالی کی طرف دھکیل دیا ہے جسکی وجہ پنجاب میں انتظامی امور پر گرفت نہ ہونا اور خود پنجاب کے پسماندہ علاقے سے ہونے کے باوجود عوامی مشکلات کا خاتمہ صحت و صفائی تعلیم ڈویلپمنٹ امن و امان کی صورعت حال کو کنٹرول میں نہ لانا ہے جسکی ایک تازہ مثال ڈویژن ساہیوال کے چلڈرن وارڈ میں علاج معالجہ کی ابتر صورت حال اور انتظامیہ کی غفلت اور لاپرواہی سے چلڈرن وارڈ میں ائیر کنڈیشنڈ بند ہونے پر آٹھ معصوم چراغ غل ہونے کی ہے قارئین کو اس افسوس ناک واقعہ سے آگاہ کرتا چلوں ڈی ایچ کیو ہسپتال ساہیوال انتظامیہ کی لاپرواہی وغفلت سے بچوں کوموت کی نیند سلادیا،چلڈرن وارڈ کی نرسری کا اے سی خراب ہو نے سے8بچے دم توڑ گئے میڈیا کے زریعے واقعہ کی اطلاع پر ڈی سی ہسپتال پہنچے،ڈی سی نے ایم ایس آفس کا اے سی چلڈرن وارڈ میں لگوادیا،وزیراعلیٰ پنجاب نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کررکھی ہے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ٹیچنگ ہسپتال میں بچگانہ وارڈ کے اے سی کی خرابی پر انتظامیہ کی مبینہ غفلت اور گرمی بڑھ جانے کی وجہ سے 8 نو مولود بچے زندگی کی بازی ہار گئے جس پر لواحقین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے فیصل آباد روڈ کو ہرقسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا،ہسپتال انتظامیہ نے پہلے تو لواحقین پر دباؤ ڈال کر واقعہ کو دبانے کی روائتی کوششیں کی لیکن جیسے ہی خبریں میڈیا پر آئیں توانتظامیہ حرکت میں آگئی دوسری طرف وزیراعلیٰ پنجاب اور اور صوبائی وزیر صحت نے واقعہ کا فوری نوٹس لیتے ہوئے انکوائری رپورٹ طلب کرلی ڈپٹی کمشنر محمدزمان وٹو کی طرف سے حکام بالا کو بھجوائی جانے والی رپورٹ میں بائیو میڈیکل انجینئر لقمان تابش کو اے سی کی خرابی کا ذمہ دار قرار دیکر معطل کرنے کی سفارش کی گئی ہے اور غفلت کے مرتکب دیگر عملہ کے خلاف کارروائی کرنے کا کہا گیاہے وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدارکی ہدایت پرایڈیشنل سیکریٹری صحت رفاقت علی ہسپتال پہنچے اور ان کی زیرنگرانی تحقیقاتی کمیٹی کا اجلاس ایم ایس آفس میں ہوا ایڈیشنل سیکریٹری صحت کا کہنا تھا کہ شام تک تحقیقاتی رپورٹ سامنے آ جائے گی اور ذمہ داران کو سخت سزا دی جائے گی واضح رہے کہ سول ہسپتال ڈویژن بھر میں اپنی نوعیت کا واحد ہسپتال ہے جہاں ڈویژن کے تینوں اضلاع ساہیوال۔ اوکاڑہ، پاکپتن کے علاوہ دیگر شہروں سے بھی ہزاروں مریض روزانہ کی بنیاد پر علاج ومعالجہ کے لیے آتے ہیں۔ہسپتال کی بچہ وارڈ میں صرف 18 بیڈز ہیں جہاں اس وقت 44 کے لگ بھگ بچے زیر علاج ہیں یاد رہے کہ اس ہسپتال میں بدانتظامی اور ڈاکٹرز کی طرف سے ڈیوٹی میں عدم دلچسپی کی بازگشت اکثر اوقات سنائی دی جاتی رہی ہے ساہیوال ہسپتال کے چلڈرن وارڈ میں ڈلیوری کے بعد نارمل بچوں کو ٹریٹمنٹ کے لئے ایڈ مٹ کیا جاتا ہے جہاں پر وارڈ میں ورثاء کو جانے نہیں دیا جاتا جبکہ زچہ پہلے ہی ڈلیوری کے باعث الگ خواتین وارڈ میں زیر علاج ہوتی ہیں چلڈرن وارڈ میں ورثاء کا انتظامیہ نے داخلہ ممنوع کر کے بچوں کو نرسوں کے رحم و کرم پر چھوڑدیا جاتا ہے بچوں کی ہلاکتوں کاواقعہ بھی ایسی لاپرواہی سے پیش آیا جہاں اے سے بندش کے باعث بچے وارڈ میں تڑپ ٹرپ کر جان دیتے رہے لیکن آٹھ ہلاکتوں کے بعد انتظامیہ کو علم ہوا ورنہ مزید زیر علاج بچوں کی ہلاکتیں ہو سلتی تھیں بچوں کی ہلاکتوں پر انکے والدین پر عید کی جو خوشیاں مانند پڑ چکی ہیں اور انکے لخت جگر جو کے کھلنے سے پہلے ہی مر جھا چکے ہیں کیا انہیں انصاف ملے گا یہ ایک سوالیہ نشان ہے ہمیشہ کی طرح ہسپتال انتظامیہ اور حکوت ایک آدھ اہلکار کو قربانی کا بکرا بنا کر معطل پھر بحال کر دے گی نہیں آئے گے تو صرف وہ معصوم جو اس دنیا سے چلے گئے وزیر اعلی جناب عثمان بزدار صاحب آپ اپنے بچوں کے ساتھ اے سی میں سرکاری شاہی محل میں بیٹھے ہوئے ہیں آپ کے میں گوش گزار کرتا چلوں پنجاب کے ہر ہسپتال میں کچھ ایسا ہی حال ہے علاج معالجے کا جہاں پر مریض تڑپ رہے ہوتے ہیں اور انکے ورثاء بر وقت چیک اپ اور علاج معالجے کے لئے دوہائی دیتے سرا پا احتجاج دکھائی دیتے ہیں اللہ نے آپ کو یہ منصب عطاء فرمایا ہے اس عوام کی خاطر خدارا ہسپتالوں کے روزانہ کی بنیاد پر دورے کریں اور حقیقیی معنوں میں انتظامیہ کو دجھی انسانیت کے علاج معالجے کی صورت حال کو تسلی بخش کرنے کے احکامات دئے جائیں کیونکہ امیر کا علاج تو پرائیویٹ اچھے ہسپتال میں ہو جاتا ہے لیکن غریب کا صرف سرکاری ہسپتال ہے س غربت اور افلاس کے دور میں۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*