بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> امیدوں کا خون

امیدوں کا خون

امیدوں کا خون
طا رق حسین بٹ شان
مثبت نتائج کی خواہش نے پاکستان کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیاہے۔ ملکی مفاد کے نام پر اقتدار کا ہما کس کے سر پر بٹھایا جانا ہے اس کا فیصلہ قبل از انتخابات ہو جاتا ہے اور عوام منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔انتخابات سے قبل ایسی کہانیاں تخلیق کی جاتی ہیں جس سے کسی مخصوص جماعت کو نشانہ بناکر من پسند جماعت کی فتح کی راہیں کشادہ کی جاتی ہیں۔ ۸ ۸۹۱؁ کے انتخابات میں پی پی پی کی فتح کو جس طرح محدود کیا گیا اب وہ کوئی سر بستہ راز نہیں رہا؟ پی پی پی ان انتخابات میں دو تہائی سے بھی زیادہ اکثریت سے جیت رہی تھی لیکن اسے صرف ۴۹ نشستوں پر ٹرخایا گیا اور حکومت سازی کیلئے دوسروں کا محتاج بنادیا گیا اور پی پی پی کی کڑوی گولی کو اٹھارہ مہینوں کے بعد کرپشن کے نام پر اگل دیا گیا۔ جنرل حمید گل ساری عمر اس بات کا کریڈٹ لیتے رہے کہ انھوں نے ملکی مفاد میں آئی جے آئی بنوائی تھی لیکن کیا کسی نے ان سے یہ پوچھنے کی جسارت کی کہ یہ سب کچھ آپ نے کس قانون کے تحت کیا تھا؟اس وقت بھی پوچھا نہیں جا سکتا تھا اور اب بھی پوچھا نہیں جا سکتا کیونکہ پوچھنے کی سزا بڑی عبرت انگیز ہے جسے کوئی بھی جھیلنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ میاں محمد نواز شریف اس وقت خفیہ ہاتھو ں میں کھیل رہے تھے۔ دونوں یک جان دو قالب تھے اور پی پی پی ان کا مشترکہ شکار تھا۔ اب اتحادی بدل گئے ہیں لیکن شکار نہیں بدلا۔ اگست ۰۹۹۱ ؁ اور پھر نومبر ۶۹۹۱؁ میں پی پی پی حکومت کو کرپشن الزامات میں اقتدار سے علیحدہ کر دیا گیااور محترمہ بے نظیر بھٹو روتی بلکتی اقتدار سے علیحدہ ہو گئیں حالانکہ عوام ان سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔بے شمار کہانیاں تخلیق کی گئیں لیکن کوئی ایک کہانی بھی محترمہ کی محبت عوام کے دلوں سے نہ نکال سکی کیونکہ لوگ سچ اور جھوٹ میں خطِ امتیاز کھینچ سکتے ہیں۔یہ محبت بھی عجیب و غریب شہ ہے کہ جب ایک دفعہ دل میں جا گزین ہو جائے تو پھر نکلتی نہیں ہے۔ ذولفقار علی بھٹو کی محبت عدالتی قتل کے باوجود عوام کے دلوں سے کیا کوئی نکال سکا ہے؟ محترمہ بے نظیر بھٹو کے مینڈیت کو ہمیشہ چرا یا گیالیکن وہ خاموش رہیں اور کئی سال جلا وطنی میں گزار دئے۔وہ سارا خاندان تو پہلے ہی کٹوا چکی تھی۔اب ان کے پاس کٹوانے کے لئے کچھ نہیں تھا لیکن جب کچھ نہ بچا تو ظالموں نے ۷۲ دسمبر ۷۰۰۲؁ کو انھیں ہی کاٹ دیاتا کہ پی پی پی کی رومانوی داستان کا خاتمہ ہو جائے لیکن جہاں سے خاتمہ کا ٹریلر چلاتھا کہانی دوبارہ وہی سے شروع ہوگئی ہے۔ کردار بدل گے ہیں لیکن اس کی روح وہی ہے۔وہ روح ہم سب کو جھنجوڑ رہی ہے لیکن ہم فی الحال اس آواز کو سننے سے قاصر ہیں کیونکہ مفادات کی زنجیروں نے ہم سے ہماری سماعت کی قوت چھین رکھی ہے۔ لکھ لوعوامی حاکمیت کا تصور دیر بیا بدیر حقیقت بن کر رہے گا اسے کوئی روک نہیں پائیگا۔کرپشن کے الزامات دھیرے دھیرے کمزور پڑتے جائیں گے اور نیب کی پھرتیاں اپنی ساکھ دیں گی۔سچ کا سویرا بالکل سامنے ہے اور کسی بڑی قربانی کا مطالبہ کر رہا ہے۔کیا ملکی لیڈر شپ اس کے لئے تیار ہے کہ وہ جبر کا مقابلہ جراتمندی سے کرنے کا خطرہ مول لے گی؟
جولائی ۸۱۰۲؁ کے انتخابات میں بلاول بھٹو زرداری کو پنجاب میں انتخابی مہم کی اجازت نہ ملی تو انھیں مجبورا سندھ کا رخ کرنا پڑا۔وہ پنجاب میں انتخابی مہم چلاتے تو نتائج بالکل مختلف ہوتے لیکن خفیہ ہاتھوں کا اس طر ح کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ہدف بڑا سیدھا تھا جو ریاستی بے رحمی کا آئینہ دار تھا لہذا اسے عملی جامہ پہنا یا گیا۔جو فتح کی امید لگائے بیٹھے تھے انھیں مایوس ہو نا پڑا اور جو ہارجانے کے خوف میں مبتلا تھے انھیں فتح کے پھریرے لہرانے کے مواقع دئے گے۔بلاول بھٹو زرداری اس وقت پاکستانی سیاست کا محور بنے ہوئے ہیں۔ان کی للکار سے ایوانوں پر لرزہ طاری ہے۔ بے نظیر بھٹو کا بیٹا ہونے کے ناطے عوام ان سے بڑی امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں۔ پارلیمنٹ میں ان کی تقاریر اور پھر ۸۱ آئینی ترمیم کے دفاع کی خاطر ان کا ڈٹ جانا ان کی مقبولیت کو مزید ہوا دے رہا ہے۔ان کے لہو میں جمہوریت سے محبت کا جو شمہ ہے اس نے ان کی شخصیت میں مزید نلھار پیدا کر رکھا ہے۔وہ واحد سیاست دان ہیں جو ان حلقوں پر بھی تنقید کی جرات کرتے ہیں جسے لوگ مقدس گائے سمجھتے ہیں۔ عوام انھیں مستقبل کا وزیرِ اعظم دیکھ رہے ہیں۔بھٹو خاندان کا فرد ہونا ایک ایسا اعزاز ہے جو بہت کم خاندانوں کو حاصل ہے کیونکہ انھوں نے آئین و جمہوریت کی خاطر جان کے نذرانے پیش کئے ہیں۔عوام اور بھٹو خاندان یک جان دو قالب کا استعارہ ہیں لہذا الزامات،مقدمات اور سزاؤں سے ان کے عوامی تعلق کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ عمران خان نے اپنی بے بصیرتی اور کم فہمی سے عوام میں مایوسی کے جو اندھیرے پھیلائیں ہیں اس سے بلاول بھٹو کی اہمیت دو چند ہو گئی ہے۔بڑے خاندان کا فرد ہونا کوئی جرم نہیں ہوتا بشرطیکہ اس فرد کے مقاصد بلند ہوں۔ اگر بلاول بھٹو زرداری وزارتِ عظمی پر نگاہیں جمائے ہوئے ہیں توانھیں محض اس بنا پر کہ وہ ایک بڑے سندھی گھرانے کے سپوت ہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اس بات کے فیصلے کا اختیار عوام کے پاس ہونا چائیے کہ حکمرانی کا اہل کون ہے؟پی ٹی آئی کے نعروں سے امید بندھی تھی کہ وہ موروثی سیاست سے عوام کی جان چھڑا کر اہل قیادت فراہم کرے گی لیکن بد قسمتی سے پی ٹی آئی نے موروثی سیاست کے تصور کو مزید مضبوط کیا۔اب توموروثی خاندان کی خواتین بھی پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر پارلیمنٹ کی ممبر بنی ہوئی ہیں اور پی ٹی آئی اسے میرٹ کا نام دے کر اپنا دامن بچا رہی ہے۔پی ٹی آئی کے سیاسی عزائم تو بہت ہی بڑے تھے لیکن جب عمل کا وقت آیا تو ان کی ہوا نکل گئی۔علامہ اقبال نے اس کیفیت کو انتہائی دلکشی سے بیان کیا ہے۔
(یہ کس شوخ نے لکھ دیا محرابِ مسجد پر۔،۔ ناداں سجدوں میں گر گے جب وقتِ قیام آیا)
شہباز شریف کا نام ای سی ایل سے ہٹایا جا چکا ہے۔حنیف عباسی اور نذرالاسلام کی ضمانتیں ہو چکی ہیں۔ میاں محمد نواز شریف چھ ہفتوں کی ضمانت کے بعد جیل واپس جا چکے ہیں۔ سیاست میں این آراو کا بڑا چرچا ہے جبکہ عمران خان اس کی تردید کر رہے ہیں۔نیب کو چند اہم مقدمات کو بند کرنے کا پیغام مل چکا ہے۔ ایک غیر یقینی کیفیت کا بھوت ہر سو چھایا ہوا ہے جس سے ملکی معیشت مزید ابتری کا شکار ہے۔مہنگائی کے طوفان سے پورے پاکستان میں کہرام مچا ہوا ہے۔گھر یلو اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور غریب کیلئے اپنا چولھا جلائے رکھنا انتہائی کٹھن ہو رہا ہے۔عوام کو لالی پاپ دیا گیا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت انقلاب برپا کر دے گی۔عوام کی آنکھوں میں دیپ جلائے گے تھے کہ نئے سویرے کا سورج طلوع ہونے والا ہے۔انھیں سبز باغ دکھائے گے تھے کہ ان کی قسمت بدلنے والی ہے لیکن نو ماہ کے بعد جو کچھ منظرِ عام پر آیاہے اس سے ہر شخص شکوہ سنج ہے۔غربت کی لکیر کو مٹانے والی جماعت اس لکیر کو اور گہرا کر رہی ہے۔عوام کو نوکریاں دینے اور گھروں کی تعمیر کاوعدہ تو دور کی بات ہے اس وقت تو ہمیں ڈالر کے سامنے روپے کی کم مائیگی کا مشکل مرحلہ سر کرنا ہے جبکہ آئی ایم ایف کا پیکج ابھی انتظار گاہ میں ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان جھوٹ کے ماہر ہیں۔انھیں علم ہے کہ عوام سنسنی خیزی اور نعروں کے خریدرار ہیں لہذا ن کے سامنے جتنے بڑے دعوے کئے جائیں وہ انھیں اتنی ہی زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔پی ٹی آئی نے انتہائی مہارت سے نوجوانوں کو نعروں کی کہکشاں کا مسافر بنا یااور وہ نعروں کی چکا چوند سے ایسے مسحور ہوئے ہیں کہ انھیں یہ سوچنے کی مہلت نہ مل سکی کہ جو وعدے ان سے کئے جا رہے ہیں وہ پاکستان کی معاشی قوت سے کہیں بلندو بالا ہیں۔وہ حکومت جس کی بھاگیں سیاسی بگھوڑوں،وڈیروں،صنعتکا روں ور جاگیر داروں کے ہاتھوں میں ہوں ان سے عوامی فلاح کی امید رکھنا چیل کے گھونسلے میں ماس تلاش کرنے کے مترادف ہو تا ہے۔کیا بونوں نے کبھی کوہ ہمالیہ کا معرکہ سر کیا ہے؟

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*