بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> تنگ ہو تا ہوا گھیر

تنگ ہو تا ہوا گھیر

تنگ ہو تا ہوا گھیر
طا رق حسین بٹ شانؔ
ُپا کستان کا ایٹمی پروگرام دنیا بھر کی نظروں میں کھٹک رہا ہے۔دشمنانِ اسلام حیلے بہانوں سے اس ایٹمی توانائی کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔امریکہ،اسرائیل اور بھارت اس میں پیش پیش ہیں لیکن ان کی کوششیں بار آور نہیں ہو رہیں کیونکہ قوم ابھی تک جاگ رہی ہے۔کسی زمانے میں افغانستان کی آڑ لی گئی تھی جبکہ اب کی بار ایران کو آڑ بنا یا جا رہا ہے لیکن وہ حالات کی میزان پر پوری نہیں اتر رہی۔جنرل پرویز مشرف کو یہ دھمکی دی گئی تھی کہ وہ نائن الیون کے واقعہ پر افغا ستان کے خلاف امریکہ کے ساتھ کھڑا ہو جائے اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اسے پتھر کے زمانے کی تصویر بنا دیا جائیگا۔جنرل پرویز مشرف نے اس دھمکی کے جواب میں امریکی حمائت کا فیصلہ کیا تو امریکہ کو سخت دھچکہ لگا کیونکہ وہ اپنے تئیں یہ سمجھ رہا تھا کہ پاکستان افغانستان کے خلاف امریکی جارحیت کا ساتھ نہیں دیگا تو پاکستان کے خلاف بھر پور قوت کا استعمال کر کے اس کی ایٹمی توانائی کی صلاھیت کو ملیا میٹ کر دیا جائیگا لیکن ایسا نہ ہو سکا اور یوں پاکستان ایک دفعہ پھر دشمنانِ اسلام کی سازشوں سے محفوط رہا۔ہمیں غیر جانبداری سے تاریخ کی ورق گردانی کرنی ہو گی تا کہ حالات کا صحیح تجزیہ پیش کیا جا سکے۔ ۹۸۹۱؁ میں سویت یونین افغانستان سے ذلیل و خوار ہو کر نکلا تو افغانستان کا انتظام مجاہدین کے ہاتھوں میں چلا گیا لیکن ان کی باہمی خانہ جنگی اور ملکی انتشار کی وجہ سے طالبان نے کابل کو فتح کر کے اپنی حکومت قائم کر لی جو کہ امریکہ بہادر کو پسند نہیں تھی۔ملا عمر اور ان کے ساتھی اپنی سادہ لوح طرزِ زیست اور انصاف پسند مزاج کی وجہ سے امریکہ کے ساتھ نبھاہ نہ کر سکے لہذا امریکہ ان کی حکومت کو الٹ دینا چاہتا تھا تا کہ اسلامی انقلاب کے پھیلاؤ پر روک لگائی جائے۔ امریکہ کو بنیاد پرست افغانی ایک آنکھ نہیں بھاتے تھے اگر چہ انہی مجاہدین کے ساتھ مل کر امریکہ نے سویت یونین کو شکست دی تھی۔ سویت ہیونین سے برسرِ پیکار مجا ہدین اچھے تھے لیکن جیسے ہی سویت یونین کو شکست کا سامنا کرنا پڑا امریکہ کے تیور بدل گئے اور یوں طا لبان اور امریکہ کے درمیان اختلافات کی خلیج پیدا ہوئی جو آج تک قائم ہے۔،۔
اس کھینچا تانی میں زیادہ وقت نہیں گزرا تھاکہ نائن الیون ۲۰۰۲؁ کی دہشت گردانہ کاروائی کے نتیجے میں امریکہ نے القاعدہ کو موردِ الزام ٹھہرا کر افغانستان پر یلغار کر نے کا فیصلہ کر لیا کیونکہ امریکہ یہ سمجھتا تھا کہ اس دہشت گردانہ کاروائی کا سرغنہ اسامہ بن لادن افغانستان میں روپوش ہے اور جب تک اسے امریکہ کے حوالے نہیں کیا جاتا افغانستان کو اس کا دست و بازو تصور کیا جائیگا۔اس زمانے میں ملا عمر افغانستان کا حکمران تھا لیکن اس نے امریکی مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا جس کا واضح مطلب تھا کہ امریکہ افغانستان کی اینٹ سے اینت بجا دیگا۔بالکل ایسے ہی ہوا اور افغانستا ن کی سر زمین نے آگ دھویں اور بارود کا ایسا منظر دیکھا جو اس کرہِ ارض پر پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا ٍتھا۔ملا عمر،افغانی قیادت،طالبان اوران کے ساتھی فرار ہو کر روپوش ہو گے۔خود اسامہ بن لادن تورا بورا کے پہاڑوں میں چھپ گیا۔حکومت نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی تھی کیونکہ ہر طرف امریکی ٹینک، فوج اور اسلحہ تھا۔افغانستان پر امریکی اشیر واد سے ایک نئی حکومت قائم کر دی گئی۔حامد کرزئی کو عنانِ حکومت سونپی گئی اور اس نے امریکی مخالفین کو چن چن کر کیفرِ کردار تک پہنچایا۔اس زمانے میں پاکستان پر جنرل پرویز مشرف کی حکومت تھی۔اسے بھی دھمکی دی گئی کہ وہ امریکہ کے ساتھ کھڑا ہو جائے نہیں تو اس کا حشر بھی طالبان قیادت جیسا ہو گا۔جنرل پرویز مشرف امریکی دھمکی سے سہم گیا اور جو کچھ امریکہ چاہتا تھا اس کی ہاں میں ہاں ملاتا چلا گیا۔امریکی حملے کے بعد پاکستان نے افغانیوں کا ساتھ دینے کی بجائے امریکہ بہادر کا دم چھلہ بننے کو ترجیح دی اور یوں اپنے وجود کو لاحق امریکی دشمنی سے بچا لیا۔جنرل پرویز مشرف کے فیصلے پر بعد میں بڑے سوال اٹھے لیکن اس وقت اس نے جو فیصلہ کیا تھا اس نے پاکستان کو ایک بہت بڑے طوفان سے بچا لیا۔اس فعہ بھی افغانیوں نے پاکستان میں ہجرت کی لیکن اب ان کا مائنڈ سیٹ تبدیل ہو چکا تھا۔اب پاک سر زمین ان کیلئے کسی ماں کی طرح نہیں تھی کہ انھیں اپنی آغوش میں لے لیتی۔اب پاکستان ان کیلئے عدو کی سر زمین تھی۔ صدیوں کا یارا نہ،صدیوں کی دوستی،صدیوں کی یگانگت،صدیو ں کا بھائی چارہ، صدیوں کی رفاقت دم توڑ چکی تھی۔ ملکی مفادات نے مذہب کی مضبوط رسی کو بھی کاٹ کر رکھ دیا تھا۔برِ صغیر پر صدیوں حکومت کرنے والے افغانیوں سے نرم گوشہ رکھنے والے پاکستانی حکمران اب امریکہ بہادر کے خوف کا شکارتھے اور اس کی شمشیرِ برھنہ کی کاٹ سے کانپ رہے تھے۔وہ جائے ماندن نہ پائے رفقتن کی ایسی کیفیت کا شکار تھے جس میں انھیں امریکی سپر یسی کے سامنے سر نگوں ہونے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔وہ لمحہ بہ لمحہ زندگی اور موت کی کیفیت میں مبتلا تھے کیونکہ انھیں خدشہ تھا کہ امریکہ بہادر کی مخالفت انھیں پتھر کے دور میں دھکیلنے کیلئے کافی ہے اور وہ اس دور میں دھکیلے جانے کیلئے بالکل تیار نہیں تھے۔نازو نعم میں پلنے والی قوم اس طرح کے تصور سے ہی کانپ رہی تھی۔،تعیشات کے مارے انسان کو بھلا پتھر کے زمانے میں جینے کیلئے کیسے راغب کیا جا سکتا تھا؟شائد یہی وجہ تھی کہ وہ امریکی خوشنودی کی خاطر اپنے ہی ہم مذہبوں کو قتل کرنے اور انھیں نیست و نابود کرنے کیلئے امریکہ بہادر کے دست و بازو بن گے۔امریکہ کو اپنی وفاداری کا یقین ہی ان کی بقا کا ضامن تھا اور جنرل پرویز مشرف نے امریکہ سے وفاداری کا دل کھول کر ڈھنڈورا پیٹا۔افغانیوں کی ہلا کتیں اورن کی تباہی جنرل پرویز مشرف کی کتابِ اقتدار میں بالکل غیراہم تھی۔اسے امریکی دوستی سے غرض تھی کیونکہ اس دوستی میں اس کی اپنی حکومت محفوظ تھی۔آزمائش کا یہ وقت گزر گیا لیکن پاکستان ایک دیرینہ دوست سے محروم ہو گیا۔ پاکستان کے اس فیصلے کے خلاف ایک نئی دھشت گرد تنظیم ٹی پی ٹی وجود میں آئی جس نے دھشت گردی سے پاکستان کے درو دیوار کو ہلا کر رکھ دیا۔ ہزاروں انسان اس جنگ کا ایندھن بنے اور ملکی معیشت تباہ ہو کر رہ گئی۔حکومت نے اربوں ڈالر اس جنگ میں جھونک دئے جس سے ملکی خزانہ خالی ہو گیا۔پاکستان کی کمزوری دشمنانِ اسلام کیلئے باعث طمانیت تھی لہذا علیحدگی پسند تنظیموں کو ہوا دی گئی کہ وہ پاکستان کی یکجہتی کے خلاف ہتھیار ا ٹھا ئیں تا کہ پاکستان خانہ جنگی کا شکار ہو کرمزید ٹکروں میں بٹ جائے۔دشمنانِ اسلام کا زیادہ زور بلوچستان پر مرکوز تھا کیو نکہ وہاں پر پہلے ہی کئی تنظیمیں ملک سے علیحدگی کا پرچار کر رہی تھیں۔ایک زمانہ تھاکہ د نیا کے نقشے پر بلوچستان کو علیحدہ ملک بھی دکھایا گیا تھا۔ امریکہ کی یہ سازش بوجوہ کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکی کیونکہ پاکستانی عوام اور افواجِ پاکستان اس سازش کے خلاف یک جان دو قالب تھے۔پاک فوج نے جس طرح اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے وہ تاریخِ انسانی میں اپنی مثال آپ ہیں۔ ٹی پی ٹی امریکہ کا بغلی بچہ تھا جسے پاکستانی قوم نے جذبِ باہم سے ناکامی سے ہمکنار کیا۔قبائلی علاقوں میں فوجی اپریشن اس طوفان کی شدت کو کم کرنے کا زینہ بنا۔ ٹی پی ٹی آج قصہ ماضی ہے لیکن اسے قصہِ ماضی بنانے کیلئے ہمارے فوجی جوانوں نے اپنے خون کا نذرانہ دیا ہے۔قومیں اپنے شہیدوں کو اسی لئے خراجِ تحسین پیش کرتی ہیں کیونکہ وہ اپنی جان کا نذرانہ دے کر قوم کو حیات عطا کرتے ہیں۔آج ہم ایک دفعہ پھر اسی دوراہے پر کھڑے ہیں لیکن اس دفعہ ٹکراؤ امریکہ اور ایران کے درمیان ہے۔اب کیا ہونے والا ہے۔اس نئے ٹکراؤ سے ہماری بقا کو کون سے خدشات لا حق ہیں اس پر سنجیدگی سے سوچنے کی ضروت ہے۔ایران تاریخی پسِ منظر رکھنے والا عظیم ملک ہے اسے امریکی دھمکیوں سے مرعوب نہیں کیا جا سکتا۔اسے ڈرانا،ہراساں کرنا اور خوف زدہ کرنا امریکہ کے بس میں نہیں ہے کیونکہ جو قوم باہم متحد ہو اسے دنیا کی کوئی طاقت فتح نہیں کر سکتی۔یہ نیا ڈرامہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ایک نئی سازش ہے اور ہماری قیادت کو اس کا ادراک کرنا چائیے۔امریکہ ہم پر چڑھ دوڑنا چاہتا ہے لیکن اس کیلئے نیا عذر تراشنا چاہتا ہے۔قوم کو اس وقت اتحاد کی اشد ضروت ہے تاکہ باہمی اتحاد و یگانگت سے امریکی سازش کو ناکام بنایا جا سکے۔کیا ہماری نئی قیادت ایسا کر پائیگی؟

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*