بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> ایمان کے کوہ گراں ، عشق رسول ؐ میں سر گرداں
ایمان

ایمان کے کوہ گراں ، عشق رسول ؐ میں سر گرداں

ایمان کے کوہ گراں ، عشق رسول ؐ میں سر گرداں
تحریر : وسیم خان درانی
حضرت علی ؑ کی والدہ کا نام فاطمہ بنت اسد ہے اور والد کا نام عمران ہے اور کنیت ابو طالب اور آپ کعبہ میں پیدا ہوئے آپ امیر المومین بھی ہیں اور امام المتقین بھی شیر خدا بھی ہیں اور مشکل کشا بھی مرتضےٰ بھی ہیں اور داماد مصطفےٰ ہیں اور آپ نفس رسول ؐ بھی ہیں اور زوج بتول بھی ہیں کون علی ؑ ہیں ؟ جس نے کبھی خیبر کے قلعے کو اکھاڑ ا اور کبھی مرحب و ابن ود کو بچھاڑ ا اور جس کی تلوار کبھی احد کے میدان میں چمکی اور کبھی بدر کے ریگستان میں اور جس کی شمشیر کبھی غزوہ تبوک میں لہرائی اور کبھی غزوہ خندق میں کفر پر گری کون علیؑ ؟ وہ جس نے ہجرت کی رات محبوب خدا کے بستر پر بسر کی اس رات بڑا شدید امتحان تھا اور اس رات نبی ؐ کے بستر پر سونا گویا تلواروں کے سایہ میں سونا تھااور موت و ہلاکت سے دست بدست جنگ تھی مکہ مکرمہ کے نامور اور مشہور قبیلوں کے بہادروں کا مقابلہ تھا ہر لمحہ جان جانے کا خطرہ تھا اس لیے کہ کوفر پورے سازوسامان کے ساتھ نبیﷺ کو قتل کرنے کے اٹل ارادے سے آئے تھے مگر چونکہ حضرت علیؑ بھی ایمان کے کوہ گراں تھے اور عشق رسول ؐ میں سر گرداں تھے اس لیے بغیر کسی تامل کے اپنے آقا و مولا کے بستر پر سونا منطور کر لیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ نبی کے حکم کے بعد سوچنا ایمان کی توہین ہے مکہ مکرمہ کی اونچی اونچی اور بلند پہاڑیوں کے دامن میں اللہ کے گھر خانہ کعبہ کے اردگرد عرب کے مشہور و نامور قبیلوں کے لوگوں کا ہجوم تھا خانہ کعبہ اور اردگرد و نواح کے مرد ، عورتیں ، بچے ،بوڑھے اور جوان اس وقت کے عرب کے دستور اور اپنے آباء و اجداد کی پرانی رسموں کے مطابق طواف کعبہ کر رہے تھے ان میں حضرت علیؑ کی والدہ حضرت فاطمہ بنت اسد بھی شامل تھیں جو اپنے بطن مبارک میں ایک نفس اقدس اور اپنے صدف رحم ہیں اسلام کا ایک گراں قدر موتی چھپائے ہوئے اس ہنگامہ ہائے ھیات انسانی سے بے خبر کعبے کی مقدس دیوار کے سایے میں اپنے دل کی گہرائیوں میں حزن و ملال کا ایک طوفان اور اپنی پیشانی پر خفت و ندامت کے آثار لیے سر جھکائے بیٹھی تھی کیونکہ آثار ولادت پیدا ہو چکے تھے اور قدرت کے قانون کے مطابق درد زہ شروع ہو چکا تھا اور وہ سوچ رہی تھیں کہ یہاں کوئی حجاب نہیں اور پردہ نہیں پھر اب وہ ایسی حالت میں کدھر جائے اور ابھی وہ سوچ رہی تھیں کہ اچانک کعبہ کی دیوار پھٹ گئی اور غیب سے آواز آئی کہ اے فاطمہ بنت اسد کعبے کے اندر آجانا چنانچہ آپ کعبہ کے اندر چلی گئیں اور پھر امیر المومین حضرت علی ؑ کی ولادت با سعادت ہوئی خانہ کعبہ میں ہوئی ۔ کیا خوب شعر ہے تیرھویں تھیں چاند کی افلاک پر چرچا ہوا ، مرحبا عمران کے گھر مرتضےٰ پیدا ہوا ، کہ قیامت تک کوئی ماں اب ایسا فرزند نہیں جنے گی جو کعبہ میں پیدا ہو اور شہید مسجد میں ہو جب سرکار دوعالم ؐ کو اطلاع دی گئی تو سرکار ؐ تشریف لائے ابھی تک شیر خدا نے آنکھیں نہیں کھولیں تھیں نبیؐ نے علی ؑ کو گود میں اٹھایا اور پھر خود ہی نہلایا پھر نبی اکرم ؐ نے اپنی زبان مبارک حضرت علی ؑ کے منہ میں دی تو حضرت علی نے آنکھیں کھول دیں نبی ؐ نے حضرت علی ؑ سے پوچھا آنکھیں کیوں نہیں کھولیں تو سرکار علی نے فرمایا کہ میری پہلی نگاہ نبوت اور رسالت پہ تھی اور میں آپ کا چہرہ دیکھنا چاہتا تھا اس لیے آنکھیں نہیں کھولیں میں کعبہ کے بت نہیں دیکھنا چاہتا تھا خیبر کے قلعہ قموص کا محافظ مرحب یہودی جو کفر کی دنیا میں کا مشہور و معروف اور زور آور پہلوان تھا لوہے میں غرق سر پر دومن وزنی خود پہنے اور ہاتھوں گزرلیے ہوئے مقابلے میں آیا ادھر حضرت علی ؑ بھی یہ پڑھتے ہوئے آگے بڑھے کہ میری ماں نے میرا نام حیدر رکھا ہے بس پھر کیا تھا آپس میں دو تلواریں ٹکرائیں ایک اسلام کو مٹانے کیلے اور دوسری بچانے کے لیے یہ حق و باطل کی دست بدست جنگ تھی اور اسلام و کفر کا معرکہ تھا ایک طرف سراپا کفر تھا اور دوسری طرف مولا علی کی ذات اقدس مرحب نے اپنا وار کیا اور حضرت علی ؑ نے بڑی ہشیاری سے روکا اس نے پینترہ بدلا اس نے قدم بڑھایا مرحب نے گرز اٹھائی علی ؑ نے ہاتھ سے پکڑی ، جھٹکا دیا اور گرزگر پڑی اور پھر علی کی تلوار ہوا میں لہرائی فضا میں چمکی اور بجلی کی طرح مرحب پر گری اور علی کی تلوار نے مرحب کے ٹکڑے کر دیے اور زمین بھی پکار اٹھی یا اللہ مجھے علی کی تلوار سے بچا لے پھر اللہ کے شیر نے جوش میں آ کر قلعہ کی دیوار کو زور سے پکڑ کر ہلایا اور زلزلہ سا آگیا اور در خیبر کے چالیس گز کے فاصلے پر گرایا اس فتح و نصرت پر ایک بار پھر نعرہ تکبیر گونجی اور حضرت علی نے سید المرسلین ؐ کا عطا کیا ہوا اسلام کا جھنڈا خیبر کے قلعے پر گاڑ دیا شعر ہے حید ر کرار ہے مولا حق کا ولی ہے ، یہ سچ ہے مولا سیف جلی ہے ، چوما ہے جس اسم کو نبیوں نے ، وسیم اس ذات کا نام علیؑ ہے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*