بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> امام العادلین،امیرالمؤمنین،فاتح اعظم

امام العادلین،امیرالمؤمنین،فاتح اعظم

امام العادلین،امیرالمؤمنین،فاتح اعظم
ظفراقبال ظفر
جس سال ابرہہ بادشاہ نے بیت اللہ پر حملہ کیا اور اللہ کریم نے ابابیل پرندوں کے زریعے اپنے گھر کی حفاظت فرمائی اس واقعہ کے تیرہ سال بعد ۴۸۵ء میں حضرت عمرؓکی پیدائش ہوئی۔آپؓ نے ۲نبوی بعمر ۷۲سال میں اسلام قبول کیا۔اس سے پہلے ۵۴ مردوں اور ۱۱ عورتوں نے اسلام قبول کر لیا تھااسلام کی ابتدائی دور میں آپؓ کا اضافہ تمنا آقا ﷺ تھا جو اللہ نے قبول فرمایا۔پھر آپ ؓ رسول اللہ کی صحبت میں تربیت پاتے رہے۔ایک یہودی اور منافق کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہوا اور معاملہ آقا ﷺکے پاس آ گیا آقا ﷺ نے یہودی کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔منافق نے وہ فیصلہ نہ مانا اور یہودی سے کہا کہ حضرت عمر ؓ کے پاس چلو وہ فیصلہ کریں گے آخر کار دونوں حضرت عمر ؓ کے پاس آ گئے معاملہ اس کے سامنے رکھا۔یہودی نے حضرت عمرؓ کو آقا ﷺ کا فیصلہ بھی بتلا دیا اور کہا کہ اس نے آقاﷺ کا فیصلہ نہیں مانا۔حضرت عمر ؓ گھر کے اندر تشریف لے گئے اورتلوار اُٹھا کر لائے اور منافق کی گردن قلم کر دی اور کہا جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا فیصلہ نہیں مانتا اس کا ہمارے یہاں یہی انجام ہے۔جب آقا ﷺ کو پتا چلا تو آپ ﷺ نے حضرت عمر ؓ کا لقب فاروق رکھا کیونکہ آپؓ کے اس عمل سے حق و باطل میں فرق ظاہر ہو گیا تھا۔اس کے بعددنیا آپؓ کو حضرت عمر فاروق ؓ سے مخاطب کرنے لگی۔بائیس لاکھ مربع میل تقریبا آدھی دنیا پرحضرت عمر فاروق ؓ کی خلافت دس سال چھ ماہ اور پانچ رات یا تیرہ ایام رہی۔نماز میں سب سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم حضرت عمر فاروق ؓ نے پڑھی۔سب سے پہلے امیر المومنین کے لقب سے حضرت عمرفاروق ؓ کو یاد کیا جاتا ہے۔حضرت عمر فاروق ؓ نے زمانہ نبوی میں اول مرتبہ اللہ کی عبادت کا علانیہ اعلان کیا تھا۔سب سے پہلے شراب پینے پر سزا کا حکم جاری کرنے والے حضرت عمر فاروق ؓ ہیں۔اسلام میں سنہ ہجری جاری کرنے والے بھی حضرت عمر فاروق ؓ ہیں۔سب سے پہلے گھوڑوں کی زکوٰتہ وصول کرنے والے حضرت عمر فاروقؓ ہیں۔سب سے پہلے حضرت عمر فاروق ؓ نے صدقے کے پیسوں کو اسلام پر خرچ کرنے سے روکا تھا۔سب سے پہلے حضرت عمر فاروق ؓ نے عشر(دسواں) حصہ لیا تھا۔اسلام میں سب سے پہلے بطور قاضی عہدے کا آغاز بھی حضرت عمر فاروقؓ سے ہوا۔اور اس کے بعد قاضی کو علاقائی سطح پر مقرر کرنے کا آغاز بھی آپؓ نے کیا۔سب سے پہلے مسجد میں فرش بچھانے کی انتظام بھی آپؓ نے کیا۔اسلام میں سب سے پہلے شہروں کو آباد کرنے والے بھی حضرت عمرفاروق ؓ ہیں اور ان شہروں میں قاضی مقرر کرکے آپؓ نے حکومت کی پہلی زمہ داری انصاف کا مہیاہونا ضروری قرار دلایا۔سب سے پہلے رات میں رعیت کی پاسبانی حضرت عمر فاروقؓ نے شروع کی۔یعنی مخلوق خدا کے حالات معلوم ہو سکیں اور پھر ان پر کام کیا جائے کہ ہر فرد کی اصل ضرورت پوری کرنا دور اسلامی حکومت کی ترجیع ہو۔لوگوں پر ظلم روکنے کے لیے سزاوں کا مقرر کرنا سب سے پہلے درہ کی ایجاد اور کوڑے کی سزا کو آپ ؓ نے لاگو کیا۔سب سے پہلے دفاتر کا انتظام بھی آپ نے کروایا دنیا بھر میں کہیں بھی کسی بھی ادارے کے جو دفاتر ہیں ان کی اہمیت اور ضرورت کو سب سے پہلے حضرت عمر فاروق ؓ نے سمجھتے ہوئے اس کی ابتدا کی۔پٹواری سسٹم یعنی سب سے پہلے میدانوں کی پیمائش زمینی حساب کتاب کی ابتدا بھی آپؓ نے کی۔پولیس کا محکمہ بھی آپ ؓ نے ایجاد کیا۔تاکہ لوگوں کے مال وجان کی حفاظت کی جا سکے۔نماز جنازہ میں چار تکبیروں پر لوگوں کو سب سے پہلے آپ ؓ نے جمع کیا۔(بغیتہ الظمان) یہ ساری شان اور تاریخ کا اہم کردار ہونا آقا ﷺ کی چاہت اور دُعاؤں کی بدولت وجود میں آیاجو آپ ﷺ نے حضرت عمر فاروق ؓ پر کرم کی صورت میں کروایا۔اس سے پہلے ایک طاقتور اور جابر کے طور پر اپنی زات کے لیے زندگی گزار رہے تھے جب آقاﷺ کی نگاہ سے اندر کی حالت بدلی تو وہ دل جو اپنی خواہشات کے سوا کچھ چاہتا نہ تھا اس میں اپنی زات کا خاتمہ اور پھر ہر فرد کی زمہ داری نے جگہ لے لی۔یہی حضرت عمر فاروقؓ جن کے دروازے پر سائل صدا کرنے آتا ہے تو سنتا ہے گھر کے اندر آپ ؓاپنی شریک حیات سے چراغ میں تیل زیادہ ڈال دینے پر بحث کر رہے ہیں تو وہ سائل سوچنے لگا کہ جو شخص چراغ میں تیل زیادہ ڈالنے پر یہ عمل کر رہا ہے وہ مجھے کیا دے گا اتنے میں حضرت عمر فاروق ؓ باہر آئے اور ایک دولت سے بھری تھیلی اس کے حوالے کی جس پر سائل حیران و پریشان ہو کر پوچھنے لگا کہ یہ معاملہ کیا ہے جس کے جواب میں آپؓ نے فرمایا وہ اپنی زات کے لیے تھا اس لیے پھونک پھونک کر گزارا کرتے ہیں جو تمہیں دیا یہ اللہ کی زات کے لیے تھا اس لیے دل کھول کر کرتے ہیں اور وہ سائل لا جواب ہو کر رخصت ہو گیاآپ ؓ کے دل کی دنیا مخلوق خدا کے احساس میں ایسی بدلی کہ جانوروں کی تکلیف پر بھی روتے تھے یہی وجہ تھی کہ آپ ؓ کی اللہ سے دعائیں ہمشیہ نیک دل انسانوں کی طلب کرتیں جن کو آپ ؓ حکومت کا حصہ بنا کر مخلوق کی خدمت میں لگاتے۔آپ ؓ کی اسلام پر جان نثاری اور مخلوق کا غم دیکھ کر آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمرفاروق ؓ ہوتے۔ہمت حوصلہ یہ تھا کہ جب اسلام میں داخل ہو کر عاشق رسول ﷺ بنے تو آقا کریم ﷺ سے عرض کرتے ہیں بلال ؓ کو حکم فرمائے کعبے کی چھت پر آزان دیں اور آپ ﷺ امامت کروائے میں پہرہ دوں گا اور دیکھتا ہوں کون مسلمانوں کو عبادت سے روکتا ہے اس کے بعد بلند آواز میں اعلان کرتے ہیں جس نے اپنے بچے یتیم اور بیوی بیوہ کروانی ہو وہ عمر ؓ کا سامنا کرنے کے لیے آجائے اگر کسی نے مسلمانوں اور ان کے نبی ﷺ کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا بھی تو اس کا مرنا طے ہے۔ یہی جلال اور کر گزرنے کا پختہ تہیہ اس عمل کا شرف بخشتا ہے کہ جس راستے سے حضرت عمر فاروقؓ گزریں گے شیطان وہاں سے بھاگ جائے گا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ شیطان کو ہرانے والے ہمیشہ دنیا و آخرت میں مقام بنا کر گئے ہیں۔دور خلافت میں جب آپ ؓ امیرالمومنین تھے تودوسرے ممالک کے حکمران آپؓ کی زیارت کرنا چاہتے تھے ایک ملک کا سفیر آپؓ سے ملنے مدنیہ آتا ہے لوگوں سے پوچھتا ہے تو بتانے والے بتاتے ہیں وہ اس وقت فلاں مقام پر مزدوری کر رہے ہیں وہاں جا کر مل لیں۔جب وہ سفیر وہاں پہنچا تو دیکھا آپؓ دوپہر کا کھانا کھا کر ایک پتھر پر سر رکھ کر آرام فرما رہے ہیں۔آج دنیا اسلام کو دہشت گرد کہتی ہے مگر مسجدوں میں دہشتگردی کا پہلا بانی ابو لولو فیروزایرانی مجوسی تھاجس نے مسجد نبوی میں مصلہ رسول ﷺ پر نماز کی حالت میں حضرت عمر فاروقؓ پر حملہ کرکے یکم محرم الحرام کو آپؓ کو شہید کر دیا تھا

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*