بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> محبت اور وہ بھی انتہا کی محبت!

محبت اور وہ بھی انتہا کی محبت!

محبت اور وہ بھی انتہا کی محبت!
تحریر۔۔۔ زکیر احمد بھٹی
یہ واقعہ کچھ عرصہ پہلے کا ہے ایک دن قبرستان کی دیکھ بھال میں مصروف تھا کہ ایک جنازہ آیا جو ایک عورت کا تھا نماز جنازہ کے بعد اس عورت کو قبر میں دفن کیا گیا اور سب لوگ دعا کے بعد اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے مگر ایک لڑکا کافی دیر تک قبر پر کچھ پڑھتا رہا رات کا وقت تھا میں اس کے پاس گیا اور اسے بولا کہ بیٹا رات کافی ہو گئی ہے اب آپ بھی گھر جائیں بہتر ہے صبح پھر آ جانا اس لڑکے نے مجھے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بابا جی میں اس گھر میں کیسے جاو¿ں جس گھر میں اب ماں نہیں ہے میرے گھر دیر سے انے تک جو ماں نہیں سوتی تھی میرے آنے کا انتطار کرتی تھی گرمی ہو سردی ہو بارش ہو موسم کیسا بھی تھا مگر کبھی میری ماں میرے گھر آنے سے پہلے نہیں سوئی تھی آج میں کیسے اس ماں کو اکیلا چھوڑ کر چلا جاو¿ں اب میرا کون انتظار کرے گا کون مجھے گلے لگا کر پوچھے گا کہ بیٹا سب خیر خیریت تھی جو اتنی لیٹ آیا ہے اس لڑکے کی گفتگو سن کر میرا دل بھر آیا میں نے اس کو تسلی دیتے ہوئے کہا بیٹا اس دنیا سے جانے والے کبھی واپس نہیں آتے ہم سب کو ایک ناں ایک دن اپنے اپنے وقت پر اس دنیا سے جانا ہے اور وہ لڑکا جس کی عمر تقریباً 25 سال ہو گی کچھ پڑھتا ہوا گھر کی طرف چلا گیا اگلے دن جب میں نماز فجر کے بعد قبرستان گیا تو وہ لڑکا اسی قبر پر موجود تھا میں نے دوسری قبروں کو دیکھتے ہوئے واپس آ گیا اب وہ لڑکا ہر روز قبر پر آتا اور کچھ وقت گزر کر چلا جاتا میں اسے ہر روز دیکھتا رہا وہ لڑکا پہلے تو کچھ وقت کے لیے آتا تھا مگر چند دنوں بعد میں نے محسوس کیا کہ وہ قبر پر زیادہ سے زیادہ وقت گزر کر جاتا ایک وہ بھی وقت آ گیا جب وہ صبح صبح آ جاتا اور رات گئے تک قبر پر موجود رہتا ایک دن مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہنے لگا بابا جی بہت جلدی میری میری ماں سے ملاقات ہو گی اس بات کو ابھی کچھ ہی دن گزرے تھے کہ میں کیا دیکھتا ہوں اس لڑکے کی ماں کی قبر سے مٹی ایک طرف ہے اور قبر جیسے کی نے کھولی ہے جب میں قبر کے پاس گیا تو کیا دیکھتا ہوں وہ لڑکا قبر کے اندر ہے اور اس کی ماں کا سر اس لڑکے کی گود میں رکھا ہوا ہے اور امی ماں سے باتیں کر رہا ہے میں خاموشی سے اس کی باتیں سننے لگا اس لڑکے نے کہا امی جان میں آپ کے بعد اکیلا رہ گیا ہوں گھر میں سب سے چھوٹا ہونے کے باوجود مجھے کوئی نہیں پوچھتا کھانا کھایا ہے کہ نہیں کپڑے دھونے کے لیے مجھے بار بار بھابھیوں کو کہنا پڑتا ہے گھر لیٹ آو¿ں یا جلدی کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا امی جان آپ کیوں مجھے اکیلا چھوڑ کر چلی گئی ہے میں اس دنیا میں نہیں رہنا چاہتا جہاں میری ماں نہ ہو امی جان آپ تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اللہ تعالیٰ سے بول کر مجھے اپنے پاس بلا لیں امی جان وہ گھر جو کبھی جنت لگتا تھا اب میرے لیے جہنم سے کم نہیں ہے امی جان مجھے آپ کے پاس آنا ہے میں آپ کے بغیر اکیلا تنہا ہو گیا ہوں میں کافی دیر اس لڑکے کی باتیں سنتا رہا اس وقت شام کا ٹائم تھا میں نے اس لڑکے کو آواز دی بیٹا رات ہو گئی ہے اب آپ گھر جائیں اور اپنی ماں کو بھی آرام کرنے دیں میری بات شاید وہ لڑکا سمجھ گیا تھا وہ قبر سے جب باہر آنے لگا تو میں نے قبر کے اندر دیکھا تو کیا دیکھاتا ہوں اس عورت کے سر کے بال کفن سے تھوڑے سے باہر تھے جو کالے رنگ کے تھے اور پاو¿ں کی طرف سے کفن ایک طرف تھا تو میں نے دیکھا کی اس عورت کے پاو¿ں ابھی تک جب کہ اس کے انتقال کو 6 ماہ سے اوپر ہو گئے تھے دونوں پاو¿ں ابھی تک ٹھیک تھے جب وہ لڑکا قبر سے باہر آیا تو میں نے اور اس لڑکے نے قبر کو دوبارہ بند کیا اور مٹی ڈال دی اور لڑکے نے جاتے ہوئے کہا کہ بابا جی جب بھی میرا انتقال ہو تو میری قبر میری ماں کے پاو¿ں کی طرف بنانا اتنی بات کرتے ہوئے وہ چلا گیا اور میں بھی اپنے کمرے میں آ گیا اگلے دن جب میں قبرستان گیا تو وہ لڑکا مجھے نظر نہیں آیا میں نے سوچا شائد کہی گیا ہو یا کوئی کام ہو جس کی وجہ سے نہیں آیا میں اتنا سوچ ہی رہا تھا کہ دو افراد میرے پاس آئے اور مجھے کہنے لگے بابا جی ایک قبر تیار کرنی ہے جب میں نے پوچھا کہ کس کی قبر تیار کرنی ہے تو انھوں نے بتایا کہ فلاح لڑکے کی یہ سنتے ہی میری انکھیں بھر آئی یہ کوئی اور نہیں وہی لڑکا تھا جو کل اپنی ماں سے ملاقات کرکے گیا تھا اور آج ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنی ماں کے پاس پہنچ گیا ہے میں یہ اج بھی سوچتا ہوں سچ میں ماں ماں ہے ماں کے بغیر گھر جنت نہیں رہتا ماں کے بغیر گھر جہنم بن جاتا ہے بچوں کے لیے دنیا اور آخرت ایک ماں ہی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*