بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> میں بھی سیاستدان بنوں گا

میں بھی سیاستدان بنوں گا

میں بھی سیاستدان بنوں گا
ایم سرور صدیقی
لو صاحبو!خوشیاں منائو ایک دوسرے کو مبارکباد دو کہ ہماری پیاری تبدیلی حکومت نے مہنگائی پر مہنگائی پھر مہنگائی کی چکی میں عوام کو مزیدپیسنے کا فیصلہ کرلیاہے کچھ حکومتی ترجمانوںکا خیال ہے ہے کہ اس حکومتی اقدام سے عوام کامعیار ِ زندگی بلند ہوگا اربوں کھربوں کے نئے ٹیکسز لگا نے سے حکومت بھی کرائسس سے نکل جائے گی اس سے پہلے کچھ عرصہ قبل عوام کے استعمال کی ضروری اشیاء پر 40ارب روپے ٹیکس لگانے کی باقاعدہ منظوری ہمارے آپ سب کے پیارے وزیر ِ اعظم عمران خان نے دی تھی اس وقت بھی سکوبنڈ ماہر معاشیات اورہردلعزیز وزیر ِ خزانہ نے تو یہاں تک فرمادیا تھا کہ نئے ٹیکسز لگانے سے غریبوںکو کوئی فرق نہیں پڑے گا ٹیکس امیروںپر لگائے گئے ہیں شاید ان کے کہنے کا یہ مطلب ہوکہ غریبوں کے لئے دودھ، بسکٹ ،چاکلیٹ خریدنا عیاشی ہے وہ تو عام آدمی کو بچت کرنے کا درس دے رہے ہیں فضول خرچ قسم کے لوگ اب اگر اس کا الٹا مطلب لے رہے ہیں تو حکومت کا کیا قصورہے ؟ اب اربوں کے نئے ٹیکسز لگانے کی نئی خبر۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ حکومت نے ہر سال اربوں روپے کے نئے ٹیکس لگانے کا پروگرام بنا لیا ہے کیا اب حکومت عوام کے تن سے کپڑے بھی اتار لینا چاہتی ہے یہ خبر سن کر شیدا بھاگا بھاگا میدے کے پاس پہنچا
اس کی پھولی سانس دیکھ کر میدے نے پوچھا یا ر کیا بات ہے سانس کیوں چڑھی ہوئی ہے ؟
شیدا کہنے لگا کچھ سنا حکومت نے منی بجٹ میں ارب کے نئے ٹیکس لگا دئیے ہیں
پھر کیا ہوا ؟ حکومت کہتی ہے اس سے عام آدمی کچھ متاثر نہیں ہوگا
اگر یہ بات ہے تواب ہمیں تو سمجھ نہیں آرہی کہ اس خبرپر دھمال ڈالیں یاپھرمفلوک الحال ہم وطنوںکے ساتھ مل کر یہ گانا گائیں
اج خوشیاں دے نال مینوں چڑھ گئے نیں حال
اس نے کہا اگر دیکھا جائے تو اس وقت پاکستان حالت ِ جنگ میں ہے ملک دیوالیہ ہونے کی باتیں کی جارہی ہیں حکومتی اخراجات پورا کرنامشکل ہے اس کا آسان حل بزرجمہروںنے یہ تجویزکیاہے کہ نئے ٹیکس لگادئیے جائیں،پٹرولیم مصنوعات مہنگی اور مختلف اشیاء پر حکومت کی جانب سے دی جانے والی سبسڈی ختم کردی جائے۔ پاکستان حالت ِ جنگ میں ہے پا ملک دیوالیہ ہونے کا خدشہ ہے تو صرف عوام کو قربانی کا بکرا کیوں بنایا جارہاہے؟ ۔عام آدمی پر نت نئے ٹیکس کیوں عائد ہورہے ہیں؟ اشرافیہ اپنے اللے تللے ختم کیوں نہیں کرتی۔ ارکان ِ اسمبلی کو کروڑوں کے فنڈزکس خوشی میں دئیے جارہے ہیں۔ حکمران سادگی کو کیوںنہیں اپناتے ۔یہ لوگ اپنی مراعات سے دستبردارہونے کو تیارنہیں عوام کا ناطقہ بندکرنے کی سکیمیں روز تیارہوتی ہیں اور راتوں رات ارکان ِ اسمبلی کی اپنی تنخواہ اور مراعات دگنی سے بھی تجاوزکرداتی ہیں۔ کیا یہ عجیب نہیں لگتا کہ ایوان ِصدرکا سالانہ خرچہ6ارب اور پورے پاکستان کا تعلیمی بجٹ فقط 4ارب روپے ہے ۔۔۔ شیدے نے کہا تو میدا ایسے سر ہلانے لگا جیسے وہ کوئی پہنچاہوا بزرگ ہو یا پھر بہت بڑا دانشور۔۔ وہ بولا تو پھر بولتا چلا گیا شاید اس کے پیچھے یہ کہانی ہو کہ ۔غریبوںکے بال بچوںنے پڑھ لکھ کرکون سا تیر مارلیناہے اس لئے وہ اپنے گھر والوںکی گذربسر کیلئے کچھ نہ کچھ کمائی کرلیں تو بہتر ۔میٹرک ایف اے پاس کرکے غریب بچے اتراتے پھرتے ہیں اونہہ۔ ان کو کون سی نوکری ملناہے جو پڑھائی کرتے پھریں ۔ میدے نے کہا برادر ِ بزرگوار بلکہ سوگوار سوچو ۔۔غورکرو اور سوچ سوچ کر اپنی فکر کرو۔۔ غریب کے بچے پڑھ بھی جائیں تو نوکری تو ملتی نہیں الٹا ان کا دماغ خراب ہوجاتاہے چھوٹا موٹا کام کرنے پرروادار ہی نہیں ہوتے۔ بادشاہو !غریبوں کے بچوں کو تو ہوٹلوں ،ٹی سٹالوں،ورکشاپوں میں کام کرنے والے ۔یاپھر یخ بستہ سردی میں گر م انڈے بیچنے والے ’’ چھوٹے’’ بنناہے پھر حکومت کیوں کچھ کرتی پھرے کیا حکمرانوںنے سب کا کوئی ٹھیکہ لے رکھاہے آخر انہوںنے بڑی مشکل سے خود اپنے بچوں کو کروڑوں اربوں کے چھوٹے موٹے کاروبار کرواکر مصروف کررکھاہے۔ حکمران زرداری ہو یا نوازشریف یاپھر عمران خان کیا فرق پڑتاہے وہ دل ہی دل میں یہ ضرور سوچتے ہوں گے کم ظرف لوگ ہمارے بچوںکی مثالیں دیتے ہیں غریب کہیں کے ہماری نقل مارتے ہیں۔ ہماری برابری کرتے ہیں جاہل مطلق جاہل کام کے نہ کاج کے دشمن اناج کے۔۔ ہمارے بچوں سے زیادہ تو جہانگیر ترین،ملک ریاض اور میاں منشاء کی آل اولاد امیرہے ان کی مثال کوئی نہیں دیتا۔اوپرسے الٹی سیدھی مثالیں دے کر غریب غرباء ہمارا بلڈ پریشر ہائی کرنے کی سازش کرتے ہیں۔ ایسی باتیں سن سن کر شیدا سرپکڑ کر بیٹھ گیا۔
کیا گم صم ہوگئے ہو؟۔ میدے نے کسی جہاندیدہ سیاستدان کی طرح گول گول دیدے گھماکر کہا
میںگم صم نہیںہوا۔شیدا بولا میں غورو فکر کررہاہوںکہ میں خود سیاستدان بن جائوں
’’تم اور سیاست ۔ میدے کے لہجے میں حیرت تھی۔یہ تو بات ایسے ہے جیسے یہ منہ اور مسورکی دال والا محاورہ
یار!میری مانو تم بھی سیاستدان بن جائو۔۔ اس نے کسی فلسفی کے انداز میں کہا ۔ پاکستان میں سیاست سب سے منافع بخش کاروبارہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ زیرو انوسٹمنٹ سے شروع کیا جا سکتاہے
’’ یار!سچ میں بھی سیاستدان بن سکتاہوں۔
’’ کیوں نہیں
’’کیسے ؟
’’پہلے پہل۔۔ شیدے نے فلسفہ بگھاڑتے ہوئے جواب دیا کسی بڑے سیاستدان کے چمچے ۔ کڑچھے بن جائو تھوڑے سے مشہورہو جائو تو کوئی حلقہ انتخاب ڈھونڈو۔ وہاںکسی چھوٹے موٹے سیاستدان کو اپنا ہدف بناکر اس کی ایسی تیسی کردو۔ اپنے ڈیرے پر روز بریانی کی ایک دیگ تقسیم کرو پھر دیکھنا لوگ تمہارے جانب ایسے کھینچے چلے آئیں گے جیسے لوہا مقناطیس کی جانب۔ لوگوں سے باتیں اس انداز سے کرنا جیسے ہمارے حکمران عوام کو بیوقوف سمجھتے ہوئے کرتے ہیں۔ بس تمہار ا تعارف ہونے کی دیرہے ملی بھگت سے زمینوں پر قبضے، مجبوروں کو تھانے کچہری کے کام اور مک مکا ۔ لوگ اپنے مسائل کے حل کیلئے تمہارے پاس جوق در جوق آنا شروع ہوجائیں گے پھر دیہاڑیاں لگنا شروع اور موجیں ہی موجیں۔۔یعنی پانچوں گھی میں۔
’’ہاں یار۔ میدے نے سرہلایا اس کے چہرے پرشفق رنگ لالی پھیل گئی وہ مسکرایا بہت دنوں سے بیکارہوں میں تو اب سیاست ہی کروںگا۔ سیاستدان ہی بنوںگا کاروبارکا کاروبار سیاست کی سیاست۔ ہنگ لگے نہ پھٹکری اور رنگ بھی چوکھا۔
‘‘یار میری مانو تم بھی کارزار سیاست میں قدم رکھ ہی دو شیدے۔۔ بڑا مزا آئے گا خوب گذرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*