بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> جنت کا دروازہ اور میں

جنت کا دروازہ اور میں

جنت کا دروازہ اور میں
مجیداحمد جائی
یونہی شوال کا مہینہ شروع ہوتا ہے میرا وجود تڑپنے لگتا ہے۔اس مہینے کا چاند دیکھنے کے لیے لوگ چھتوں پر چڑھ جاتے ہیں اور حکومت رات گئے تک چاند کی تلاش میں رہتی ہے۔ اگلے دن کہیں عید اور کہیں روزہ ہو تا ہے۔لڑکیاں چوڑیاں اور جانے کیا کیا خرید لیتی ہیں۔بڑی عورتیں اپنے بچوں کی شادی کے دن رکھنے کے لیے پلاننگ کر لیتی ہیں۔من چلے اپنے من کی شہزادی ڈھونڈنے کے لیے اسی مہینہ کا انتخاب کرتے ہیں۔کہیں بجٹ کا بیڑہ غرق ہوتا ہے اور کہیں تجوریوں کے منہ کھل جاتے ہیں۔مسلمان روزے رکھیں یا نہ رکھیں لیکن شوال کا چاند دیکھنے کے لیے ضرور بے تاب ہوتے ہیں کیونکہ اُنہوں نے عید منانی ہوتی ہے۔اپنے محبوب کا دیدراکرنا ہوتا ہے۔کہیں سے تحفہ لینا ہوتا ہے اور کہیں دینا ہوتا ہے۔اب یہ کون دیکھتا ہے کہ کسی کی دل آزاری ہو رہی ہے۔کسی کا حق کھایا جا رہا ہے۔
کسی کے آنچل خون آلودہ ہو جائیں،کسی کے آنگن میں آگ لگے،کسی کی آٹھ سالہ بچی کی برہنہ لاش ملے یا کسی کے گلشن کی رونقیں روٹھ جائیں۔کس کو پرواہ ہوتی ہے اور پرواہ ہونی بھی کیونکر چاہی،کیونکہ یہاں تو ضمیر مردے ہو چکے ہیں۔یہاں بے حسی کا دور دوراہ ہے،یہاں غیرت مر گئی ہے۔یہاں آنکھوں میں ہو س ہے،دلوں میں کینہ،حسد ہے۔میں کیا کروں،میں کہیں اور کھو جاتا ہوں۔
جی ہاں! میں ان سب چیزوں سے بے نیاز ہو کر ماضی کے کرب میں مبتلا ہو جاتا ہوں۔میرے لیے سبھی مہینے بلکہ ہر دن اورہر رات میرے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی نعمت سے کم نہیں ہیں مگر ماہ شوال میرے لیے درد لے کر آتا ہے۔میرا سکون برباد کرتا ہے۔مجھے رت جگوں میں دھکیل دیتا ہے۔میرے زخموں سے خون کی بوندیں ٹپکنے لگتی ہیں۔دل افسردہ ہوتا ہے اور آنکھیں دریاؤں کی طغیانی کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں۔میرے وجود کا انگ انگ اس کرب سے گزرتا ہے اور اسے گزرنا بھی چاہیے۔لیکن آپ کو فکر نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ خاص میرے دل کی کیفیت ہے۔
یہ شوال کا مہینہ تھا اور عیسوی کا سال 2013ء دن ہفتہ کا تھا۔رات کی ڈیوٹی مکمل ہونے کو تھی کہ گھر سے چھوٹی بہن نے فون کیا۔ابو کی طبیعت بہت خراب ہے۔ہسپتال لے جانا ہے۔یہ وقت چڑیوں کے چہچہانے کا تھا۔انسان رب تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے کے بعد رزق کی تلاش میں گھروں سے نکل رہے تھے اور میں بابا کو لیے ہسپتال کی طرف رواں تھا۔
سہ پہر تین بجے کا وقت تھا۔جب میں ایمرجنسی اپنے بابا کو لے کر پہنچا۔اس کے آگے کیا ہوا۔کس طرح بیان کروں۔میرا سائبان چلا گیا۔جنت کا دروازہ مجھ سے روٹھ گیا۔میں تنہا ہو گیا۔میری دُنیا کی رونقیں جیسے ختم ہو گئی ہوں۔
وہ آخری منظر میری آنکھوں سے نہیں جاتا جب بابا رُخت سفر باندھنے کو تھے اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ہوئے تھے۔اس کے ہاتھ میرے ہاتھوں میں تھے۔اسی ثنا ء میں دو موٹے موٹے آنسو بابا کی آنکھوں سے نکلے اور بابا آخری ہچکی کے ساتھ ہمیشہ کے لیے سو گئے۔نجانے یہ آنسو کیوں نکلے۔میں آج بھی اس راز کو پانے کی تگ ودو میں ہوں۔
انسان بڑے بڑے صدمے برداشت کر جاتا ہے۔میری زندگی ان صدمات سے بھری پڑی ہے۔لیکن میں ہمت نہیں ہارا۔ناتواں جسم ضرور ہے لیکن میرے حوصلے جوان ہیں۔میں جس کام کو کرنے کی ٹھان لوں ایک جنون کی طرح اس کو مکمل کرتا ہوں۔کبھی کبھی انسان تھک بھی تو جاتا ہے۔آج جب میں اپنے اردگرد دیکھتا ہوں تو سب اپنی اپنی دُنیا میں مست نظرآتے ہیں۔
جب سے جنت کا دروازہ مجھ سے روٹھا ہے میں در بدر بھٹک رہا ہوں۔منزل ملتی نہیں۔روز ایک نیا امتحان ہوتا ہے اور میں ہوتا ہوں۔میرے دل کی کیفیت عجیب ہو جاتی ہیں۔میں مرتا ہوں جیتا ہوں لیکن جنت کا دروازہ نہیں کھلتا۔میں آج بھی بھٹک رہا ہوں۔آج بھی تڑپ رہا ہوں۔میری تڑپ کسی کو محسوس نہیں ہوتی۔
لوگ عیدمناتے ہیں اورمیں اپنے آپ میں قید ہو کر یادوں کے دریچے کھول بیٹھتاہوں۔جنت کا دروازہ آج بھی میرے سامنے مسکراتا نظر آتا ہے۔ایک باپ اپنے جوان بیٹے کو کندھوں پر اٹھائے ہسپتال کی سیڑھیاں چڑھتا ہے۔بیٹے کا آپریشن ہوتا ہے اور باپ کی زندگی میں جل تھل ہو جاتی ہے۔بیٹا آپریشن روم سے باہر لایا جاتا ہے اسے سردی لگتی ہے۔اپنے بیڈ پر بیٹا تڑپ رہا ہے اچھل رہا ہے تو اس کاجنت کا دروازہ یہ منظر دیکھ کر بے ہوش ہو جاتا ہے۔
آج جنت کے دروازے کوبچھڑے چھ سال ہو گئے ہیں میرے دل کی کیفیت وہی ہے۔میں وہاں ہی کھڑا ہوں جہاں جنت کے دروازے نے الوداعی سلامی آنسوؤں کی صورت دی تھی۔آج میرے بابا منوں مٹی تلے سوئے ہیں لیکن میں ایک پل نہیں سو پایا۔نظام زندگی چل رہا ہے۔لوگ روز مرتے ہیں لیکن میں جنت کے دروازے کی دُوری نہیں بھول پایا۔
مجھے دوسرے بہن بھائیوں کے دلوں کی کیفیت کا معلوم نہیں۔لیکن میرا دل بے تاب ہے۔ایک پل چین نہیں۔ہاں مگر کبھی کبھی باباکے آخری گھر جا کر خوب روتا ہوں۔گلے شکوے ہوتے ہیں۔ایک بیٹا اپنے باپ سے،جنت کے دروازے سے بہت سی باتیں کرتاہے۔بابا پیارسے تھپکی دیتا ہے اور میں پھر سے دُنیا میں لوٹ آتا ہوں۔
بابا!ہم تیری خدمت نہیں کر پائے۔تیرا حق ادا نہیں کر سکے لیکن بابا اپنے نالائق بیٹے کو معاف نہیں کروگے۔بابا!تُو تو بہت پیارکرنے والا ہے۔دیکھ تیرا یہ بیٹا تیری آغوش میں سر رکھ کر سکون کی نیندکرنا چاہتا ہے۔اپنے پاس بلوالے نا۔ایک مدت ہوئے سو کر نہیں دیکھا۔بابا!اپنی بانہوں میں بھر لے نا۔۔۔۔۔۔۔
لوگ جنت کے طلب گار ہیں اور میرے لیے تو جنت کا دروازہ بند ہو گیا ہے۔میر ابابا مجھ سے روٹھ گیا ہے۔کوئی ہے جو میرے بابا سے سفارش کرے۔کیا وہاں سفارش رشوت چلتی ہے۔؟کوئی ہے جو مجھے جنت کے دروازے سے ملادے۔۔۔۔اللہ میرے بابا کو کروٹ کروٹ سکون عطافرمائے آمین۔!

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*