بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> دل کا ہر اک داغ ہے برقِ تجلّی

دل کا ہر اک داغ ہے برقِ تجلّی

دل کا ہر اک داغ ہے برقِ تجلّی
مجیداحمد جائی
زندگی کا تصور آتے ہی بندہ بشر حسین خیالوں میں کھو جاتا ہے۔مسکراہٹیں،قہقہے،پیار ومحبت کے قصے بانہوں کے حصار میں لے لیتے ہیں لیکن یہی زندگی صدمات کا طوفان بھی ہے۔ایسے ایسے موڑ بھی آتے ہیں کے سب کچھ تھم سا جاتا ہے۔چشم چھم چھم برسات شروع کر دیتی ہیں۔یہی آنکھیں ہی کائنات کے حسن و جمال میں کھو کر زندگی کو بے تاب بھی کر دیتی ہیں اور لبوں پر تعریف کے پھول اُگنے لگتے ہیں۔ان آنکھوں کے ساتھ خوبصورت رشتہ دل کا بھی ہے۔دل اور آنکھیں مل کر زندگی کو حسین بھی بناتے ہیں اور قطرہ قطرہ نچوڑتے ہوئے زندگی کو ختم بھی کراتے ہیں۔
محبت۔۔۔۔جنتا میٹھا لفظ ہے اتنا ہی اس میں زہر یلا مادہ بھر دیا جاتا ہے۔فطرت کا کرشمہ ہی ہے کے محبت کے بندھن میں خلقت کو باندھ دیا ہے لیکن محبت کی آڑ میں مفادات نے ہمیشہ محبت کے بت ریزہ ریزہ کیے ہیں۔جب محبت کو کچھ دے نہیں سکتے تو محبت کو الزام کیوں دیتے ہیں۔؟محبت کا عنصر نہ ہوتا تو شاید کائنات کا حسن نہ ہوتا بلکہ کائنات کا وجود بھی نہ ہوتا۔محبت بھی کئی اقسام میں بٹ چکی ہے۔کچھ مفادات پر محبت کا لیبل لگا کر اسے بدنام بھی کیا جا رہا ہے۔محبت کے درجے ہیں جتنا اس میں جائیں گے ایک نیا پرت کھل جائے گا۔آخر زندگی نے ختم بھی تو ہونا ہے۔چاہے محبت کا روگ ہو یا عذاب محبت۔محبت عبادت ہے تو اسے گناہ کیوں سمجھا جاتا ہے۔؟محبت کرنے والے سماج کے زیر عتاب کیوں آتے ہیں۔محبت قربان ہوتی آئی ہے۔کیا محبت بھی قربانی مانگتی ہے۔؟
سردی کی راتیں ہیں۔تنہائی کا سانپ پھن پھیلائے ڈسنے کو بے تاب ہے۔دل ضدی بچے کی طرح چیخ رہا ہے۔رو رہا ہے۔میرا دل بھی عجیب ہے۔رب تعالیٰ نے کتنی نرم مٹی سے اس کا وجود بنا دیا ہے۔ذرا سی ٹھیس برداشت نہیں کر سکتا۔خو د کو صدمے سہتا ہی ہے لیکن ساتھ آنکھوں کو بھی عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے۔نمکین سمندر طوفان کی صورت ہر سو سیلاب کا منظر پیش کرنے لگتا ہے۔لیکن میں سوچتا ہوں اس میں میرے وجود کا قصور کیا ہے۔مجھے خواہ مخواہ کیوں تڑپایا جا رہا ہے۔میں جس کے ساتھ بھلائی کرتا ہوں وہی مجھے ایک نئے زخم میں مبتلا کر دیتا ہے۔میں جس کے آنسو پونچھتا ہوں یاپونچھنے کی کوشش کرتا ہوں وہی مجھے آنسوؤں کی سوغات دے کرمیری زندگی سے چلا جاتا ہے۔میں کس سے محبت کروں۔میری اُلجھنیں روز بروز بڑھتی چلی جاتی ہیں۔جس سے ہنس کر بات کرتا ہوں وہی میری مسکراہٹ کا فائدہ اٹھا کر میرے اندر کے انسان کو طوفان کی گرداب میں پھنسا دیتا ہے۔میں ریت کے ذروں کی طرح اڑتا پھرتا ہوں۔زمانے کی بے دردہوا نے مجھے بکھیر دیا ہے۔میرا وجود محبت کی سزا میں ریزہ ریزہ ہو رہا ہے۔
میں تومحبت کے حساس سے پور پور لبریز ہوں۔محبت سے کائنات کے ہر ذرے،ہر بشر کو فیض یاب ہوتا دیکھنا چاہتا ہوں۔میں دوسروں کی آنکھوں میں آنسونہیں دیکھ سکتا ہے۔لیکن یہی دوسرے میری آنکھوں کو آنسوؤں کے سیلاب میں ڈوبو دیتے ہیں۔میں گھنٹوں بیٹھا روتا ہوں۔کہتے ہیں مرد روتے ہوئے اچھے نہیں لگتے۔میں پوچھتا ہوں کیا مرد کے سینے میں دل نہیں ہے۔مرد صرف مشین ہے جو صبح سویرے گھر سے رزق کی تلاش میں نکلتا ہے اور دن بھر کتنے صدمات سہتا ہے،کتنی کڑوی کُسیلی سنتا ہے۔گھر لوٹتا ہے تو صرف اس لیے کے اس کے ساتھ جڑے رشتوں کے چہروں پر مسکراہٹ دیکھ سکے۔اس کی آنکھوں میں ہزاروں خواب ہوتے ہیں۔اس کی آنکھیں بھی سپنے دیکھتی ہیں اپنے لیے نہیں اپنے سے جڑی زندگیوں کے لیے۔
مرد کو ہمیشہ ظالم لکھا گیا ہے،ظالم مانا گیا ہے،معاشرے کے بگاڑ کا قصور وار بنایا گیا ہے۔مرد آخر ایک بھائی ہے،ایک باپ ہے،ایک شوہر ہے۔وہ بھی چاہتا ہے اس کی زندگی میں خوشیاں ہوں۔اس کے اپنے بھی سپنے ہوتے ہیں۔وہ بھی دو بول محبت کے لیے قربان ہونا چاہتا ہے۔اس کی اپنی بھی خواہشات ہوتی ہیں۔
میں اپنے دل کا لہو کس کی ہتھیلی پر تلاش کروں۔میں صبح سے شام مشین کی طرح کام کرتا ہوں۔اپنے لیے نہیں اپنے ساتھ جڑی زندگیوں کے لیے۔لیکن یہی زندگیاں مجھے بہت تکلیف دیتی ہیں۔کبھی لفظوں کے تیر میرا سینہ چاک کرتے جاتے ہیں۔کبھی لہجے میرے اندرکے بت کو ریزہ ریزہ کر دیتے ہیں۔میرا وجود دن بدن ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر ختم ہو تا جاتا ہے۔لیکن محبت کے دوبول سننے کے لیے میرے کان ترس گئے ہیں۔میری آنکھیں حسین سپنوں کے لیے کب کی بے تاب ہیں۔دل لڈیاں ڈالنے کا منتظر ہے لیکن۔۔۔۔
میں انسان ہوں،محبت کا حق رکھتا ہوں۔محبت دیتا ہوں اور محبت چاہتا بھی ہوں۔کیا مقدر اور تقدیر کی کشمکش میں،میں کھلونا بن رہا ہوں۔میرے نصیب کی لکیریں،میرے ہاتھوں سے کیوں کھرچی جا رہی ہیں۔میرے دل کو مٹھی میں قید کرکے کیوں بھینچا جا رہا ہے۔جب تک زندگی ہے،مجھے بھی حسین بہاروں میں سانس لینے کا حق ہے۔پھر یہ حق مجھے کیوں نہیں دیا جاتا ہے۔
انسان نے کہاں سے سیکھ لیا ہے کہ جو محبت کرے اس سے نفرت کی جائے۔جو سہارا بنے اُسے بے سہارا کیا جائے۔جو در کھولے اس کے لیے در بند کر دئیے جائیں۔اس کی راہوں میں کانٹے بچھائے جائیں۔لمحہ بہ لمحہ اسے تکلیفیں،اذیتیں دی جائیں تاکہ وہ دل برداشتہ ہو کر زندگی کو الوداع کہہ دے۔ہم اپنے لیے جو پسند کرتے ہیں وہ دوسروں کے لیے کیوں نہیں؟یہ تضاد کیوں ہے۔کوئی بتلائے گا۔
میں نے کتابیں پڑھی ہیں۔میں نے چہرے پڑھے ہیں۔مفادات کی جنگ چھڑی ہے۔خلوص،پیار،محبت،سچے جذبے ناپید ہوگئے ہیں یا ہو رہے ہیں۔ظاہر کچھ ہیں،باطن کچھ ہیں۔وعدے کیے جاتے ہیں،نبھائے نہیں جاتے۔مشورے دئیے جاتے ہیں منزل تک کوئی نہیں پہنچاتا۔دلوں کے ساتھ کھیلواڑ کیا جاتا ہے۔مرد ہو یا عورت دونوں ہی ایک دوسرے کے ڈسے ہوئے ہیں۔ایک دوسرے کے لیے راحت کیوں نہیں بن سکتے۔
قصہ مختصر میں آدمیوں کی بستی میں انسان ڈھونڈتا ہوں۔ہے کوئی جو انسانیت سے پیار کرے۔مجھے ایک انسان کی ضرورت ہے۔ایک ایسے ہم سفر کی تلاش ہے جو صرف انسانیت کا قائل ہو۔دل کا دلدار ہو،آنکھوں میں پیار ہو۔محبت سے لبریز ہو۔
دل کا ہر اک داغ ہے برقِ تجلّی کا حریف
کس کو پنہاں رکھیئے،کس کس کو نمایاں کیجئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*