بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> ہم ابھی راہ گُزر میں ہیں

ہم ابھی راہ گُزر میں ہیں

ہم ابھی راہ گُزر میں ہیں
تبصرہ نگار:مجیداحمد جائی
ضروری ہے اگر سانس لینا تو اِسی قدر لے
کہ جئیے بھی جائے اور کسی کو پتہ بھی نہ چلے
اِس شعر کے اندر کتنا کرب اور درد ہے۔درد کا ایک جہاں اس میں پنہاں ہے۔یہ شعر ”ہم ابھی راہ گزر میں ہیں“کتاب سے لیا گیا ہے جس کی مصنفہ محترمہ شمیم عارف صاحبہ ہیں۔شمیم عارف ایم۔اے اسلامیات ہیں۔آپ ٹیچر رہ چکی ہیں اورآج کل بیمار رہتی ہیں۔اس وجہ سے وقت سے پہلے ہی ریٹا ئر منٹ لے لیا۔آج کل گھر میں رہتی ہیں اور صفحہ قرطاس سے جی بہلاتی ہیں۔(اللہ تعالیٰ انہیں صحت کاملہ عطافرمائے آمین!)
”ہم ابھی راہ گُزر میں ہیں“کتاب گزشتہ 22سال کے عرصہ کا نچوڑ ہے جس کو شمیم عارف نے نہایت سلاست اور عمدگی سے نثری نظموں میں پروکر سامنے لائی ہیں۔اس سے پہلے شمیم عارف صاحبہ سفر حج باعنوان ”عشق کی نگری“لکھ چکی ہیں۔”ہم ابھی راہ گزر میں ہیں“ ان کی دوسری کتاب ہے اور شاعری کی پہلی کتا ب۔
کتاب کا سرورق بہت عمدہ اور دیدہ زیب ہے۔بیک فلاپ پر پروفیسر عمران میر مدیر اعلی سہ ماہی ”بور“کے خیالات شائع کیے گئے ہیں۔آپ لکھتے ہیں شمیم عارف کی تخلیق کردہ نظمیں تجریدی ہنر اور علامتی مکاشفوں سے بے نیاز حقیقی جذبوں کی عکاسی کرنے والی سادہ دل آویز نظمیں ہیں۔ اندرونی فلاپ پر سید نسیم بخاری لکھتے ہیں شمیم عارف کی نظموں کے مجموعہ پر بات کی جائے تو محترمہ نے بڑی محنت ومہارت اور ریاضیت سے تشکیل دیا ہے۔
عمر کی چادر کھینچ کر اُتار دیتے ہیں
یہ کم بخت دوست کبھی بوڑھا نہیں ہونے دیتے
مختار واثق لکھتے ہیں ”ہم ابھی راہ گُزرمیں ہیں“میں جدائی،رعنائی،تنہائی،ہجر ووصال کی کیفیات او رسماجی مسائل کو نظم کا موضوع بنایا گیاہے۔جذبات اور احساسات کی شدت ان کی نظموں کا خصوصی رنگ ہے۔یہ کتاب پاکستان ادب پبلشرز کے روح رواں محترم جناب سمیع اللہ خان نے شائع کی ہے اور محبت کے ساتھ مجھے ارسال کی ہے۔
جسم چاہے سر تا پا زنجیر ہو
روح کو نہ اپنی کبھی صیاد کریں
”ہم ابھی راہ گُزر میں ہیں“کا انتساب صائمہ قمر صاحبہ اور ان کے ہم سفر کی محبتوں کی نذر کیا گیا ہے۔اس کی پہلی اشاعت جولائی 2019ء میں ہوئی ہے اور اس کی قیمت 300روپے ہے۔
ہم کو کیا سناتے ہو وصل کے قصے دوستو
ہم تو وہ ہیں جو سایہ ء ہجر میں پلے
کائنات بشیر نے شمیم عارف کو دل گزار جذبوں کی شاعرہ کہا ہے۔آپ لکھتی ہیں مجھے اس کتاب میں نظم اور غزل دونوں کی چاشنی محسوس ہوتی ہے۔منفرد دل کش خیال قاری کو کچھ پل کے لیے روک کر اپنی تخلیق کا احساس دلاتے ہیں۔راہ گزر کوئی بھی ہو سکتی ہے۔دُنیا کی اوررب ذوالجلال کریم کی طرف لولگانے کی۔
لکھنے والے کا قلب و ذہن کئی محبتوں کی آماہ جگاہ ہے جس خوبصورتی سے آمد کو صفحہ قرطاس پر منتقل کیا گیا ہے وہ قاری کو موہ لے لیتا ہے۔
کس کی تقدیر میں کیا لکھا ہے،نہیں معلوم
اُمید ہی پہنچاتی ہے اِنسان کو منزل تک
شمیم عارف ”ہم ابھی راہ گزر میں ہیں“میں اُمید کی شاعری کرتی نظر آتی ہیں۔اُمید،جستجو،لگن اور منزل کی طرف گامزن کرتی ہیں۔شمیم عارف کی شاعری میں اُداسی،مایوسی کی باتیں قدرے کم ملتی ہیں۔تسنیم جعفری،شمیم عارف کا تعارف کرواتے ہوئے کئی باتوں سے پردہ اٹھاتی نظر آتی ہیں۔شمیم عارف نے زندگی سے جس طرح جنگ لڑی ہے وہ یہاں عیاں ہو جاتا ہے۔شمیم عارف کو شاعری کی طرف موڑنے والی تسنیم جعفری ہی ہیں۔
اِک کرن بھی بہت ہے اَندھیری رات کے لیے
اِک تنکا بھی پہنچا دیتا ہے ڈوبتے کو کنارے تک
”ہم ابھی راہ گزر میں ہیں“حمد باری تعالی،دُعا،اللہ ہُو کے بعد نثری نظمیں شروع ہو جاتی ہیں۔اس کتاب میں ”نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم“نہیں ہے۔اس کتاب میں نعت شریف شامل نہیں ہے ورنہ جتنی بھی شاعری کی کتابیں دیکھی یا پڑھی ہیں ان میں حمد باری تعالیٰ کے ساتھ نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ضرورشامل دیکھی ہے۔
غم مٹانے کو بھی لوگ کرتے ہیں کیا کیا جتن
دواء سمجھ کر پی رہے ہیں جس کو وہ تو شراب ہے
”ہم ابھی راہ گُزر میں ہیں“پنتالیس نثری نظمیں،چار قطعہ اور دو اشعار شامل ہیں۔پانچ شخصیات نے اس پہ رائے کا اظہار کیا ہے جن میں دو شخصیات کے اندرونی صفحات پر،دو اندرونی فلاپ پر اور ایک شخصیت کی رائے بیک فلاپ پر شائع کی گئی ہے۔120صفحات کی بہترین کتاب ہے۔میری طرح آپ کو بھی پسند آئے گی۔اس کتاب میں شامل نظم ”سورج مکھی“میں جس جذبے اور ہمت کی باتیں کی گئیں ہیں،کمال ہیں۔”ہم ابھی راہ گزر میں ہیں“میں سے چند اشعار ملاحظہ ہوں:
یہ راحت یہ خوشی میرا مقدر کر دے
رہے پتوں کے جیسا دوستوں کا مقدرکر دے
سورج مکھی کے حوالے سے:
جو سورج کی شدت میں بھی اپنا حوصلہ بلند رکھتا ہے
جو سخت گرمی میں بھی پھول ہونے کا پتہ دیتا ہے
محبت کے حوالے سے دیکھیں:
خدا سے ہو یا اُس کے بندوں سے ہو
بالآخر محبت لاتی ہے
”ہم ابھی راہ گزر میں ہیں“کی اشاعت پر شمیم عارف کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کے اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے صحت و کاملہ سے نوازے آمین!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*