مینو فیکچرنگ سیکٹر میں 27 ملین افراد کے بیروزگار ہونے کا خدشہ

اسلام آباد / کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان میں بڑے پیمانے پر مینو فیکچرنگ سیکٹر میں 27 ملین افراد کے بیروزگار ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ،تفصیلات کے مطابق پاکستان میں زرعی شعبے کے علاوہ مینو فیکچرنگ سیکٹر میں 7.78 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی ہے جبکہ دوا سازی کے شعبے میں بھی 5.38 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے ،جس سے پاکستان کی افرادی قوت کا ایک بڑا حصہ دبا میں ہے۔

پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق ، جن شعبوں میں کمی واقع ہوئی ہے ان میں ٹیکسٹائل (2.57 فیصد)، فوڈ ، بیوریج اور تمباکو (2.33 فیصد) ، کوک اور پٹرولیم مصنوعات (17.46 فیصد)، دواسازی (5.38 فیصد) ، کیمیکلز (2.30 فیصد) ، آٹوموبائل میں اس میں سب سے بڑی کمی دیکھی گئی۔ (36.50 فیصد) ، آئرن اینڈ اسٹیل مصنوعات (7.96 فیصد) ، الیکٹرانکس (13.54 فیصد) ، انجینئرنگ پروڈکٹ (7.05 فیصد) اور ووڈ پروڈکٹ (22.11 فیصد) شامل ہیں۔

واضح رہے کہ ان شعبوں کی صنعتیں بڑے پیمانے پر روزگار کا ملک میں اہم ذریعہ ہیں اور مختلف صورتوں میں ملازمت کا تخمینہ تقریباً 27 ملین کے لگ بھگ ہے ، جس میں صرف خوراک ، دواسازی اور کچھ خدمات ایسی ہیں جن کے ملازمین کو روزگار کا شدید دباو  ہے۔

ملک کو بیروزگاری کے خطرات اور اس کے اثرات سے بچانے کیلیے حکومت کو ملک کی دوا ساز صنعت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے جبکہ قومی معیشت میں بھی اس طرح ایک بہت بڑے پیمانے پر بہتری واقع ہوگی۔انھوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی اداروں کے مطابق یہ صنعت آبھرتی ہوئی صنعتوں میں شامل ہے اور ادویہ ساز شعبہ میں صلاحیت ہے کہ وہ قومی معیشت کو بحران سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کرسکے۔