موبائل فون اور انٹرنیٹ۔۔۔ نوجوان کیا کررہے ہیں؟

موبائل فون اور انٹرنیٹ۔۔۔ نوجوان کیا کررہے ہیں؟
شفاعت علی مرزا
پرانے وقتوں کے لوگ بہت سادہ ہوا کرتے تھے اور لوگ آپس میں بہت پیار، محبت، اتفاق اور امن و چین سے رہا کرتے تھے۔ لوگ ایک دوسرے کی خوشی اور غمی میں شریک ہوتے اورایک دوسرے کی مدد کرنا اپنا اولین فرض سمجھتے تھے۔ اگر کسی کو کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تو تمام لوگ مل بیٹھ کے اپنا مسئلہ سمجھتے ہوئے اس مسئلے کو حل کرتے تھے۔ ایک دوسرے کی عزت کرنا، ایک دوسرے کا احساس کرنا ، یہاں تک کہ ایک دوسرے کے لیے جان کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کیا کرتے تھے۔چھوٹے بڑوں کا احترام اور بڑے چھوٹوں سے پیار کرتے تھے۔ ۔ یہ زندگی پرسکون ہوا کرتی تھی۔وقت گزرتاگیا اور سائنس ترقی کرتی گئی۔ سائنس کی ترقی نے انسان کو زمین سے آسمان پر پہنچا دیا ہے۔لوگوں میں حائل فاصلہ کم ہوتا گیا اور لوگ ایک دوسرے کے قریب ہوتے گئے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی بدولت دنوں کا کام گھنٹوں میں اور گھنٹوں کا کام منٹوں میںممکن ہوا۔اس سے قبل لوگ دنوں اور مہینوں بھر سفر کرنے کے بعد منزل کو پہنچتے تھے پرسائنس نے راستے بھی آسان بنا دیئے اور فاصلے بھی قلیل ہو گئے ہیں۔ سائنس نے ہماری زندگی میں بہت سی آسائشیں پیدا کی ہیں ۔ سائنس کی عظیم ایجادات میں کمپیوٹر، انٹرنیٹ، موبائل اور ہوائی جہاز وغیرہ شامل ہیں۔ اس بات میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں کہ دنیا کی بیشتر آبادی موبائل فونز اور انٹرنیٹ کی سہولت سے واقف ہے۔میڈیکل، انجینئرنگ، صنعت، زراعت اور دیگر کئی شعبوں میں سائنس و ٹیکنالوجی نے کافی ترقی کی ہے اور ہرشعبے میں انسان کےلئے کافی آسانیاں پیدا کر دی ہیں۔یہ سائنس، ٹیکنالوجی، انٹر نیٹ اور ترقی یافتہ صنعت ہی کی وجہ سے ہے کہ انسان کمپیوٹر پر بیٹھا دنیا کے حالات و واقعات سے اگاہ رہتا ہے۔
سائنس جہاں انٹرنیٹ، کمپیوٹر اور موبائل ٹیکنالوجی کی صورت میں انسان کے لیے کافی سود مند ثابت ہوئی ہے وہاں اس قسم کی ایجادات کے غلط استعمال کی وجہ سے بہت زیادہ نقصان بھی ہو رہا ہے۔جہاں سائنس نے لوگوں کا آپس میں رابطہ بڑھا دیا ہے وہاں لوگوں میںصدیوں کے فاصلے بھی پیدا کر دیئے ہیں۔ ہماری نوجوان نسل سائنس کی ان ایجادات کے غلط استعمال کی وجہ سے زیادہ متاثر ہورہی ہے۔ٹین ایج میں اکثر نوجوان موبائل فون اور انٹرنیٹ کا غلط استعمال کر کے اپنی ذات کے علاوہ اپنے خاندان کی عزت و آبرو کو بھی کافی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ موبائل فون اور انٹر نیٹ کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں کئی قسم کی ایسی چیزیںپیدا ہو گئی ہیں جن کی وجہ سے ہمیں صرف نقصان ہی ہو رہا ہے۔ موبائل فون اور انٹر نیٹ ٹیکنالوجی کی وجہ سے بہت سے پوشیدہ اور ظاہری نقصانات ایسے ہیں جن سے کسی نہ کسی طرح ہمیں صرف نقصان ہی اٹھانا پڑھ رہا ہے۔
نہ سمجھ نوجوان اکثر موبائل فونز اور انٹرنیٹ کا غلط استعمال کرکے ایسے جرائم کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیںکہ اس غلط کاری کی انہیں عمر بھر سزا بھگتنی پڑتی ہے۔ ان جرائم میں بعض دفعہ دہشت گردی اور قتل و غارت جیسے عناصر عام ہیں۔ کچھ نوجوان موبائل اور انٹر نیٹ کے غلط استعمال کی وجہ سے اپنی اور اپنے خاندان کی ساکھ کو بھی کافی نقصان پہنچاتے ہیں۔ نوجوان کوئی ایسی حرکت کر بیٹھتے ہیں جس کی وجہ سے پچھتاوا عمر بھر ان کا نصیب بن جاتا ہے۔ آجکل انٹرنیٹ پرسوشل میڈیا میں فیس بک اور ٹویٹر وغیرہ کااستعمال عام ہے۔ اس طرح کی ویب سائٹس بنائی تو اس لیے گئیں تھیں کی ان کی مدد سے آسانی سے دنیا کے حالات و واقعات سے با خبر رہا جا سکے مگرہماری نوجوان نسل نے اپنے پیروں پہ آپ کلہاڑی مارنے کے مترادف ان سوشل ویب سائٹس کو بھی غلط کاریوں کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
آج ہماری نوجوان نسل موبائل فونز اور انٹرنیٹ میں اس قدر گم ہو چکی ہے کہ ان کو اپنے اردگرد ماحول میںمیں ہونے والی کسی بات کا علم نہیں ہوتا یہاں تک کہ اپنے خاندان میں خوشی اور غمی کی باتوں سے لاعلم رہتے ہیں۔ نوجوانوں میں موبائل فونز اور انٹرنیٹ کا بے دریغ استعمال کرنے سے ان میں اخلاقی بحران پیدا ہو گیا ہے۔بے حیائی عام ہوتی جا رہی ہے ۔چھوٹے بڑوں کی عزت نہیں کرتے اور بڑے بھی چھوٹوں سے محبت اور پیار کرنا بھولے بیٹھے ہیں۔اگر کہا جائے کہ چھوٹے اور بڑوں میں تمیز ہی ختم ہو گئی ہے تو غلط نہ ہوگا۔ اگر کوئی بزرگ کسی نوجوان کو کسی بات سے روکے یا کوئی نصیحت کرے تو اکثر نوجوان بجائے سمجھنے کے الٹی باتیں بنا کر نصیحت کرنے والے کا منہ بند کروادیتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے نوجوان اپنی پہچان بھول گیا ہو۔۔۔ باپ اپنی اولاد کو اس ڈر سے بھی بُرے کاموں سے نہیں روک سکتا کہ کہیں اس کے بچے اسی کے خلاف بغاوت ہی نہ شروع کردیں۔ہرکام عجیب سے عجیب ہوتا جا رہا ہے۔اور نوجوان اپنی اپنی مستی اور عیاشی میں مگن ہیں۔ دنیا اور آخرت کا فکر بالکل بھی ذہن میں نہیں ہے۔ نوجوان کانوں میںچوبیس گھنٹے ہینڈز فری لگائے، ماں باپ کی باتوں کو اہمیت نہ دیتے ہوئے موبائل میں موسیقی سنتے رہتے ہیں۔اور اس چیز کی بالکل خبر نہیں ہوتی کہ آنے والا وقت ان کے لئے کتنا بھیانک ہو سکتا ہے؟ قارئین کو ایک وقعہ مختصر بتاتا چلوں، جس کی وجہ سے میں اس موضوع پر اپنا اظہار خیال کر رہاہوں۔ کچھ عرصہ قبل مجھے سیالکوٹ جانے کا اتفاق ہوا۔ واپس آتے ہوئے میری آنکھوں کے سامنے ہی ایک کار کی ایک موٹر سائیکل سے زبردست قسم کی ٹکر ہوئی ۔موٹر سائیکل پر دونوجوان سوار تھے جو بُری طرح زخمی ہوگئے۔ ان میں سے ایک نوجوان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گیا۔جلدی میںمَیں ایک دوست کے ساتھ ازراہ ہمدردی نیچے اترا۔ ہمارے علاوہ اور بھی لوگ جائے حادثہ پر جمع ہو گئے اور رش بھی کافی ہو گیا تھا۔ جب ہم نے دیکھا تو مرنے والے نو جوان لڑکے کے کانوں میں ہینڈ فری لگے ہوئے تھے، اور انتہائی افسوس ہوا کہ جب اس ہینڈفری کو اتارا گیا تو اس میں گانے لگے ہوئے تھے(اللہ ہم سب کو معاف فرمائے)۔ میرا ذہن ابھی بھی اس واقعہ کو لے کر بہت پریشان ہے۔ سوچتا ہوں کہ جس حالت میں اس لڑکے کی موت واقع ہوئی ہے وہ کس حال میں قبر میں اٹھایا جائے گا؟ فرشتوں کو کیا جواب دے گا؟
محترم قارئین!میں تعلیم کے شعبہ سے وابسطہ ہوں اورآج کا نوجوان کس حد تک بدتمیز ہے اس بات کا مجھے باخوبی علم ہے ۔ اگر یہ معاملات اسی طرح چلتے رہے تو قوم کے معمار بجائے قوم بنانے کے قوم کو توڑ دیں گے اور انگریزوں کی ناپاک سازش کو کامیاب بنا دیں گے۔ خدارا نوجوانوں کو اس کام سے بچائیں جس سے ان کا ایمان اور اخلاق ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اللہ پاک ہمیں اور ہماری نوجوان نسل کو راہ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین