بنیادی صفحہ -> اہم خبریں -> 26 ویں آئینی ترمیمی بل بحث کے لیے قومی اسمبلی میں پیش
آئینی ترمیمی بل

26 ویں آئینی ترمیمی بل بحث کے لیے قومی اسمبلی میں پیش

لاہور(ویب ڈیسک): قبائلی اضلاع میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں بڑھانے کے حوالے سے 26 ویں آئینی ترمیمی بل بحث کیلئے ایوان زیریں میں پیش کر دیا گیا۔قومی اسمبلی میں آئینی ترمیمی بل فاٹا کے رکن محسن داوڑ نے پیش کیا۔ آئینی ترمیمی بل پر بحث کا آغاز مسلم لیگ ن کے خواجہ آصف نے کیا۔ لیگی رہنما نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا پرائیویٹ ممبر ڈے پر آئینی بل میں ترمیم خوش آئند ہے، معاملے پر پورا ایوان متفق ہے، قبائلی علاقہ 4 دہائیوں سے بدامنی کا شکار رہا، ہمارے خوبصورت شہر دہشتگردوں کی آماجگاہ بن گئے، ہماری روس کے ساتھ کوئی جنگ نہیں تھی۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا سپر پاور کی غلامی ہماری تاریخ کا دکھ بھرا باب ہے، ہماری سویت یونین کے ساتھ کوئی جنگ نہیں تھی، امریکا افغانستان میں شکست کھا چکا، بھاگنے کا راستہ ڈھونڈ رہا ہے۔ انہوں نے کہا فاٹا میں امن کی واپسی تک خاص توجہ کی ضرورت ہے، آج یہ ایوان نئی تاریخ رقم کر رہا ہے، ان علاقوں میں بارات اور جنازوں پر ڈرون حملے ہوئے، ہم اپنے مفادات کیلئے آزادی کا سودا کر لیتے ہیں، ریاست ماں ہوتی ہے جو زخموں پر مرہم رکھتی ہے۔
وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ فاٹا جسے علاقہ غیر کہتے تھے آج ہم نے اسے اپنالیا، ہمارے اپنے لوگ فاٹا کو علاقہ غیر کہتے تھے، کاش یہ بات 70 سال پہلے کسی کو سمجھ آجاتی، 70 سال بعد ایسا موقع آیا کہ فاٹا کے لوگ خیبرپختونخوا میں ضم ہوچکے۔ انہوں نے کہا ایف سی آر قانون کے تحت انسان کو انسان نہیں سمجھا جاتا تھا، مجھے خوشی ہے آج ساری پارٹیاں متفق ہیں، فاٹا میں تعلیم عام اور ترقی آئے گی۔ پرویز خٹک کا کہنا تھا فاٹا میں تمام وسائل موجود مگر وہاں تک رسائی نہیں تھی، فاٹا کے عوام نے ہماری سیکیورٹی کے فرائض سرانجام دیئے، یوسف گیلانی کے دور میں بھی فاٹا انضمام کوٹال دیا گیا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*