بنیادی صفحہ -> علاقائی کی خبریں -> مولانا سمیع الحق کے قاتل سرحد پار سے آئے، اہم انکشافات سامنے آنے لگے
قتل

مولانا سمیع الحق کے قاتل سرحد پار سے آئے، اہم انکشافات سامنے آنے لگے

لاہور (تجزیہ نگار) جمعیت علمائے پاکستان (س) کے سربراہ کا قتل ایک ایسا معمہ بن گیا ہے جس کا حل آسان دکھائی نہیں دے رہا کیونکہ اس میں بیرونی قوتوں کے شامل ہونے کے واضح اشارے مل رہے ہیں۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک بڑا مذہبی لیڈر جس کے لاکھوں مداح ہوں اسے علالت کی حالت میں گھر اکےلا چھوڑ دیا جائے گھر میں کوئی بھی نہ ہو حتیٰ کہ سکیورٹی گارڈ اور ڈرائیور کو بھی باہر سودا سلف لانے باہر بھجوادیا گیا ہو۔ مزید برآں وہ جو مشکوک افراد روزانہ مہمان بنکر مولانا کے پاس آیا کرتے تھے ان کے بارے میں پوچھ گچھ کیوں نہ کی گئی کہ جس دن انہیں موقع ملا وہ مولانا کو بیدردی سے قتل کرکے چلے گئے۔ جمعیت علماءاسلام (س) نے الزام لگایا ہے کہ ان کے قائد مولانا سمیع الحق کے قتل میں بیرونی عناصر ملوث ہیں۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق جے یو آئی (س) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مولانا سمیع الحق کے اہل خانہ، دارالعلوم حقانیہ، ان کی جماعت اور ان کے ہزاروں ماننے والوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ مولانا کا قتل اندرونی معاملہ نہیں بلکہ اس میں بھارتی، افغان اور دیگر عناصر ملوث ہیں۔ خیال رہے کہ 2 نومبر کی شام کو راولپنڈی میں نامعلوم افراد نے مولانا سمیع الحق کو ان کے گھر میں گھس کر قتل کردیا تھا۔ پارٹی کے جاری بیان میں کہا گیا کہ کچھ عناصر اپنی نااہلی چھپانے کے لیے مولانا سمیع الحق کے قتل سے متعلق مختلف متنازع بیانات جاری کر رہے ہیں اور اس قتل کو خاندانی تنازع یا فرقہ وارانہ مسئلہ قرار دے رہے ہیں۔ جے یو آئی کے مطابق کہ مولانا سمیع الحق نے ہمیشہ طالبان اور دیگر گروپوں سمیت افغان حکومت کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، لہٰذا سیکیورٹی ایجنسیوں سے اپیل ہے کہ وہ مولانا کے اصل قاتلوں کو گرفتار کرکے اور انہیں قرار واقعی سزا دیں۔ بیان میں کہا گیا افغان حکومت کے ایک وفد نے اکتوبر میں مولانا سمیع الحق سے درخواست کی تھی کہ وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں کردار ادا کریں، تاہم جب وہ مولانا کو قائل کرنے میں ناکام رہے تو انہوں نے دارالعلوم حقانیہ کے خلاف پروپیگنڈا شروع کردیا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا کی موت پر جہاں ایک جانب پوری امت مسلمہ افسوس کا اظہار کر رہی ہے تو وہی افغان میڈیا مولانا کی شخصیت کو خراب کرنے کی کوشش کر رہا۔ بیان کے مطابق نظریاتی اور سیاسی اختلافات کے باوجود تمام فرقوں اور گروہوں کے ساتھ مولانا سمیع الحق کے دوستانہ تعلقات تھے۔ دوسری جانب مولانا سمیع الحق کی موت کے بعد سیاسی جماعتوں کے رہنماو¿ں سمیت ہزاروں افراد کی دارالعلوم حقانیہ آمد اور اظہار تعزیت کا سلسلہ جاری ہے۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر، وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک، سینیٹر مشاہد حسین سید، قومی وطن پارٹی کے چیئرمین آفتاب احمد خان شیرپاو¿۔ عرفان صدیقی، جنرل (ر) احسان اللہ، سینیٹر حافظ حمد اللہ، مولانا احمد لدھیانوی، سکندر شیرپاو¿، الیاس بلور، عرب عالمگیر خان اور دیگر نامور شخصیات نے مولانا کے اہل خانہ سے اظہاری تعزیت کی۔ مولانا سمیع الحق کے لاکھوں عقیدت مند اور طالب علموں کا مطالبہ ہے کہ مولانا کے قاتلوں کو منظر عام پر لاکر نہ صرف کیفر کردار تک پہنچایا جائے بلکہ انہیں عبرت کا نشان بھی بنایا جائے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*