بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> حاصل پورمعصوم طالبہ کے ساتھ زیادتی

حاصل پورمعصوم طالبہ کے ساتھ زیادتی

حاصل پورمعصوم طالبہ کے ساتھ زیادتی
مبارک علی شمسی
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں گزشتہ ادوار میں خواتین کے ساتھ ظلم و زیادتی کی وارداتیں ہوتی رہی ہیں مگر پچھلے چند برسوں سے معصوم بچیوں اور بچوں کے ساتھ ظلم و زیادتی اور انہیں قتل کرنے کی وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ھوا ھے اور یہ اضافہ بتدریج بڑھتا چلا جا رھا ھے جس کی بنیادی وجہ اسلام سے دوری اور غربت و افلاس،بے روزگاری، ڈش وکیبل پر چلنے والے فحش پروگرامز، عریاں فلمیں اور انٹرنیٹ وغیرہ کا کھلے عام استعمال اور ملک میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت ھے جو کہ اس ملک کی اشرافیہ اور خصوص بالخصوص موجودہ حکومت پنجاب پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے لمحہ فکریہ ھے اور ھمارے لیئے باعث تشویش ھے کیونکہ صوبہ پنجاب اور خصوصاً جنوبی پنجاب میں وڈیرہ شاہی اور جاگیردارانہ نظام کی وجہ سے غریب اور سادہ لوح عوام انصاف سے یکسر محروم رہ جاتے ہیں اور ان مردہ ضمیر وڈیروں اور جاگیرداروں اور سیاستدانوں کی حکم عدولی کرنے اور ان کی خواہشات کا احترام نہ کرنے والے علاقہ مکین اور ان کے سیاسی حریف آہنی سلاخوں کے پیچھے ضرور جاتے ہیں کیونکہ ان کے خلاف جھوٹے اور من گھڑت مقدمات درج کروا دیئے جاتے ہیں کیونکہ تھانوں میں ایم این ایز اور ایم پی ایز کے منظور نظر انسپکٹرز تعینات ھوتے ہیں بیشتر جرائم پیشہ لوگ سیاسی اثرورسوخ اور پیسے کی چمک پر قانون کی گرفت سے آزاد ھو جاتے ہیں جبکہ جیل مفلس و نادار اور بے گناہ کوگوں کا مقدر بن جاتی ھے یوں امیر اور با اثر لوگ مجرم ھونے کے باوجود قانون کے حصار سے نکل جاتے ہیں اور بے گناہ سادہ لوح اشخاص دھر لیئے جاتے ہیں جس پر حکومتی مشینری سمیت انسانی حقوق کی علمبردار جماعتیں خاموش دکھائی دیتی ہیں۔
ابھی ماضی قریب ہی کی تو بات ھے کہ مشہور صوفی شاعر بابا بلھے شاہ رحمتہ اللہ علیہ کی دھرتی ضلع قصور میں ننھی زینب کا واقع رونما ھوا تھا جس پر حکومت ایکشن میں آئی اور ڈی پی او قصور کی سربراہی میں پولیس نے ملزم عمران علی کو گرفتار کر کے منطقی انجام تک پہنچایا تھا ننھی زینب امین کو اپنی درندگی کا نشانہ بنانے والے درندہ صفت ملزم کو اپنی آنکھوں کے سامنے پھانسی لگتا دیکھ کر زینب کے لواحقین کے کلیجوں پر وقتی طور پر ٹھنڈک ضرور پڑی مگر زینب کی جدائی کے زخم مندمل نہ ھو سکے اور نہ ہی ان کے دکھ کا مداوا ھوا والدین کی نظر جب بھی کسی معصوم بچی پر جا ٹکتی ھو گی تو انہیں اپنی معصوم کلی زنیب امین ضرور یاد آتی ھو گی اور پھر ان کی آنکھوں سے قطار در قطار آنسو نکلنا شروع ھو جاتے ھوں گے جن کو روکنا انسان کے بس میں نہیں، اس افسوسناک اور دلخراش واقعہ کے بعد لوگوں نے سکھ کا سانس لیا مگر کچھ ہی عرصہ بعد اسی قصور شہر کی تحصیل چونیاں میں انسانیت سوز واقعہ پیش آیا جب تین معصوم بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا تھا جن کی مسخ شدہ لاشیں بھی قریبی کھیتوں سے ملی تھیں اور بچوں پر ھونے والے تشددکی گواہی ان کی نعشوں پہ ظالموں کی جانب سے کیئے گئے ظلم کے نشانات دے رھے تھے جس پر میڈیا نے مداخلت کی اور پھر سے پولیس حرکت میں آئی اور ملزمان کو گرفتار کیا تھا اب ان کے خلاف مقدمات زیر سماعت ہیں جن ماؤں نے اپنے کانوں کی بالیاں بیچ کر پولیس کے کہنے پر بچوں کی گمشدگی کے اشتہارات بھی چھپوائے اور پولیس کو رشوت کی مد میں پیسے بھی دیئے اب دیکھنا یہ ھو گا کہ ان کو انصاف بھی مل پائے گا یا نہیں؟ یہ واقعات ایسے ہیں جن کی وجہ سے پوری انسانیت کے سر شرم سے جھکے ھوئے ہیں اور آنکھیں اشکبار ہیں بچے کسی بھی ملک و قوم کا مستقبل ھوتے ہیں مگر معزرت کے ساتھ مجھے یہ کہنا پڑ رھا ھے کہ پاکستان اپنے مستقبل کی عزت و آبرواور ان کے تحفظ کیلئے محفوظ ملک نہیں رھاہے۔
جس وقوعہ کی جانب میں آپ کی توجہ مبذول کرانا چاھتا ھوں یہ انسانیت سوز واقعہ جنوبی پنجاب کے ضلع بھاول پور کی تحصیل حاصل پور کے تھانہ قائم پور کی حدود (چاہ جنڈ والا) میں پیش آیا جو کہ تھانہ قائم پور سے تقریباً سات کلو میٹر مغرب کی جانب واقع ھے جہاں سات سالہ طالبہ شبانہ بی بی کو ایک درندہ صفت فاروق تھہیم نامی اوباش نے اپنی حوس کی پیاس بجھانے کیلئے زیادتی کا نشانہ بنایا اور حالت غیر ھونے پر اسے کھیت میں چھوڑ کر موقع سے فرار ھو گیاجس پر میڈیا نے آواز اٹھائی اور ریسکیو 1122  کی ٹیم نے بروقت موقع پر پہنچ کر متاثرہ بچی کو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال حاصل پور پہنچایا خبروں کی بریکنگ کے بعد انتظامیہ حرکت میں آئی اور تھانہ قائم پور کے انسپکٹر محی الدین گجر  نے ملزم کے خلاف مقدمہ نمبر395/19 بجرم376  ت پ تھانہ قائم پور درج کر کے ملزم کی گرفتاری کیلئے حوالدار اعجاز ڈھڈی کی سربراہی میں خصوصی ٹیم تشکیل دے دی جس  نے محض 48  گھنٹوں کے اندر ملزم کو حراست میں لے کر پولیس کا سر فخر سے بلند کر دیا اب ملزم بھاول پور کی سنٹرل جیل میں بند ھے جبکہ بچی بی وی ایچ ہسپتال  بھاول پور میں زیر علاج ھے جہاں پر ڈی پی او بھاول پور سرفراز خان ورک نے ایس پی سٹی بھاول پور اور ایس ایچ او تھانہ کینٹ کے ھمراہ بچی کی عیادت بھی کی ھے اور لواحقین کو ملاقات کے دوران انصاف کی یقین دھانی بھی کرائی ھے تاھم ملزم کو ریلیف دلوانے کیلئے اور مقدمہ خارج کروانے کیلئے سیاسی اثرورسوخ استعمال کیئے جانے کی اطلاعات بھی مل رہی ہیں۔
ملزم کو پولیس گرفتار کر کے بچی کے سامنے بھی لے آئی ھے فرض کریں اگر مقدمہ چلتا ھے شہادتیں لگتی ہیں ملزم پر فرد جرم عائد ھوتی ھے اور ملزم کو عدالت سزا سنا دیتی ھے تو کیا بچی اور اس کے لواحقین کو انصاف مل جائے گا یا والدین کی روح کو تسکین مل پائے گی ارے نہیں ایسا ہرگز نہیں ھو گا متاثرہ بچی جب بھی اس درندہ صفت شخص کو دیکھے گی تو دل ہی دل میں آنسو بہائے گی اور اپنی نظریں جھکا کر بھیگی پلکوں کے ساتھ خداوند عالم سے یہ سوال ضرور کرے گی کہ اے خدایا تیری دنیامیں ایسے لوگ کیوں   موجود ہیں جو معصوم بچیوں سے ان کی عزت وآ برو اور جیون چھین کر ان کی ہنستی بستی اور کھیلنے کودنے والی زندگی ویران کر دیتے ہیں اور پھر سیاسی اثرورسوخ اور دولت کے بل بوتے پر قانون کی گرفت سے آزاد ھو کر اپنا اگلا شکار ڈھونڈنے کی ٹوہ میں رہتے ہیں۔حکومت کو معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کرنے اور انہیں قتل کرنے والے ملزمان کیلئے سخت قانون سازی کرنی چاہیئے تاکہ پنجاب میں آئے روز بچوں کے ساتھ جنسی درندگی کے بڑھتے ھوئے واقعات میں کمی واقع ھو سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*