بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> سیاست کے شیخی خوراور غریب عوام

سیاست کے شیخی خوراور غریب عوام

سیاست کے شیخی خوراور غریب عوام
محمد اقبال عباسی
بادشاہ ِ وقت خواجہ بخارا ملّا نصر الدین کی جان کے درپے تھا لیکن خواجہ ایک چھلاوے کی طرح اپنی جگہ اور بہروپ بدل بدل کر امیر شہر کو دھوکہ دے رہا تھا، تنگ آ کر بادشاہ سلامت نے اپنی کابینہ کا اجلاس طلب کیا اور ملّا نصرالدین کو گرفتار کرنے کے لئے تمام وزراء و مشیران کی باری باری رائے پوچھنے لگا، ان میں سے انتہائی زیرک اور قابل وزیر اسلان بیگ کھڑا ہوا اور کہنے لگا "خدا ہمارے مہرِ تاباں بادشاہ کو ہر آفت سے محفوظ رکھے، ماضی میں جب خیوا کے بادشاہ نے ہمارے ملک بخارا پر چڑھائی کی تو میں نے بلا خون خرابہ کئے دشمن کو پیچھے دھکیل دیا۔ دراصل میں نے یہ حکم دے دیا کہ دشمن ملک خیوا کی سرحد سے لے کر ہمارے علاقے کے اندر تک تمام شہر اور گاؤں تباہ کر دیئے جائیں، تمام فصلیں، باغات، سڑکیں اور پل برباد کر دیئے جائیں۔ جب خیوا کی افواج ہماری علاقے میں د اخل ہوئیں اور انہوں نے تا حد نظر ریگستان دیکھا جہاں نہ تو باغات تھے اور نہ مکانات تو انہوں نے فیصلہ کیا:”ہم بخارا نہ جائیں گے کیونکہ وہاں نہ تو کچھ کھانے پینے کو ہو گا اور نہ لوٹ مار کے لئے”اس کار آمد حربے کے بعد میں نے حکم نافذ کر دیا کہ کسی بھی چیز کو بحال نہ کیا جائے تاکہ آئندہ دشمن ہمارے علاقے میں قدم رکھنے کا نہ سوچیں۔اس کے علاوہ بخارا میں ہزاروں جاسوسوں کو میں نے تربیت دی۔لیکن ملّا نصر الدین ایک چالاک اور عیار شخص ہے میرا دماغ اس کی گرفتاری کا کوئی منصوبہ سوچنے سے قاصر ہے اس لئے میری تجویز ہے کہ اس سلسلے میں حکماء و عقلاء سے مدد لی جائے۔” بادشاہ وقت نے چلا کر کہا "بند کر اپنی زبان، شیخی خور!تم اس قابل ہو کہ تمہیں شہر کی فصیل پر پھانسی دے دی جائے۔” آج جب میں نے وطن عزیز کے شیخی خور وزراء ا ور مشیران کرام کی زبانی 300روپے کلو بکنے والے ٹماٹر کا 17روپے کلو بھاؤ سنا تو مجھے ماضی کے وہی مشیر یاد آگئے جن کی نا اہلی کی وجہ سے اقوام عالم زوال کا شکار ہو کر نیست و نابود ہو گئیں اس کے ساتھ وزیر اعظم کی مشیر خاص جس کو اللہ تعالی نے اتنی عقل جلیلہ عطا کی ہے کہ وہ مٹر جو مارکیٹ میں 150 روپے کلو فروخت ہو رہا ہے فردوس عاشق اعوان صاحبہ کی اطلاع کے مطابق 5روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے، گوایسے بیانات ہمارے لئے مزاح کا سبب بنتے ہیں لیکن کیا ایسا تو نہیں کہ ایسے منصوبہ ساز ہمارے ملک پر مسلط ہو گئے ہیں جو ریاست بخارا کی طرح ہمارے ملک کو تباہ و برباد کرنے کے درپے ہیں تاکہ تباہی و بربادی دیکھ کر دشمن کو ہماری نظریاتی اور جغرافیا ئی سرحدوں کی طرف بڑھنے کی جرات نہ ہو سکے۔
قیام پاکستان سے لے کر آج تک، اگر غریب عوام کے حالات پر نظر دوڑائیں تو یہ اظہر من الشمس ہے کہ ہر دور میں غریب کی کمائی کو شاہ وقت نے اپنے آباء و اجداد کی جائیداد سمجھ کر لوٹا اور پر جوش نعروں اور سبز باغ کے خیالی پلاؤ سے عوام کی وہ خاطر تواضع کی جاتی ہے کہ عوام نہ صرف بلبلانے پر مجبور ہو جاتی ہے بلکہ یہ کام حکمرانوں کو بد دعاؤں سے ہوتا ہوا طعنے اور کوسنے دینے تک جا پہنچتا ہے۔ روٹی، کپڑا اور مکان جیسی سہولتوں کی منتظر عوام پرآئے روز نت نئے ٹیکس لگا کر ان کی جمع پونجی کو لوٹنا حکمرانوں کا ایک مشغلہ بن چکا ہے جس کے لئے ہر پرانا اور نیا شکاری نئے جال لانے کو تیار ملتا ہے۔ موجودہ مہنگائی اور ٹیکسوں کی بھر مار کو دیکھا جائے تو اوّلین سارا ملبہ سابقین پہ ڈال کر یوں مطمئن ہو جاتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں اورکپتان کے دفاع کے لئے پہلی صف میں موجود مہرے دانیال عزیز، رحمان ملک اورنہال ہاشمی کی پیروی کرتے ہوئے،شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بننے کے چکر میں عوام کو لطیفے سنا سنا کر ہنسانے کے کام پر معمور ہیں۔ مصنوعی مہنگائی کا جن حمزہ شہباز کے پولٹری اور ٹماٹر کے تماشوں سے شروع ہو کر آج اتنا قوی و توانا ہو گیا ہے کہ محکمہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق سالانہ بنیادوں پر صرف ماہ ستمبر میں افراط زر (مہنگائی) کی شرح 11.4 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔گزشتہ ماہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک سال میں شہری علاقوں میں جن خوردنی اشیا کی قیمتیں بڑھیں،ان میں چکن (40.75 فیصد)، ٹماٹر (37.47 فیصد)، پیاز (32.31 فیصد)، تازہ سبزیاں (12.84 فیصد)، انڈے (9.76 فیصد) شامل ہیں۔ شماریات ڈویژن کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سالانہ بنیاد پر سی این جی کی قیمتیں 25.3 فیصد بڑھیں جبکہ ایل پی جی سلینڈر13.4 اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 13.1 فیصد سے زائد مہنگا ہوا۔اس کے علاوہ ہری مرچ151فیصد اور لال مرچ27.6 فیصد مہنگی ہوئیں، دالوں کی قیمت22.7فیصد اور گوشت کی قیمتیں 13.8فیصد تک بڑھیں۔رپورٹ کے مطابق ٹماٹر کی قیمت میں ایک سال کے دوران315فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، ٹماٹر کی قیمت میں سابقہ ایک ماہ میں 18.8فیصد اور کیلے کی قیمت میں 15فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔
دیکھا جائے توگذشتہ چند ماہ میں تیزی سے بڑھتے ہوئے افراط ِزر سے نہ صرف پاکستانی عوام کے ہوش اڑ چکے ہیں بلکہ کنٹینر پہ کھڑے ہو کر جو بلند بانگ دعوے کئے گئے تھے وہ تبدیلی سرکار کے غبارے سے ہوا نکالنے میں کافی ممد و معاون ثابت ہوئے ہیں۔ مہنگائی کا بے قابو جن نہ صرف معیشت دانوں کے لئے سر درد بن چکا ہے بلکہ عوام کی معاشی چولیں ہل کر رہ گئی ہیں۔ صرف ایک سال میں پاکستانی روپے کی امریکی ڈالر کے مقابلے میں قیمت 23 فیصد گھٹ گئی ہے۔ جہاں عوام اس بحران شدیدتکلیف کا شکارہے،وہاں بین الاقوامی مالیاتی ادارے پاکستان کی معیشت کے اگلے دو سال مزید خوف ناک اور تکلیف دہ بتا رہے ہیں۔حال ہی میں ورلڈ بینک کی ’ساؤتھ ایشیا اکانومک فوکس – ایکسپورٹس وانٹڈ‘ نامی رپورٹ کے مطابق اس مالیاتی سال پاکستان میں مہنگائی 7.1 فیصد بڑھے گی اور اگلے سال تک 13.5 فیصد تک پہنچ جائے گی۔یاد رہے کہ آئی ایم ایف کے ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں افراط زر کی شرح 13 فیصد تک جاسکتی ہے تاہم حکومتی حلقوں نے اس کا اندازہ تقریباً 11 فیصد تک لگایا تھا جو پہلے ہی گزشتہ ماہ تجاوز کرچکی ہے۔
چور سپا ہی کا کھیل تو کھیلا ہی جا رہا ہے لیکن حزب اختلاف کا دھرنا نہ صرف عوامی بے چینی کو مہمیز کر رہا ہے بلکہ مہنگائی کا بے قابو جن اور بے لگاام ادارے جلتی پہ تیل کا کام کر رہے ہیں۔ پنجاب ہیلتھ کمیشن اینڈ فوڈ اتھارٹی تو غیر فعال ہے ہی مگر پرائس کنٹرول کمیٹیاں بھی بھنگ پی کر سوئی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے ہر تاجر شتر بے مہار کی طرح بے لگام ہے اور اپنی مرضی کی قیمت وصول کر رہا ہے۔ گو وزیر اعظم کا سٹیزن پورٹل بہت احسن اقدام ہے لیکن گزشتہ دنوں ایک محفل میں میرے ایک دانشور دوست نے بتایا کہ ہم نے مقامی سبزی فروش کی شکایت سٹیزن پورٹل پر کی کہ محترم دکاندار مہنگی سبزی کے ساتھ ساتھ گالی گلوچ سے بھی گاہکوں کی تواضع کر رہا ہے تو دوسرے دن ہمیں پیغام دیا گیا کہ دکاندار کو 800روپے سکہ رائج الوقت جرمانہ کر دیا گیا ہے حالانکہ حقیقت اس کے بر عکس تھی کہ افسران اعلیٰ موقع پر گئے ہی نہیں صرف جوابی پیغام دیا گیا کہ شکایت رفع کر دی گئی ہے۔ مجھ ناچیز کے خیال میں تحریک انصا ف کی ڈوبتی ناؤ کو ڈبونے میں اہم کردار بیورو کریسی کا ہے جو اپنی من مانیوں اور کرپشن کی گنگا میں ہاتھ دھونے میں مصروف ہے اور ان پہ کسی کا بس بھی نہیں چل رہا کیونکہ ہمارے کپتان تو اپنی بے بسی کا رونا کئی تقریروں میں رو چکے ہیں۔ میرے کچھ سوشل میڈیا کے احباب حکومتی کار کردگی کو مورد الزام ٹھہرانے کی بجائے ٹماٹر، لہسن، ادرک اور مہنگی اشیاء کے بائیکاٹ کا نادر مشورہ دے رہے ہیں جو کہ انتہائی نامناسب ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار ہم نے میڈیکل کے طلباء کے لئے مینڈک خریدنے تھے اور مینڈک پکڑ کر ہمیں فروخت کرنے والا بہت زیادہ ریٹ بتا رہا تھا، میں نے وجہ پوچھی تو مینڈک فروش کہنے لگاکہ جناب گھی کی قیمت تو دیکھیں؟، ایک دل جلے نے جگت مارتے ہوئے اسے کہا "کیا مینڈک گھی کھاتے ہیں؟ "مینڈک فروش نے فی البدیہہ جواب دیا کہ مینڈک گھی نہیں کھاتے لیکن میں تو کھاتا ہوں۔ اس لئے صرف یہ سوچا جائے کہ جس نے ٹماٹر کے کھیت لگائے ہوئے ہیں اس کو بھی تو بقیہ تمام اشیاء مہنگی ہی خریدنی پڑتی ہوں گی۔ قصہ مختصر اگر موجودہ حکومت بھی سابقہ حکومتوں کی طرح شیخی خور مشیران کے مشورے پر عمل کرتی رہی تو وہ دن دور نہیں جب ان کا بھی وہی حال ہو گا جو سابقہ بادشاہان ِ وقت کے ساتھ ہوا ہے۔ یاد رہے کہ تاریخ کسی کو بھی معاف نہیں کرتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*