بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> صوفیاء کرام کی تعلیمات پر عمل پیراہوکرہی ہم پاکستان کا وقار بلند کرسکتے ہیں

صوفیاء کرام کی تعلیمات پر عمل پیراہوکرہی ہم پاکستان کا وقار بلند کرسکتے ہیں

انجمن تاریخ و آثار شناسی پاکستان اور بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے زیر اہتمام گزشتہ روز عظیم صوفی بزرگ شیخ الاسلام حضرت بہاء الدین زکریا سہروریؒ کی یاد میں عالمی صوفی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا،جس میں صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی اوروزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی خصوصی خطابات کئے۔صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برصغیر کے صوفیا ء کرام نے خطے میں اسلام پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، ملتان کے معروف صوفی بہاء الدین زکریا نے بین المذاہب ہم آہنگی کا پرچار کیا اور اسلام کیلئے ان کی خدمات کو یاد رکھا جائے گا۔ حضر ت محمدؐ کا اسوہ حسنہ مسلمانوں کے لئے مشعل راہ ہے۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے صوفیائے کرام کی تعلیمات پھیلانے کی ضرورت پر زوردیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ صوفیا ئے کرام نے برصغیر میں اسلام کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے، دہشت گردی کی جنگ کے خاتمے کے لئے صوفی ازم کی تعلیمات پر عمل لازم ہے‘ برصغیر میں صوفیاء کرام کا دین کی سربلندی کے لئے اہم کردار ہے‘ بہاء الدین ذکریا یونیورسٹی کا شمار ملک کے بہترین اداروں میں ہوتا ہے۔ دین تو ہے‘ دین تو تھا اور دین رہے گا۔ اس دین کے ساتھ ساتھ دنیا کا پیغام بھی تھا آج لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر آپ نے دہشت گردی کی جنگ جیتنی ہے تو اپنا بیانیہ درست کیجئے۔ اور اگر آپ نے اپنا بیانیہ درست بنانا ہے تو اس کے لئے مدارس کو قومی دھارے میں لانا ہوگا۔ صوفیاء کرام کی درس گاہوں میں دین کے ساتھ دنیاوی تقاضوں کے طریقے بھی سکھائے جاتے تھے۔ مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کا اشارہ بھی ہمیں صوفیاء کرام کی تعیمات سے ملتا ہے۔ آج بھی اگر ہم اپنے مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرلیں تو ہم کارآمد پاکستانی پیدا کرسکتے ہیں۔ برصغیر میں صوفیاء کرام کا دین کی سربندی کے لئے اہم کردار ہے۔ موجودہ وقت میں پاکستان میں اتحاد و یگانگت کی اشد ضرورت ہے، عام آدمی کا معیار زندگی بہتر کرنا موجودہ حکومت کی ترجیح ہے۔ سی پیک منصوبے سے خطے میں باہمی روابط کو فروغ ملے گا۔ صوفیاء کرام کی تعلیمات پر عمل کرکے ہم پاکستان کا وقار بلند کرسکتے ہیں۔ صوفیاء کرام کا پیغام معاشرے میں امن اور بھائی چارے کا ہے۔ سی پیک پاکستان سمیت خطے کے لئے گیم چینجر ہے۔
بلاشبہ حضرت شیخ الاسلام بہاء الدین زکریاؒ ہندوستان کے چار بنیادی سلاسل میں سے ایک یعنی سلسلہ سہروردیہ کے ایک گونہ بانی تھے۔اس میں کوئی دورائے نہیں ہوسکتی ہیں کہ برصغیر پاک وہند میں اشاعت دین کاسہرا صوفیا ئے کرام کے سرہے ۔ان کے حسن و اخلاق ،خداترسی ،دینداری ،دیانتداری اور معاملات میں راست بازی دیکھ کر یہاں کے لوگ نہ صرف ان کے گرویدہ ہوگئے بلکہ اسلام قبول کرکے اس خطہ زمین کو امن و آشتی کامرکز بنادیا۔ان بزرگان دین کو رخصت ہوئے صدیاں بیت چکی ہیں مگر ان کی تعلیمات آج بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔ ہماری بدنصیبی ہے کہ یہ جھوٹ آج ہماری زندگی میں ناسور بن کرپھیل چکا ہے۔ہمیں ان سماجی برائیوں کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے صوفیاء کی طرف رجوع کرناہوگا۔صوفی ازم وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم اپنے معاشرے کو جنت نظیر بنا سکتے ہیں۔ ان بزرگان دین کے پیغام امن و محبت سے منہ موڑنے کے نتیجے میں محبتوں کی جگہ نفرتیں لینے لگیں، امن دشمن سرگرم عمل ہو کر معاشرہ کا سکون تباہ کرنے کے درپے ہو گئے۔ ان حالات میں ہمیں ایک مرتبہ پھر شیخ الاسلام جیسے بزرگوں کی تعلیمات کا احیاء کرنے کی ضرورت ہے۔ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ حضرت زکریا ملتانی ؒ کے افکار و عمل کو فروغ دیا جائے تاکہ پاکستان کی یکجہتی و سالمیت اور ملت اسلامیہ کے اتحاد کو ممکن بنایا جا سکے۔اور بجا طور پر ایسی کانفرنسیں ملک میں انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے خاتمے کا سبب بنیں گی،امید بھی باندھی جا سکتی ہے کہ پاکستان کے استحکام خوشحالی اور عوامی یکجہتی کیلئے آئندہ بھی ایسی کانفرنس کا انعقاد کیا جاتا رہے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*