بنیادی صفحہ -> Uncategorized -> رپورٹ -> وتعز من تشاء (من بھاوت)

وتعز من تشاء (من بھاوت)

رپورٹ: کاشف نیئر
کبھی کبھار ایسے بھی ہوتا ہے کہ انسان جتنی محنت کر رہا ہوتا ہے اللہ کی ذات اسے اس کی محنت سے زیادہ نوازرہی ہوتی ہے لیکن اس بات کا اسے ذرہ برابر احساس بھی نہیں ہورہا ہوتا۔ وہ مسلسل محنت کرتا جاتا ہے اور اپنی محنت کا پھل خاموش اجرت کی شکل میں اسے مل رہا ہوتاہے ۔انسانوں کے ملنے اور مل کر کام کرنے کو تنظیم کا نام دیا جاتا ہے کہ جس کا حصہ بن کر وہ ایک دوسرے کا ہاتھ بٹاتے ہیں اور ہر مشکل سے مشکل کام کو اللہ کی مدد اور راہنمائی سے کرتے ہی چلے جاتے ہیں۔۔۔ یہ کہانی ہے ایک ایسی ہی تنظیم کی کہ جو اپنے تئیں خاموشی اور چپ کی محنت سے کام کر رہی ہوتی ہے ۔ اوراس کے ممبران گزرنے والے وقت کے ہر لمحہ میں ہنسی خوشی اپنے کام میں مگن رہتے ہیں۔ لیکن انسانی فطرت کہاں چھپی رہ سکتی ہے انسان کے اندر کی مثبت سوچ اور فکر انسان کو کہاں سکون لینے دیتی ہے کہ وہ صرف اپنے تک محدود رہے۔۔۔ وقت نے انگڑائی لی اور اس تنظیم کی زندگی میں بھی ایسی ہی ایک تبدیلی رونما ہوئی۔ اس انگڑائی کے بعد ان چند لوگوں پر مشتمل اکیلے سفر کرنے والی یہ تنظیم جس بھی شہر کا سفر کرتی اس کے چاہنے والوں کا ایک جم غفیر اس کے ساتھ ہوتا گویا وہ کوئی ایسا راہبر یا ایسا راہنما ہے کہ جس کے پاؤں سے پاؤں ملانے کو کئی پاؤں مچلتے ہیں، اس کے ارکان اپنے ہاتھ بلند کریں تو سینکڑوں ہاتھ ان کے ساتھ بلند نظر آتے ہیں وہ کسی جگہ پڑاؤ کرنا چاہیں تو لوگ ان کے لیے آنکھیں بچھانے کو اپنا اعزاز سمجھتے ہیں۔آج کی دنیا اس تنظیم کو پاکستان رائٹرز کونسل کے نام سے جانتی ہے۔اس کی عمر ابھی لگ بھگ آٹھ ماہ ہو گی لیکن اس کے حصے میں جتنے بڑے بڑے پروگرام آئے اس کے پلیٹ فارم سے جتنے لوگوں کو اعزاز ملا وہ اپنی مثال آپ ہیں۔یہ تنظیم شہر شہر مختلف نوعیت کے پروگرامات کرواتی چلی گئی اوراللہ کے فضل و کرم سے اپنے نام اور کامیابی کے جھنڈے گاڑتی چلی گئی۔حال ہی میں ملتان جیسے بڑے شہر میں اپنی نوعیت کا ایک بہترین اور شاندار ادبی پروگرام منعقد ہوا جس کا سہرا بھی اسی تنظیم کے سر سجا۔اللہ جسے عزت دیتا ہے پھر اس کی اوقات بڑھتی ہی چلی جاتی ہے خواہ وہ زمین میں موجود نوکیلا پتھر ہی کیوں نہ ہو جب اس کا نصیب جاگتا ہے تو پھر وہ تراشے جانے کے بعد چمکدار ہیرے کی شکل اختیار کر لیتا ہے جو اپنی قیمت آپ ہوتاہے۔پاکستان رائٹرز کونسل کے لیے یہ اعزاز کسی بھی طرح اس ہیرے کی مثل سے کم نہیں ہے کہ ملکی تاریخ میں بہترین پروگرام کروانے کی سعادت اسی تنظیم کے حصہ میں آئی۔ ملتان میں اسی سرزمین اولیاء سے تعلق رکھنے والے سپوت گل نوخیز اختر کی ادبی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کا پروگرام ملتان کی علمی اور ادبی جگہ ملتان ٹی ہاؤس میں منعقد ہوا۔پروگرام کے دیئے گئے وقت کے مطابق مہمان خصوصی اور صدر محفل وقت کی پابندی کو مد نظر رکھتے ہوئے ہال میں موجود تھے کیوں کہ دنیا میں وہی لوگ کامیابی کے زینے چڑھتے ہیں جو وقت کی قدر کرتے ہیں ۔ شرکاء کی آمد کا سلسلہ بھی شروع ہو گیااور دیکھتے ہی دیکھتے ٹی ہاؤ س کا ہال شرکاء سے کھچا کھچ بھر چکا تھا۔ ہال میں موجود کرسیاں کم پڑنے پر اور کرسیوں کا انتظام بھی کیا گیا مگر وہ بھی کم پڑ گئیں اور آخر کار مہمان شرکاء کو پیچھے کھڑے ہو کر کے پروگرام سننا پڑا۔کرس�ئ صدارت پرملک پاکستان کے سینئر لکھاری اور کالم نگارعطاالحق قاسمی موجود تھے تو ان کے دائیں طرف اعزازِ تقریب گل نوخیز اختر تھے تو بائیں طرف عطاء الحق قاسمی کے شاگرد خاص اور پاکستان رائٹرز کونسل کے سرپرست پروفیسر زاہد حسن موجود تھے۔ مقررین میں سجاد جہانیہ، شاکر حسین شاکر، رضی الدین رضی ، یاسر پیر زادہ، ناصر محمود ملک، محمد وسیم، نوازش علی ندیم، رانا ممتاز رسول،فیاض احمد اعوان، پروفیسر رضیہ رحمن اور دیگر شامل تھے۔ پروگرام کی نقابت کے فرائض چیئر مین پاکستان رائٹرز کونسل مرزا محمد یسین بیگ نے ادا کیے۔انہوں نے اپنے مخصوص اور نہایت مفکرانہ انداز گفتگو سے نہ صرف پروگرام کوخوبصورت بنایا بلکہ اظہارخیال کرنے والوں کے لیے ان کی بات سے پہلے ایسا ماحول پیدا کر دیا کہ جس سے مقررین کو اپنی بات کرنے میں بہت آسانی رہی۔سٹیج پر آنے والے ہر مہمان نے فخر ملتان گل نوخیز اختر کو خراج تحسین پیش کیا ۔ ہال میں موجود لوگوں نے نہایت انہماک سے پروگرام سنا اور تالیوں کی گونج سے اپنے انداز میں گل نوخیز کو ان کی ادبی کام پر شاباش دی۔آخر پر گل نوخیز اختر نے اپنے مزاح پر مبنی کالم سنا کر شرکاء کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر دیں۔ عطا ء الحق قاسمی نے اپنے شیریں اور دھیمی آواز میں گل نوخیز اختر کی ادبی خدمات کو سراہا اور ان کے بارے کچھ خیالات کا اظہار کیاانہوں نے اپنے لکھے ہوئے فن پاروں سے کچھ یادیں تازہ کیں اور اپنی زندگی میں گزرے کچھ حسیں اور دلچسپ واقعات سنا کر شرکاء کی خوب داد سمیٹی اور ان کے چہروں پر ہنسی بکھیری۔ پروگرام کے آخر پر شرکاء کے لیے ریفریشمنٹ کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔ تمام حاضرین نے پاکستان رائٹرز کونسل اور اس کی ٹیم کو شاباش دی اور کامیاب پروگرام پر مبارک باد پیش کی۔ پاکستان رائٹرز کونسل کے چیئر مین نے تنظیم کے مشن اور وژن کو واضح کیا اور بتا یا کہ کس طرح پاکستان رائٹرز کونسل قلم قرطاس سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر چل رہی ہے۔ اور ان کے اعزاز میں تقاریب منعقد کروا کے ان کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ تا کہ کتاب سے دوستی کے تعلق کو اور زیادہ مضبوط کیا جا سکے اور وہ لوگ جو کتب بینی سے دور ہو رہے ہیں انہیں مختلف پروگرامات کے ذریعے کتب بینی اور قلمی محبت سے آگاہی دی جا سکے۔ ان کے اند ر کی مثبت سوچ کے ذریعے معاشرہ میں فلاح کے کاموں کو پروان چڑہایا جائے اور انسان کو اس کے اصل مقصد کی طرف راغب کیا جائے جوکہ بحیثیت انسان ہماری اصل پہچان ہے اور یہی پاکستان رائٹرز کونسل کا مشن بھی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*