بنیادی صفحہ -> Uncategorized -> رپورٹ -> حلقہء ارتقاء ادب لاہور کے زیراہتمام بھرپور مشاعرہ

حلقہء ارتقاء ادب لاہور کے زیراہتمام بھرپور مشاعرہ

رپورٹ: شہزاد احمد شیخ
حلقہء ارتقاء ادب لاہور کی ان بے حد افعال تنظیموں میں سے ایک ہے جو عرصہ ء دراز سے فن و ادب کی نہ صرف آبیاری کر رہی ہیں بلکہ بے شمار شعرائے کرام کو دنیائے ادب سے روشناس کرانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس تنظیم کے مشاعروں میں دنیائے سخن کے ایسے ایسے روشن ستارے آئے جن کا نام سن کر ہی لوگ بے حد عقیدت و احترام سے انہیں یاد کرنے لگتے ہیں اور یہ شعراء ایک عرصے تک نہ صرف لوگوں کے دل و دماغ پر راج کرتے رہے ہیں بلکہ آج بھی کر رہے ہیں
اس تنظیم کا ماہانہ مشاعر ہ مغلپورہ سوسائیٹی اسکول و کالج کی لائیبریری میں منعقد ہوا۔ اس مشاعرے کی صدارت لاہور کے مشہور بزرگ صحافی اور سینئیر شاعر جناب انوارالقمر صاحب نے فرمائی۔مہمان خصوصی کی نشست پر ملتان سے آئے ہوئے کہنہ مشق شاعراشعر حسن کامران تشریف فرما تھے۔جبکہ مہمانان اعزاز کے طور پر سہیل یار اور اشفاق فلک صاحب جلوہ افروز تھے۔ اور ان دونوں کو اس منصب کے لئے اس لئے چنا گیا کہ دونوں کے مجموعہء کلام حال ہی میں شایع ہوکر آئے ہیں ۔ اور یہ تنظیم ، حلقہ ارتقاء ادب ایسے لوگوں کی ہمیشہ سے عزت افزائی کرتی آئی ہے۔ سہیل یار کے مجموعہء کلام کا نام :: خون جگر :: ہے جبکہ اشفاق فلک صاحب کا :: اے ماہ فلک ::مشاعرے کی نظامت کے فرائض اس تنظیم کے روح رواں سینئر شاعر جناب ریاض رومانی صاحب نے ادا کئے۔ حسب روایت سب سے پہلے ریاض رومانی صاحب نے اپنا نہایت خوبصورت کلام پیش کیا۔ جو باقی شعرائے کرام کے ساتھ ساتھ قارئین کی دلچسپی کے لئے پیش خدمت ہے ۔
ریاض رومانی۔
لمحہء ہجر ہے یا ساعت سرشاری ہے
دل پہ ہر رنگ میں مشکل ہے گرفتاری ہے
خاک ہونے پہ بھی دیکھے گئے اعمال ترے
قطرہء اشک تری ایسی نگہہداری ہے
انوارالقمر۔
نیند پر ان کے گماں کیوں نہ ہو بیداری کا
جب وہ سوتے ہیں تو فتنوں کو جگا دیتے ہیں
تزکرہ بزم میں ہے میری گراں جانی کا
کس سلیقے سے مجھے داد وفا دیتے ہیں
اشہر حسن کامران۔
جس پہربرپا ہو نعت مصطفے کی انجمن
وہ پہر دن سے زیادہ معتبر ہے رات کا
اشفاق فلک۔
چاہے تاروں سے فلک روز سجایا جائے
پھر بھی وہ چاند سا چہرہ نہ چھپایا جائے
سہیل یار۔
میں اسے کس لئے تلاش کروں
وہ توہر چیز میں سمایا ہے
علامہ بشیر رزمی۔
سورج گھروں میں جھانکنے لگا
بستی کے سارے پیڑ کٹ گئے
حسنین بخاری۔
میں بار آور شجر ہوں مجھ پہ نہ سنگ باری کرو خدارا
تم اپنے ہاتھوں سے توڑ لینا ثمر میں شاخیں جھکا رہا ہوں
ساحل ہاشمی۔
آندھیو دل کھول کے کھیلو درختوں سے مگر
گر نہ جائیں پنچھیوں کے آشیانے دیکھنا
افضل پارس۔
بوہے غیراں دے ویکھی جدوں روشنی
مینوں چھڈ کے تے میرا ا ی سایہ گیا
ڈاکٹر عاصم تنہا۔

سنج کرکے تریائی وطناں دی
ساڈا امن سکون ونجا چھڈیائی
شہزاد احمد شیخ
قید تے ساڈی تھوڑی اے
سوچ دا سنگل بوہتا اے
ہور کسے نال کی لڑئیے
گھر وچ دنگل بوہتا اے
مسعود ارحم خان۔
بھلے قیمت مری اک سوت کی اٹی ہی کیوں نہ ہو
اگر میں حسن یوسف ہوں توا نگلی کٹ بھی سکتی ہے
ایوب ساگر
جنت میں اس بشر نے ٹھکانا بنا لیا
محفل جہاں میں جس نے سجائی حضور کی
زیشان منیر۔
آقا کے وسیلہ سے دعا ہو
لب پہ ہو دعائے خیربار بار
ہاں ور د درد پاک ہی سے
رہتا ہے مرا دل بھی ضیاء بار

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*