بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> یکساں نصاب ۔۔وعدے نہیں عملی اقدامات کی ضرورت

یکساں نصاب ۔۔وعدے نہیں عملی اقدامات کی ضرورت

وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ یکساں نصاب سے ایک قوم بنائیں گے اور ناانصافی کو ختم کریں گے، یکساں نصاب کیلئے تمام مکاتب فکر کو اعتماد میں لیا جائے گا اور ان کے تحفظات کو دور کریں گے۔ وہ بدھ کو قومی نصاب کونسل کے پہلے اجلاس سے خطاب کے بعد صحافیوں بات چیت کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ یکساں نصاب کیلئے بنائی جانے والی قومی نصاب کونسل کا پہلا اجلاس انتہائی مثبت رہا، مجموعی طور پر تمام سٹیک ہولڈرز نے یکسان نصاب پر اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا کہ جن فریقین کو تحفظات ہوں گے وہ مشاورت کے ساتھ تحفظات کو دور کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ قومی نصاب کونسل کے قیام کا مقصد یکساں تعلیمی نصاب کی طرف بڑھنا ہے۔انہوں نے کہا کہ مختلف نصاب اور تعلیمی نظام کی وجہ سے قوم میں تقسیم اور دراڑیں پیدا ہو رہی ہیں‘ وزیراعظم عمران خان کا وژن ہے کہ تعلیمی نظام کی وجہ سے قوم میں پیدا ہونے والی تقسیم کو ختم کیا جائے۔شفقت محمود نے کہا کہ ایک خاص نظام تعلیم جسے ایلیٹ انگلش میڈیم سکول کہا جاتا ہے، میں تعلیم حاصل کرنے والے 22کروڑ میں سے 4 کروڑ افراد معاشرہ کے ہر شعبہ میں آگے بڑھ جاتے ہیں اور عام تعلیمی نظام میں تعلیم حاصل کرنے والا بچہ ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور اسے آگے بڑھنے کیلئے بہت سی رکاوٹیں عبور کرنا پڑتی ہیں۔پی ٹی آئی کی حکومت آئے چار ماہ ہوچکے ہیں بہتر ہوتا کے اس حوالے سے سودن میں کوئی بڑی خوشخبر ی سننے کو مل جاتی ہے وعدے او دعوی تو الیکشن سے قبل بھی کئے گئے تھے اور الیکشن کے بعد بھی وہ انداز و بیان دیکھنے کو مل رہا ہے ، لازم ہے کہ حکومت یکساں نصاب کے حوالے عملی اقدامات کر کے ثابت کرے وہ نظام تعلیم کے حوالے سے غافل نہیں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*