پاکستان میں بھی ’ارطغرل غازی‘ جیسے ڈرامے بننے چاہئیں: نیلم منیر

کراچی (ماینٹرنگ ڈیسک)پاکستان ٹی وی انڈسٹری کی مقبول ترین اداکارہ نیلم منیر نے پاکستان میں ترکش سیریز ’دیریلش ارطغرل‘ کو اردو میں ڈب کرکے سرکاری چینل پر نشر کرنے کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے خواہش کا اظہار کیا کہ ہماری انڈسٹری میں بھی ایسے ڈرامے بننے چاہئیں جن سے ہمیں فخر محسوس ہو۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر ’ارطغرل غازی‘ کے ایک پوسٹر کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ وہ سب کے خیالات کا احترام کرتی ہیں مگر ت±رک ڈرامے پاکستان میں نشر کرنے سے کسی کو مسئلہ نہیں ہونا چاہئے۔

انہوں نے لکھا کہ ’ارطغرل غازی‘ نشر کرنے کا معاملہ پاکستانی مواد یا ترک مواد کا موازنہ کرنا نہیں ہے بلکہ ہمیں یہ دیکھنا اور سمجھنا چاہئے کہ وہ ڈرامہ ہمیں کیا سکھا رہا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ’ارطغرل غازی‘ کسی ملک کا نہیں بلکہ اسلامی مواد ہے ، جس میں مسلمانوں کو دانشمندی، دانائی، فہم و فراست سمیت تاریخ اور اسلامی اقدار کی تعلیم دی گئی ہے۔

نیلم منیر کا کہنا تھا کہ ارطغرل غازی دیکھنا مسلمانوں کی عظیم تاریخ کا مطالعہ کرنے کے مترادف ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ انصاف کے حصول کے لیے ماضی میں مسلمانوں نے کس طرح اپنی جانیں قربان کیں اور حق کے راستے پر قائم رہے۔

اپنے کیپشن کے آخر میں نیلم نے لکھا کہ ہم سب کو اسلامی ورثہ پر فخر محسوس کرنا چاہئے اور اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔ انہوں نے اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ پاکستان میں بھی جلد ایسا مواد بننا چاہئے تاکہ یہاں کے فنکاروں کو بھی اپنے کام پر فخر ہو۔

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے نیلم پہلی پاکستانی اداکارہ نہیں جو ارطغرل کے سحر میں مبتلا ہیں بلکہ بلال اشرف، مہوش حیات، ریبمو، صاحبہ، منشا پاشا، احمد علی بٹ، عثمان خالد بٹ سمیت دیگر معروف شخصیات بھی اس سیریز کے پاکستان میں نشر کرنے کے فیصلے کو سراہ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی ہدایت پر قومی زبان میں ڈب کر کے نشر کیا جانے والا ڈرامہ 13 ویں صدی میں مسلمانوں کی فتوحات پر مبنی ہے۔سیریز میں بہادر مسلمان سپہ سالار ’ارطغرل‘ کی کہانی بیان کی گئی ہے جو سلطنتِ عثمانیہ کے بانی عثمان اول کے والد تھے۔