بنیادی صفحہ -> دلچسپ و عجیب -> موٹاپے سے بچنے کے لئے چند ترکیبیں دیکھیے وہ کیا ہیں

موٹاپے سے بچنے کے لئے چند ترکیبیں دیکھیے وہ کیا ہیں

اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا بھر میں موٹاپا تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اس موٹاپے کے مسئلے کا شکار مرد اور خواتین دنیا کے ہر ملک میں پائے جاتے ہیں۔

اس وقت بھی موٹاپا دنیا میں ہونے والی ہلاکتوں کے 10 بڑے اسباب میں سے ایک ہے اور اندازے کے مطابق 2050 تک موٹاپا ہلاکت کا باعث بننے والے 5 بڑے اسباب میں شامل ہوگا۔

موٹاپے کو کم کرنے یا اس پر قابو پانے کے لیے ورزش اور صحت مند غذا کھانے کو اولین ترجیح دی جاتی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ دونوں طریقے موٹاپے کو کم کرنے کے لیے سب سے اہم ہیں۔

لیکن ایک حالیہ تحقیق کے مطابق موٹاپے پر قابو پانے یا اسے بڑھنے سے روکنے میں نیند کا کردار بھی ورزش اور صحت مند غذا جتنا ہی اہم ہے۔

امریکا کی سماجی تنظیم نیشنل سلیپ فاؤنڈیشن (این ایس ایف) کی تازہ تحقیق کے مطابق موٹاپے پر قابو پانے کے لیے پر سکون نیند کا سب سے اہم کردار ہے۔

مکمل اور پرسکون نیند نہ کرنے والے افراد میں موٹاپے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں،ماہرین
این ایس ایف ماہرین کے مطابق نیند کی کمی جہاں بلڈ پریشر، دل کے امراض اور نظام ہاضمہ کی خرابی کا باعث بنتی ہے، وہیں یہ موٹاپے کا بھی باعث ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر کوئی بھی شخص مکمل نیند کیے بغیر موٹاپے کو کم کرنے کے لیے ورزش کرنے سمیت صحت مند غذا کا استعمال کرے گا پھر بھی اس کا موٹاپا کم نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: موٹاپے اور توند سے نجات کے لیے مزیدار مشروبات
ماہرین کے مطابق پرسکون اور مکمل نیند نہ کرنے کے باعث سب سے زیادہ کم عمر افراد تیزی سے موٹاپے کا شکار بنتے ہیں۔

پر سکون نیند نہ کرنے سے بالغ افراد میں موٹاپے کے 55 فیصد امکانات بڑھ جاتے ہیں—فوٹو: پنٹ ریسٹ
ماہرین کا کہنا ہے کہ جو افراد یومیہ 7 گھنٹے کی نیند نہیں کرتے ایسے افراد میں موٹاپے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ رات کو 7 گھنٹے تک نیند نہ کرنے والے کم عمر افراد یا بچوں میں موٹے ہونے کے امکانات 68 فیصد ہوتے ہیں جب کہ بالغ افراد میں موٹےہونے کے امکانات 55 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔

ماہرین نے تجویز دی کہ موٹاپے سے بچنے کے لیے یومیہ کم سے کم 7 گھنٹے کی نیند لازمی ہے جب کہ رات کے اوقات میں 5 گھنٹے سے کم نیند نہ کی جائے۔

ماہرین کے مطابق رات کے وقت میں 5 گھنٹے سے کم نیند کرنے والے افراد میں بلڈ پریشر، دل کے امراض اور موٹاپے سمیت ذہنی تناؤ جیسے مسائل پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*