بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> اورنج لائن میٹروٹرین منصوبے کی تکمیل میں مزید تاخیر حکومتی مفاد میں نہیں !
اورنج لائن
اورنج لائن

اورنج لائن میٹروٹرین منصوبے کی تکمیل میں مزید تاخیر حکومتی مفاد میں نہیں !

اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ پہلے روز سے ہی سب کیلئے مرکز نگاہ بن ہواہے ،وجہ بڑے بجٹ کا میگا پروجیکٹ ہوناہی نہیں بلکہ یہ پاکستان کا پہلا ریپڈ ٹرانزٹ ٹرین نظام ہوگا جبکہ یہ منصوبہ بھی پاک چین اقتصادی راہداری کے میں شامل ہے جو پاک چین کی بے مثال دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔منصوبہ آغازسے تنازعات کا زد میں رہا ۔اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کڑی تنقید کا سامنا رہا پھر اس بات کوہوا دینے کی پوری کوشش کی گئی کہ اس منصوبے کے تحت کئی گھروالے بے گھر ہو جائیں گے ۔مگر سابقہ مناسب حکمت عملی کے تحت اس منصوبے کی تکمیل کی جانب بڑھتی نظر آئی ،مخالفین کی جانب سے اعلیٰ عدلیہ سے رجوع بھی کیا گیا جس کے باعث بھی منصوبے کا کچھ حصہ تعطل کا شکار رہا مگر بعدازاں پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ نے منصوبے کو جلدازجلد مکمل کرنے کی ہدایات جاری کر دی۔ قوی امید تھی کہ یہ منصوبہ سابقہ حکومت کے اختتام کے پہلے مکمل طور پر فعال ہوجائیگا مگرایک روز کیلئے آزمائشی بنیادوں پر چلانے سے بات آگے نہ بڑھ چکی ۔جبکہ نئی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد بھی یہ منصوبہ سست روی کا شکار ہے جس پرعوامی حلقوں میں کئی قیاس آرائیاں ہونے لگیں کہ شاید حکومت اس منصوبے میں دلچسپی نہیں رکھتی چونکہ یہ منصوبہ بھی سی پیک بھی شامل ہے اس لئے سی پیک منصوبے کے حوالے سے کئی شکوک و شبہات جنم لینے لگے مگر سپریم کورٹ آف پاکستان جس انداز میں اس منصوبے کی تکمیل کیلئے دلچسپی لے رہی ہے حوصلہ افزاءبات ہے گزشتہ روز اورنج لائن ٹرین پراجیکٹ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا اورنج لائن ٹرین لاہوریوں کے لیے ایک تحفہ ہے۔ اگر پراجیکٹ مکمل نہ ہوا تو اسے عدالتی حکم کی عدم تعمیل سمجھیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جس دن گڈی چلے گی ہم بھی سواری کریں گے۔ سماعت کے دوران پرائیویٹ کانٹریکٹر کمپنیوں کے وکیل نعیم بخاری تین رکنی بینچ کے سامنے پیش ہوئے اور انہوں نے کہا کہ اس پراجیکٹ کی تکمیل میں ہونے والی تاخیر کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہمیں اس کام کے پیسے نہیں مل رہے۔جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایل ڈی اے نے اورنج لائن ٹرین منصوبے پر کام کرنے والی کمپنیوں کو جو ادائیگیاں کرنی ہیں ان کے چیکس سپریم کورٹ میں جمع کروائیں۔ جبکہ ٹھیکے دار بینک گارنٹی سپریم کورٹ میں جمع کروا کر اپنے تعمیراتی کاموں کے چیکس لے سکتے ہیں۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے پراجیکٹ ڈائریکٹر سبطین فضل کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس سلسلے میں ان کی خدمات قابل تحسین ہیں۔جبکہ اب حکومت کی جانب سے بھی اس منصوبے بارے مثبت ردعمل سامنے آچکا ہے کہ گزشتہ روز صوبائی وزیر برائے بلدیات علیم خان نے کہا ہے کہ اورنج لائن بالکل بند نہیں ہو رہی، ٹرین چلانے پر سالانہ 120 ارب روپے دینا پڑیں گے۔ منصوبہ سفید ہاتھی ہے، مجبوری میں چلائیں گے۔اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ میگا پراجیکٹ ”اورنج لائن میٹرو ٹرین” کے منصوبہ تکمیل نہ ہونے کی وجہ سے موجودہ حکومت کو عوامی دباﺅ کے ساتھ اپنی عدالتی دباﺅ کا سامنا ہے جبکہ اس میگا پراجیٹ کی تکمیل کے لیے ابھی مزید 44 ارب 41 کروڑ 34 لاکھ 86 ہزار روپے درکار ہیں ۔صوبائی وزیر کا یہ لفظ©©”مجبوری“ اس بات کی عکاسی ہے کہ حکومت اس منصوبے میں سنجیدہ نہیں تھی ۔بہرحال منصوبہ کی تکمیل تو ہرصورت ہونی ہے جتنی تاخیر ہوگی حکومت کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگاممکنہ طور پر لاگت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔عوامی رائے میں بھی اس منصوبے کا جلدازجلد مکمل ہونا ہی حکومت وقت کے حق میں بہتر ہے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*