بنیادی صفحہ -> اہم خبریں -> وزیر اعظم نے ہوا سے بجلی بنانے کے ’’سپر 6 ‘‘منصوبے پر دستخط کردیئے

وزیر اعظم نے ہوا سے بجلی بنانے کے ’’سپر 6 ‘‘منصوبے پر دستخط کردیئے

اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان نے پاکستان میں ہوا سے بجلی کی پیداوار کے 310 میگاواٹ کے منصوبے پر دستخط کردیئے۔دستخطی تقریب اسلام آباد میں ہوئی ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے بتایا کہ ہواسےبجلی پیدا کرنے کے سپر 6منصوبوں پر 45کروڑ ڈالر لاگت آئے گی، یہ منصوبے عالمی مالیاتی کارپوریشن اور عالمی بینک کے مالی تعاون سے مکمل کیے جائینگے۔وزیراعظم نے کہاپاکستان میں بجلی کے مہنگے منصوبوں کے پیچھے مختصر مدتی حکمت عملی ہے۔یہاں پن بجلی کے بجائے مہنگے درآمدی ایندھن سے بجلی کے منصو بے لگائے گئے۔انہوں نے کہاہوا سے بجلی کی پیداوار نہ صرف ماحول دوست بلکہ سستی بھی ہو گی۔انہیں ماحول دوست منصوبوں کے افتتاح پر دلی خوشی ہورہی ہے۔عمران کے مطابق چین نے تیس سال میں ستر کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا۔چین نے اقتصادی کامیابی طویل مدتی حکمت عملی وضع کرکے حاصل کی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری بدقسمی شارٹ ٹرم پلاننگ ہے، ہم پانچ سال کے بعد الیکشن جیتنے کی کوشش کرتے ہیں جس کے لیے شارٹ ٹرم پلاننگ کرتے ہیں اور ہمارے درمیان اور چین میں یہی بڑا فرق ہے، ان کی طویل پلاننگ اتنی آگے تک ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج ہم سب سے بڑے مسئلے مہنگی بجلی میں پڑے ہوئے ہیں، ہم برصغیر میں سب سے سستی بجلی سے سب سے مہنگی بجلی بنارہے ہیں، اس کی وجہ کم مدتی منصوبہ بندی ہے، ہم نے نہیں سوچا کہ دولت کیسے اکٹھا کریں گے، ایسے ملک کبھی اوپر نہیں جاسکتا۔

عمران خان نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ کے بعد اپنی معاشی ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے ہمیں بہت مشکل وقت سے نکالا، ہمارا پہلا سال بہت مشکل تھا، ہمیں بہت بڑے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا تھا، کبھی کسی حکومت کو اتنے خسارے کا سامنا نہیں کرنا پڑا لیکن میری معاشی ٹیم نے محنت سے مشکل وقت نکالا جس سے معیشت مستحکم ہوگئی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج معیشت مستحکم ہے اور بغیر کسی سپورٹ کے روپے کی قدر میں اضافہ ہورہا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمیں دیکھنا ہے کہ ہم جو بھی کریں اس سے عام آدمی کی زندگی کیسے بہتر ہو اور ان کے مشکل وقت کو کیسے نکالیں۔اسٹاک مارکیت مثبت ہے اور معاشی اشاریے ٹھیک ہورہے ہیں، ہمارا خسارہ کم اور برآمدات بڑھ رہی ہیں، اب ہماری سمت درست ہے، اب ہم ے آگے بڑھنا ہے اور معیشت کو چلانا ہے تاکہ لوگوں کو روزگار ملے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*