بنیادی صفحہ -> دلچسپ و عجیب -> فحش فلمیں ڈیلیٹ کرنے پر بیٹے کا والدین کیخلاف ہرجانے کا دعویٰ
فحش

فحش فلمیں ڈیلیٹ کرنے پر بیٹے کا والدین کیخلاف ہرجانے کا دعویٰ

لاہور(ویب ڈیسک): ایک امریکی شخص نے ’پورن ڈیٹا’ ضائع کرنے پر اپنے والدین کے خلاف مقدمہ کرتے ہوئے ان پر ایک کروڑ 20 لاکھ روپے سے زائد ہرجانے کا دعویٰ دائر کردیا۔فحش مواد ضائع کرنے پر 40 سالہ بیٹے کا معمر والدین کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ دائر کیے جانے کا کیس ریاست انڈیانا میں سامنے ا آیا۔ شخص نے عدالت میں مقدمہ دائر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے والدین کے درمیان 2016 میں طلاق ہوگئی تو ان کے خاندان کے تمام افراد الگ ہوگئے تھے۔مدعی کے مطابق جب ان کے والدین کے درمیان طلاق ہوئی تو وہ بھی انڈیانا منتقل ہوگئے جبکہ انہیں نئے گھر پر ان کے والدین نے ان کا سامان ارسال کیا۔والدین پر مقدمہ دائر کرنے والے شخص نے دعویٰ کیا کہ ان کے سامان میں فحش مواد کم تھا جبکہ انہیں اپنا پورن ڈیٹا کے 12 کارٹن کم ملے۔مقدمہ دائر کرنے والے شخص کے مطابق غائب کیے گئے پورن ڈیٹا میں فحش تصاویر اور دیگر مواد پر مبنی جرائد سمیت سی ڈی کلیکشن بھی شامل تھا۔بیٹے کی جانب سے مقدمہ دائر کرنے کے بعد والدین عدالت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے بیٹے کا پورن ڈیٹا ضائع کیا۔مقدمہ دائر کرنے والے شخص کے والد کا کہنا تھا کہ انہوں نے بیٹے کو ایسا مواد جمع کرنے کے لیے سہولیات بھی فراہم کیں، اس لیے وہ ایسا مواد ضائع کرنے کا حق رکھتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق مقدمے کی سماعت ابھی شروع ہوئی ہے تاہم والدین کے خلاف فیصلہ آنے پر 87 ہزار امریکی ڈالر یعنی پاکستانی ایک کروڑ 20 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنا پڑے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*