بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں

دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں

قراة العین خالد
یقین جانئے کہ میری سمجھ سے بالاتر ہے میں کیا لکھوں اور کہاں سے وہ الفاظ لاﺅں اور کیسے ان الفاظ کو ایک دوسرے میں پرو کر جملوں کی مالا بناﺅں ،جو میرے درد کو بیان کرسکے جو میرے دھاڑیں مارتے ہوئے سینے سے پھٹنے والیں آوازیں قرطاس پر بکھیر سکے جو میرے دل سے بہنے والے خون کے آنسوﺅں کو کسی دیوار پر نوحے کی مانند جماسکے ۔آج ہاتھ بندھےں ہیں اور زبان کو قفل لگ چکے ہیں اور دماغ کچھ بھی سوچنے سے قاصر ہوچکا ہے ،نیوزی لینڈ میں ہونے والے دلخراش سانحے نے دنیا میں بسنے والے صرف مسلمان کو ہی نہیں بلکہ ہر باشعور انسان کو اس کیفیت سے دوچار کر دیا ۔ مگر مسلمانوں کا درد اور تکلیف سب سے کہیں زیادہ ہے ،کیونکہ ہم دہشت گرد بھی کہلاتے ہیں اور مرتے بھی ہیں جبکہ دیگر کیلئے قاعدے قانون ضوابطے سب بدل جاتے ہیں ۔خودی دیکھ لیجئے کہ سارا انٹرنیشنل میڈیا دہشتگرد کو بس ایک شوٹر ، دماغی مریض قرار دے کر اس انسانیت سوز سانحے کا رُخ کسی دوسری طرف موڑنے کی کوشش میں ہے ۔
اس کائنات میں جتنے لوگ ہیںاِن سب کو پیدا کرنے والی زات رب کائنات ہے یہ لوگوں کے اپنے بنائے گئے مذاہب ہیں جس میں لوگوں نے خود کو ڈھایا ہے.تمام ممالک میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو مسلمان نہیں اور بہت فخر سے یہ بات کہتے ہیں کہ وہ مسلمان نہیں جیسا کہ میڈیا پر ابھی کہا جارہا کہ یہ حملہ کرنے والا مسلمان نہیں ہے، تو پھر سمجھنے والے سمجھ لیں کہ وہ دہشتگر د کیسے ہوسکتا ہے ۔ یعنی جو سفید پوش بندوق اٹھائے اور بے گناہ درجن سے زیادہ مسلمانوں کو اُن کی عبادت گاہ کے اندر گھُس کو اندھا دھند فائرنگ کر کے معصوم اور نہتے لوگوں کو شہید کر دے ، وہ بے گناہ اور دہشتگرد نہیں یعنی انسانیت تو دم توڑ چکی ہے۔ یہ تو مجھے معلوم تھا لیکن افسوس صد افسوس ضمیر بھی سب کے مردہ ہو چکے ہیں یہ آج نیوزی لینڈ کے میڈیا سے پتا لگا۔ہاں میں اس بات سے متفق ہوں کہ مسلمانوں میں بیچ موجود کچھ منفی عناصر مذہب کا لبادہ اُوڑھ کر اسلام دشمن کے ہاتھوں استعمال ہوئے اور امن کا درس دینے والے مذہب اسلام کو بدنام کیا۔ لیکن یہاں یہ سمجھنا ہو گا کہ ایسے لوگوں کا نہ تو دین سے کو ئی واسطہ ہے اور نہ وہ حقیقی معنوں میں مسلمان بلکہ وہ درندے کہلانے کے قابل ہیں، یہاں پر میں حدیث کی رُو سے واضع کرنا چاہتی ہوں کہ اسلام کس قدر پُر امن اور سلامتی کا درس دیتا ہے ” جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اُس نے پوری انسانیت کو بچا لیا اور جس نے ایک انسان کی بلاو جہ جان لی گویا اُس نے پوری انسانیت کا قتل کیا“ دین اسلام تو میدان جنگ میں بھی امن کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنے کا سبق دیتا ہے ۔ ہر وہ شخص جس نے کسی دوسرے شخص کی جان لی ہے بے دردی سے وہ شخص مسلمان کہلانے کے قابل ہی نہیں۔
جان لینے کا حق خدا نے کسی کو نہیں دیا ایسے لوگوں کی پکڑ بہت بری ہے میرے خدا کی عدالت میں..جتنے لوگ شہید ہوئے ہیں ایک شخص کی وجہ سے اس کی پکڑ بہت بری ہے اللہ کے ہاتھوں. آج کے معاشرے میں جو تباہیاں ہورہی ہیں، جو بم دھماکے، جو خون خرابہ اور قتل و غارت اور جنگ کے معاملات شروع ہوئے ہیں اللہ اس پاکستان کو ہی نہیں اس دنیا کو اپنے حفظ و ایمان میں رکھے.ہمارے ملک کے ہی نہیں بلکہ دوسرے ملکوں میں بھی شرافت کی، غیرت کی، انسانیت کی اور حیا کی کمی ہے.اب تک جتنے بھی بم دھماکے اور دہشت گردی ہوءہے.. جو کچھ فلسطین کرتے ہیں ظلم شام اور اسرائیل پہ، کءجانیں جاتی ہیں کءلوگ زخمی ہوتے ہیں، معصوم بچے موت کی نیند بے دردی سے سلا دئے جاتے ہیںکئی زندگیاں تباہ ہوجاتی ہیں. نہ جانے یہ ظلم کر کے ان کے کلیجوں کو سکون کیسے آجاتا ہے ان کو کوئی خوف کیوں نہیںہے کہ انہوں نے جانا اسی رب کے پاس ہے جس کی لاٹھی بے آواز ہے.یہ سب انسان تک کہلانے کے قابل نہیں۔وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پران حملوں کو11 ستمبر کے حملے کے بعد دنیا بھر میں پھیلنے والے مسلمان مخالف جذبات (اسلامو فوبیا) کا شاخسانہ قرار دیا۔ صدر مملکت کا کہنا ہے کہ نفرت بے لگام ہو تو اسے روکنا مشکل ہوتا ہے ۔نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے ملک میں اسلحہ کے قوانین میں ترمیم کا اعلان تو کردیا ، کیا یہ بھی اسلام مخالف نفرت کو ختم کرنے میں کارگر ثابت ہوپائے گا؟ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے نیوزی لینڈ میں حملے کی مذمت کرتے ہوئے ایک منٹ کی خاموشی کیاوہ چیخ و پکار کو ختم کر پائے گی جو اسلام اور مسلمانو ں کے خلاف گونج رہی ہے ؟ برنٹن ٹیرنٹ جس کی گولیوں سے چھ پاکستانی بھی جام شہادت نوش کر گئے ،کا ایک موقع پر پاکستان کے حوالے سے کہنا تھا کہ پاکستان ایک ناقابل یقین جگہ جہاں دنیا بھر میں سب سے زیادہ مخلص، نرم دل اور مہمان نواز لوگ ہیں، موسم خزاں میں ہنزہ اور نگر وادی کے حسن کو مات نہیں دیا جاسکتا۔واضح ہے کہ اُس کے نظریات اور سوچ کا ٹکراﺅ کسی سرحدوں سے نہیں بلکہ مذہب سے ہے ۔دنیا کوسوچنا ہوگا کہ نہ پہلی جنگ عظیم اور نہ ہی دوسری جنگ عظیم کے پیچھے مسلمان تھا۔چھ ملین یہودیوں کے قتل عام بھی مسلمانوں نے نہیں کیا۔اسٹریلیا میں بیس ملین مارنے والے بھی مسلمان نہیں تھے۔نارتھ امریکہ میں سو ملین انڈینز کو مارنے والے بھی مسلمان نہیں تھے، ہیروشیما پر نیوکلیئر بم پھینکنے والے بھی مسلمان نہیں تھے،ساﺅتھ اامریکہ میں بھارتی قتل عام کے پیچھے بھی مسلمانوں کا ہاتھ نہیں تھا۔تو پھر دہشت گردی کا لیبل مسلمانوں پر کیوں لگا دیا گیا ۔ نیوزی لینڈ میں ہونے والے دلخراش سانحے پر بھی دنیا کو اپنا موقف بدلنا ہوگا اور ایک ذہن سازی کاآغاز کرنا ہوگا کہ مسلمان دہشت گر د نہیں ، دہشت گرد کا کوئی مذہب کوئی دین نہیں ،بلکہ دہشت گرد ایک مائنڈ سیٹ کا نام ہے جو ہرملک ہرمذہب کے خطرہ ہے جسے مل کر نیست و نابود کرنا ہے اگر اب بھی دنیا نے اپنا رویہ نہ بدلا تو ایک کے بعد ایک برنٹن ٹیرنٹ جیسے پیدا ہوتے رہے گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*