بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> لنڈئے کے لبرل اور دہشت گردی
بھینس

لنڈئے کے لبرل اور دہشت گردی

راجہ وحید احمد
اےک لڑکی نے اےک بزرگ سے کہا اگر آپ ناراض نہ ہو تو اےک بات پوچھوں بزرگ نے کہا جی بےٹا پوچھےں لڑکی نے کہا ہمارئے معاشرئے مےں لڑکوں کو ہر طرح کی آزادی حاصل ہے وہ کچھ بھی کرےں کہےں بھی جائےں اس پر کوئی خاص روک ٹوک نہےں ہوتی اس کے برعکس لڑکےوں کو بات بات پر روکا جاتا ہے ےہ مت کرو، ےہاں مت جاﺅ، گھر جلدی آجاﺅ، اس طر ح نہ بےٹھو ےہ سن کر بزرگ مسکرائے اور کہا بےٹی آپ نے کبھی لوہے کی دکان کے باہر ےا لوہے کے گودام مےں لوہے کی چےزےں پڑی دےکھےں ہےں ےہ گودام مےں سردی ، گرمی، برسات ، رات، دن، اسی طرح پڑی رہتی ہےں اس کے باوجود ان کا کچھ نہےں بگڑتا او ر ان کی قےمت پر بھی کوئی فرق نہےں پڑتا لڑکوں کی کچھ اس طرح حثےت ہے معاشرئے مےں اب آپ چلو اےک سنار کی دکان مےں اےک بڑی تجوری اس مےں اےک چھوٹی تجوری اس مےں رکھی چھوٹی سندر سی ڈبی مےں رےشم کے کپڑئے پر نزاکت سے رکھا چمکتا ہےرا کےونکہ جوہری جانتا ہے کہ اگر ہےرئے مےں ذرا سی بھی خراش آگئی تو اس کی قےمت وہ نہےں رہے گی جو ہے اسلام مےں بےٹےوں کی اہمےت بھی کچھ اس طرح کی ہے جھلملاتے ہےرئے کی طرح پورئے گھر کو روشن کرتی بےٹی کے کردار پر ذرا سی خراش سے اس کے اور اس کے گھر والوں کے پاس کچھ نہےں بچتا بس ےہی فرق ہے لڑکےوں اور لڑکوں مےںکاش ےہ بات سمجھ آ جائے اُن عقل سے عاری چند عورتوں کو جو عورت خواہ وہ ماں کے روپ مےں ہو ےا بےٹی کے بہن کی شکل مےں ہو ےا بےوی کے ہر صورت مےں گھر کا تاج ہوتی ہےں پتہ نہےں کےوں وہ اس تاج کو پاﺅں مےں دےکھنے کی خواہش مند ہےں عورت کسی بھی روپ مےں ہوقربانی ، صبر، حوصلے،پےار، اےثار اور محبت کا دوسرا نام ہے ہر انسان سب سے زےادہ اپنی ماں سے محبت کرتا ہے خواہ وہ مےں ہو ںےا آپ ہر گھر مےں سب سے لاڈلی بہن ہوتی ہے سب سے قابل بھروسہ رشتہ بےوی کا ہوتا ہے ماں ،بہن اور بےوی ےہ سب عورتےں ہی ہےں مےں ےہ مانتا ہوں اسلام نے جو حقوق عورتوں کو دئےے ہےں اس ملک مےں اُن کو نہےں مل رہے اور جو ےہ حقوق غضب کر رہے ہےں وہ ذہنی پسماندگی کا شکار ہے لےکن جو کچھ وومن ڈئے کی آڑ مےں کےا گےا وہ عورتوں کی تذلےل تھی اگر وہ عورتوںکی تعلےم کے لےے آواز اُٹھاتی، اسلامی قوانےن کی روشنی مےں عورتوں کے لےے وراثت مےں حصہ مانگتی تو مےر ی آواز بھی اُن کی آواز مےں شامل ہوتی لےکن وہ مانگ کےا رہی تھی بے پردگی اور آوارگی جس پر صرف آفسوس ہی کےا جا سکتا ہے اُنھوں کے ہا تھوں مےں تھامے گئے پلے کارڈز پر جو تحرےرےں درج تھی اُن کو ےہاں لکھتے ہوئے بھی شرم آتی ہے اگر اُن کو اُس طرح کی آزادی چاہےے جس مےں بچے کو پتا ہی نہ ہو کہ اُس کا باپ کون ہے، اگر اُن کو اُس طرح کی آزادی چاہےے جس مےں باپ بےٹی سے ےہ بھی نہ پوچھ سکے کہ آپ رات کو لےٹ کےوں گھر آئی ہےں تو اس کو آزادی نہےں بے غےرتی کہتے ہےںاس معاشرئے مےں عورتوں کو عزت ملتی ہے لےکن اُن کو جو آزدی اور آوارگی مےں فرق سمجھتی ہےں جس کی زندہ مثال محترمہ بے نظےر بھٹو ، ارفعہ کرےم رندھاوا ، مرےم مختار، عافےہ صدےقی اور رتھ فاﺅ ہےں آٹھ مارچ کو مچاےا جانے والا طوفانے بدتمےزی اس ملک کے خلاف اےک سوچی سمجھی سازش تھی جس کے تدارک کے لےے ضروری ہے ہماری بےٹوےوں کی نظرمےں مثالی شخصےات حضرت فاطمہ ؓ اور حضرت خدےجہؓ ہوں نہ کہ کترےنہ کےف پاکستان کی آبادی کی بامشکل اےک فےصد خواتےن اس طرح کی آزادی کی متمنی ہو گی جس طرح کی آزادی ےہ آزاد پسند خواتےن چاہتی ہےںاس آزادی کے ساتھ بھی ان کے ذاتی مفادات وابستہ ہےں اگر ےہ خواتےن کے حقوق کے لےے اتنی ہی فکر مند ہوتی تو اُس دن لنڈئے کی لبرل ان خواتےن کے ہاتھوں مےں عافےہ صدےقی کی رہائی کے لےے بھی پلے کارڈ ہوتے جو اس صدی کی سب سے مظلوم عورت ہے حقوق تو عافےہ صدےقی کے بھی غضب ہوئے ہےں لےکن عافےہ صدےقی ان آزاد پسند خواتےن کی نظر مےں دہشت گرد ہے کےونکہ عافےہ صدےقی کو آزادی اور آوارگی کا فرق پتا ہے رات آدھی سے زےادہ گزر چکی ہے اس وقت مےرئے موبائل پر فوزےہ صدےقی کا مےسج آےا ہے جس مےں اُن کی اور اُن کی فےملی کی آنکھوں مےں سجے خوابوں کا اظہار ہو رہا ہے مےں چاہتا ہوں آپ بھی پڑھےں اور عافےہ صدےقی کی مشکلات کے خاتمے کے لےے دُعا کرےں
،،دعا کےجئے گا سولہ مارچ کو کوئی رکاوٹ نہ آئے رہائی کی بات سچ ثابت ہو حکمرانوں سے التجا ہے اتنی امےدےں دلا کر ماےوس نہ کرےں،،
جس صبر کا مظاہرہ عافےہ صدےقی نے اور جس استقامت کا مظاہرہ اُن کی فےملی نے کےا ہے امےد ہے جس بھنو رمےں وہ پھنس گئے تھے اُن کے صبر اور استقامت نے اُس بھنور کو مات دئے دی ہے سورہ اَلبقَرَة آےت نمبر 153
ترجمہ: اے لوگوں جو اےمان لائے ہوتم مد د مانگوصبر کے ذرےعے نماز کے ذرےعے بے شک اللہ تعالی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
آپ کو وہ خواتےن جو آٹھ مارچ کو دھماچوکڑی مچاتی ہوئی نظر آئی تھی آج کرائسٹ چرچ مےں شہادت پانے والوں کے حق مےں آواز اُٹھاتی نظر نہےں آئے گی حالانکہ کے اس سے بڑی دہشت گردی کےا ہو سکتی ہے نہتے ،امن پسند نماز پڑھتے لوگوں کے ساتھ ےہ سلوک اگر ےہ ہی حرکت کسی مسلمان نے کی ہوتی تو آج پاکستان مےں کچھ نام نہاد لبرل موم بتےاں جلا رہے ہوتے اور مرنے والوں کے غم مےں آنسو بہا رہے ہوتے لےکن اب اُنچاس لوگوں کی شہادت اور اڑتالےس زخمےوں لوگوں سے زےادہ اُن کو اپنی آزادی مقدم ہے اور ان کی نظر مےں مارنے والا انتہا پسند ےا شُوٹر تو ہو سکتا ہے دہشت گرد نہےں کےونکہ ان کی اور نظر مےںدہشت گرد تو صرف مسلمان ہے جو ان کی آزادی پر قدغن لگا کے بےٹھا ہے
سورہ اَلَانُفال آےت نمبر 45 اور46
اے اےمان والو جب کسی گروہ سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہا کرو اور اللہ کو خوب کثرت سے ےاد کرتے رہو، توقع ہے کہ( مقابلے مےں) تمہےں کامےابی نصےب ہو گی۔اور اللہ اور اُس کے رسولﷺ کی اطاعت کرتے رہو اور آپس مےں جھگڑا مت کرو ورنہ تم کم ہمت ہو جاﺅ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی صبر سے کام لو بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*