بنیادی صفحہ -> پاکستان کی خبریں -> پنجاب کے صوبائی علاقے میں لڑکے کو زیادتی نشانہ بناکر قتل کردیا گیا
زیادتی
زیادتی

پنجاب کے صوبائی علاقے میں لڑکے کو زیادتی نشانہ بناکر قتل کردیا گیا

لاہور (ویب ڈیسک) پنجاب کے علاقے چوہنگ میں پیش آئے شرمناک واقع جس میں 5 اوباشوں نے 16 سالہ لڑکے کو زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کردیا –
ذرائع کےمطابق : پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے چوہنگ میں 5 اوباشوں نے 16 سالہ لڑکے کو زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کردیا۔ پولیس کے مطابق 5 ملزمان چوہنگ کے علاقے معصوم شاہ کے 16 سالہ لڑکے نوید کو زبردستی ایک حویلی پر لے گئے۔
پانچوں ملزمان نے نوجوان کو زیادتی کا نشانہ بنایا جس کے بعد انہوں نے اسے قتل کردیا۔ ملزمان مقتول کی لاش حویلی میں ہی چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول لڑکے کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔
اس شرمناک واقع نے پوری قوم کو ہلا کر رکھا دیا ہے ہماری حکومت پاکستان سے اپیل ہے کہ اس طرح کے ملزمان کو سخت سے سخت سزا دی جائیں تاکہ کوئی بھی اس طرح کی حرکت کرنے سے پہلے 100 بار سوچے –

قصورمیں بچوں کیساتھ زیادتی کے واقعات میں بااثرافراد ملوث
لاہور(ویب ڈیسک): وفاقی محتسب سید طاہر شہباز نے کہا ہے 2008 کے مقابلے میں بچوں سے زیادتی کے واقعات میں 2018 میں سولہ عشاریہ دو فیصد اضافہ ہوا، 2017 کے دوران بچوں سے جنسی زیادتی کے 4139 واقعات رپورٹ ہوئے ، زیادہ واقعات پنجاب میں ایک ہزار 89 رپورٹ ہوئے، گزشتہ دس برس کےدوران قصور میں بچوں سے زیادتی کے 272 واقعات پیش آئے،ان واقعات میں با اثر لوگ ملوث ہیں اور یہ واقعات بڑھ رہے ہیں ۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاوفاقی محتسب نے وفاقی اداروں کیخلاف 2018ءکے دوران ستر ہزار سے زائد شکایا ت کے فیصلے کئے جن میں سے 94فیصد پر عملدرآمد بھی ہو گیا ہے، ایک فیصد کیخلاف نظرثانی کی اپیلیں کی گئیں ، 2019ءمیں پا کستان کے نصف اضلاع میں خود جاکر غریب لوگوں کو انکے گھر کی دہلیز پر انصاف فراہم کرینگے جبکہ وفاقی محتسب کے بارے میں لو گوں کی آگا ہی کیلئے سہ ما ہی سیمینار کرائے جا ئینگے ، شکا یا ت کے اندراج اور جلد ازالے کیلئے عنقر یب مو با ئل ایپ متعا رف کرا ئی جا رہی ہے، وفاقی محتسب نے کہا 2018ءمیں بچوں کیخلاف 240 شکایات موصول ہوئیں، قصور میں بچوں کیساتھ زیادتی کے واقعات کو ما نیٹر کرنے کیلئے خصوصی سنٹر بنا یا گیا ہے ، 2018 میں70,713 شکا یات میں سے صرف8 کا فیصلہ ساٹھ دن میں نہیں ہو پایا ،انہوں نے کہا ادارہ جاتی سطح پر شکایات ازالے کیلئے 247 اداروں میں فوکل پرسن مقررکئے گئے ہیں، 125 ادارے شکایات نمٹا نے کیلئے ہما رے کمپیوٹرائزڈ سسٹم سے منسلک ہو گئے ہیں جبکہ 20 ادارے ہمارے مربوط نظام کیساتھ منسلک ہیں ، مختلف سر کاری اداروں کے نظام کی اصلا ح کیلئے بھی متعدد کمیٹیاں بنائی گئیں، ملک کے تمام انٹرنیشنل ائر پورٹس پر ون ونڈو ڈیسک قا ئم کر دئیے گئے ہیں انکے ذریعے 2018ءمیں 146,000شکا یات کو نمٹا یا گیا، 2018 کے دوران زیادہ شکایات بجلی کی کمپنیوں کیخلاف موصول ہوئیں ،لیسکو کیخلاف چودہ ہزار شکایات موصول ہوئیں تیرہ ہزار نوسو تراسی کو حل کیا گیا رواں سال 100 اداروں کیساتھ مربوط شکایات سیل بنایا جائیگا، وفاقی محتسب نے کہا دوہزار آٹھ میں قصور میں بچوں سے زیادتی کے واقعات کی شرح چھ عشاریہ دو فیصد تھی، گزشتہ سال بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات اڑھائی سو سے زائد واقعات وفاقی محتسب کو رجسٹرڈ ہوئے ، ان واقعات روکنے کیلئے آگاہی مہم کیساتھ دیگر اضلاع میں سنٹرز قائم کئے جائینگے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*