بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> مسلمان دہشت گردوں کے نشانے پر

مسلمان دہشت گردوں کے نشانے پر

راشدعلی
نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں نمازجمعہ سے قبل حملہ اور اس کی لائیو کوریج نے عالم اسلام کوبہت رنجیدہ کیا ،ایک صاحب نے سوال پوچھا اس دہشت گردی کے جواب میں اسلام پسندوں کا کیا ردِعمل ہوناچاہیے تومیں نے کہا جرم کرنے والے کو آئین اور قانون کے مطابق سزا دی جانی چاہیے ۔حملے کی وجوہات کا تعین اورسدباب ہونا چاہیے ۔کسی ایک فردکے جرم کی سزا سارے معاشرے یا اس کے مذہب سے متعلقہ افراد یا اس کی برادری سے جوڑنا انتہائی قابل نفرت عمل ہوگا۔البتہ انتہائی تحمل اوردانائی کامظاہرہ کرتے ہوئے اب دنیا پر واضح ہونا چاہیے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب ،قوم ،ملک نہیں ہوتا۔حقائق جاننے کے لیے ہمیں ماضی کی طرف لوٹنا ہوگا۔نائن الیون کی آڑمیں امریکہ اوراس کے اتحادیوں نے اہلیان اسلام پر دہشت گردی کا لیبل لگایا ۔ہرکلمہ گو کو دہشت قرار دیاگیا ۔دہشت گردی کے خاتمے کی بنیادپر معصوم اورنہتے کلمہ گومسلمانوں پر جنگ مسلط کی گئی ،اہل مغرب نے نفرت ،کدورت ،انتہاپسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت کا بیج بویا بدلے میں آج مغرب دہشت گردی کی فصل کاٹ رہا ہے ۔بدقسمتی سے اسلام پسندسفید فام نسل پرستوں کے نشانے پر ہیں ۔
سفیدفاموں کی دہشت گردانہ سرگرمیاں اب ڈھکی چھپی نہیں ہیں ۔2015 میں امریکہ کی جنوبی ریاست کیرولینا میں ایک سفید فام نے سیاہ فاموں پر حملہ کیا جب وہ چرچ میں دعائیہ عبادت میں مشغول تھے اس سفید فام کی فائرنگ سے 9افراد ہلاک ہوئے ۔میونخ کے شاپنگ پلازہ پر حملہ آور سفید فام تھا۔7اگست 2018کو دو سفیدفاموں نے ایک سکھ پر قاتلانہ حملہ کیا جس میں وہ محفوظ رہا ۔پٹس برگ کے کنیسہ میں 11افراد کو قتل کرنے والا رابرٹ سفید فام تھا۔امریکہ کی ریاست فلوریڈا کے سکول میں داخل ہوکر17افراد کو قتل کرنے والا نکولس کروز سفید فام دہشت گرد تھا۔امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر سین بومیں یوٹیوب کے آفس پر حملہ کرنے والی عورت سفید فام تھی ۔ٹورنٹوشہر میں راہگیروں کو اپنی گاڑی سے کچلنے والا دہشت گرد ایل لک سفید فام تھا۔امریکی شہر پٹس برگ میںیہودی عبادت گاہ پرحملہ کرنے والا اینٹی سیمٹک سفید فام تھا۔نیوزی لینڈمیں مسجد میں گھس کر 50مسلمانوں کو قتل کرنے والا دہشت گردی سفیدفام اسٹریلوی شہری تھا ۔اگلے ہی روز لندن میں ایک سفید فام نے مسجدکے باہر ایک مسلمان پر ہتھوڑے سے حملہ کردیا ۔اس سے ماقبل بھی ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں ،امریکہ میں اسلام سنٹرپر حملے میں سفید فام ملوٹ تھے۔
نیوزی لینڈ میں انتہا پسندی کا دردناک سانحہ اسلام فوبیا کی کڑی ہے ۔داعش ہو یا کوئی بھی انتہا پسند طاقت اسلام کے روشن چہرے کو مسخ کرنے کی ناکام کوشش میں ملوث نظر آتے ہیں مغربی میڈیا کا غلیظ پروپیگنڈہ اسلام کی ترویج واشاعت میں رکاوٹ نہیں بن سکتا یہ اتنا ہی ابھرے گا جتنادبایا جائے گا۔ آئندہ پچاس سالوں میں مغرب کا سب بڑا مذہب اسلام ہوگایہی وجہ ہے کہ مغربی سیکولر قوتیںاسلام پسندوں سے خوف ذدہ ہیں اور بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔البتہ عالم اسلام کو سامراجی قوتوں کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملانے کے لیے بھرپور حکمت عملی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔رہی بات مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر عالمی رہنماﺅں کا صرف مذمت پر اکتفا کرتے ہوئے اجنبیت کا مظاہرہ کرنا تو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسلام شروع ہوا غربت میں اور پھر غریب ہو جائے گا جیسے شروع ہوا تھا ۔شیخ ابن باز اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے رقمطراز ہیں ۔اس کا معنی یہ ہے کہ اسلام ابتداءمیں مکہ کے اندر اور ہجرت کے ایام میں مدینہ میں اجنبی تھا ،لوگ اسے جانتے نہیں تھے ، اس پرعمل کرنے والے بھی قلیل تعداد میں تھے ،پھر یہ دین اللہ کی مدد سے دنیا میں پھیلا ،اور لوگ فوج در فوج اس میں شامل ہوئے ،اور یہ دین باقی تمام ادیان و مذاہب پر غالب آگیا ،پھر ایک زمانہ آئے گا کہ ،دنیا میں یہ دین حق لوگ بھول جائیں گے ،اور ابتدا اسلام کی طرح ایک مرتبہ پھر یہ لوگوں کیلئے ۔۔اجنبی ۔۔بن کے رہ جائے گا،بہت کم لوگ اس کو جاننے ، ماننے والے رہ جائیں گے ،،،یہی ۔۔غرباء۔۔ہونگے۔مسلم کی روایت میں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے رسالت مآب سے پوچھا غرباءکون ہیں تو آپ نے فرمایا جب بگاڑ ہوگا وہ لوگوں کی اصلاح کریں گے۔
آئیے اب دنیا میں قتل عام کی وجوہات جاننے کی کوشش کرتے ہیں ،ہمارا مسلمہ عقیدہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی الہامی کتاب میں فرمایا بجا اوردرست فرمایا ۔قیامت کبری کی علامت میںسے ہے کہ زمین پر حرج عام ہوجائے گا۔آج ہم کھلی آنکھوں اس امر کا مشاہدہ کررہے ہیں کہ بین الاقوامی معاشرہ میں امن ناپید ہوچکاہے۔ کسی کی جان، مال، عزت اور آبرو محفوظ نہیں۔ہر شخص غیر محفوظ ہے۔امیر ہو یا غریب، افسر ہو یانوکر،خواص ہوں یا عوام، حد یہ کہ عالم ہو یا عامی، کسی کو جان کی امان حاصل نہیں ہے۔ ہر طرف عدم تحفظ کی فضا عام ہے۔ ہر کوئی اس خوف کاشکار ہے کہ کوئی اندھی گولی اس کی زندگی کا چراغ گل نہ کردے۔ انسانی جان پانی سے زیادہ سستی ہوچکی ہے۔ ذاتی و نفسانی مفادات کے لیے دوسرے انسان کی جان لے لینا سرے سے کوئی مسئلہ ہی نہیں رہا۔ حالاں کہ قرآن و حدیث کا سرسری مطالعہ بھی کیا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک انسان کی جان بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے اور جو اس معاملے میں اللہ کی بتائی گئی حد کو پامال کرتا ہے، اس کے لیے عنداللہ ذلت و رسوائی کا طوق تیار ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے” اورجو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے۔ جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اللہ اس پر غضب نازل کرے گا اور لعنت بھیجے گا اور اللہ نے اس کے لیے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے“کسی کو بلاجواز قتل کرنے والا پورے سماج اورمعاشرے پر ظلم وزیادتی کرتا ہے۔ وہ معاشرے کو انارکی کی طرف لے جاتا ہے۔ اس جرم عظیم کے باعث قاتل کی دنیوی اور اخروی زندگی تباہ ہوکر رہ جاتی ہے۔ اس سے سکون و چین چھین لیا جاتا ہے ۔اہل مغرب نے جس ظلم کی داغ بیل اپنے معاشرے میں ڈالی ہے انہیں اپنے ہی ہاتھوںسے اس فصل کو کاشت کرنا ہوگا۔یہ نفرت جو اہلیان اسلام کے خلاف پھیلائی گئی یہی نفرت ان معاشروں کو تباہ برباد کردے گی ۔نریندر مودی نے جس ڈھٹائی کے ساتھ پاکستان کو تنہاکرنے کی سازش کی ہے اسے اس بدنیتی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ انتہاپسنددوول نے پاکستان میں جس نفرت کو پروان چڑھانے کی لیے زر صرف کیا اب اسے وہ نفرت اپنے ہی وطن بالخصوص آر ایس ایس کے غنڈوں میں نظر آئی گی ۔یہ میں کوئی پیشین گوئی نہیں کررہا ہے بلکہ یہ حقیقت ہے ۔انسان جو بیجتا ہے اسے کاٹتا بھی ہے ۔ہم نے بحثیت قوم تحمل اوربردباری سیکھی ہے ۔خطائیں اورغلطیاں بہت ساری ہوسکتی ہیں مگر مجموعی اعتبار سے پاکستانی قوم انتہائی تحمل مزاج اورحقائق پسندہے ۔ہماری قوم ہمیشہ ریاست کے ساتھی کھڑی ہوتی ہے اب یہ ریاست کا مسئلہ ہے کہ وہ قوم کو کہا ں لے جانا چاہتی ہے ۔اسلام سے محبت ہمارے سینوں میں ہے اورکیوں نہ ہویہ ریاست قائم ہی اسلام کی بنیاد پرہوئی ہے ۔اس ریاست کا چپہ چپہ مسجدکی حیثیت رکھتا ہے ۔لاکھوں شہیدوں کا خون اس کی بنیادوں میں ہے ۔سانحہ نیوزی لینڈمسجدمیں پاکستانی سپوت نے سفیدفام دہشت گرد کا بہادرانہ انداز سے مقابلہ کیا اور اللہ کی راہ میں قربان ہوا ۔پوری قوم شہداءکے درجات کی بلندی کے لیے دعاگوہے اور لواحقین کے غم میں برابرکی شریک ہے ۔امیدکی جاتی ہے کہ مسلم حکمران ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسلام مخالف قوتوں کو شکست دیں گے۔اوردنیا کو امن کا گہوارہ بنائیں گے۔نفرت کسی مذہب ،نسل ،گروہ سے نہیں کی جاتی بلکہ اس گناہ سے کی جاتی ہے جومعاشرہ میں پروان چڑھ رہا ہو۔تمام سفیدفام دہشت گرد نہیں ہیں ،دہشت گرد کسی بھی معاشرہ میں کسی بھی گروہ سے ہوسکتاہے ۔دہشت گرد کا کوئی مذہب ،نسل اورقبیلہ نہیں ہوتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*