بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> حکومتی اقدامات اورنیشنل ایکشن پلان کی حقیقت

حکومتی اقدامات اورنیشنل ایکشن پلان کی حقیقت

راشدعلی
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے ۔معیشت کو درست پٹری پر چڑھانے کے لیے ناکافی اقدامات کیے جارہے ہیں سرکلرڈیٹ بڑھتا جارہا ہے ۔صرف کے الیکٹرک 92ارب کا نادھندہ ہے ۔وہ حکومت جو 90دنوں میں کرپشن کے خاتمے کا دعویٰ کررہی تھی ،کرپشن مافیے کے ہاتھوں چاروں شانے چت نظر آتی ہے ۔علماءپابند سلاسل ہیں ۔تحریک لیبیک کے ذمہ داران اورکارکنان کو کس جرم کی پاداش میں نظر بندکیا گیا ہے کوئی سوال پوچھنے والا نہیں ہے ۔اگر کوئی کہے کہ ملک بندکرنے کی وجہ سے دھرنا تھا تو یہی کام تو حکومت بھی کیا کرتی تھی ،خاں صاحب تو کنٹینر پر چڑھ کر معاشی بائیکاٹ کا نعرہ لگاتے اورملک جام کرنے کا اعلان کیا کرتے تھے ۔یہ کیسا نیا پاکستان ہے جہاں جرم اپنے لیے جائز دوسروں کے لیے ناجائز ہے ۔اگر یہ جرم تھا تو پی ٹی وی پر حملہ آوروں اوراسلام آباد دھرنا کے ذمہ داروں کو بھی پابندسلاسل ہوناچاہیے ۔اسلامی فلاحی ریاست میں انصاف سب کے لیے برابر تھا ۔
پلوامہ حملہ کے بعد پیدا شدہ حالات کے بعد حکومت نے ایف ٹی اے ایف کو جواز بنا کر وطن عزیز میں محب وطن لوگوں کے خلاف کریک ڈاﺅن شروع کردیا ہے ۔مدارس پر حکومتی بورڈ اویزاں کیے جارہے ہیں ،مساجد کو محکمہ اوقاف کے سپرد کیا جارہا ہے ۔سامان کی فہرستیں بنائی جارہی ہے ۔تحصیل داروں کے ذریعے بڑے بڑے مذہبی اداروں کو چلانے کے اقدامات کیے جارہے ہیں ۔علماءپر ان کی مساجد میں جمعتہ المبارک کا خطبہ نہ دینے کے لیے پلاننگ کی جارہی ہے ۔بھارتی میڈیا واویلا کررہا ہے کہ مودی کی دبنگ اورجارحانہ مزاج کی وجہ سے پاکستانی حکومت لیٹ گئی ہے ۔کریک ڈاﺅن شروع ہوگیا ہے ۔خود کو ازخود دہشت گرد باور کرانے کی نامکمل کوشش کی جارہی ہے ۔سابقہ حکومت کے پاس وزیرخارجہ ہی نہیں تھا ہم بین الاقوامی دنیا کو اپنے اقداما ت کی بابت احسن طریقہ سے اگاہ نہ کرسکے ۔موجودہ حکومت کے پاس معاملہ فہمی کا فقدان واضح نظرآرہا ہے ۔نیشنل ایکشن پلان پر عمل ہوناچاہیے پوری قوم یہی چاہتی ہے ۔ہمارے حکومتی وزراءسمجھتے ہیںکہ پکڑ دھکڑ وقت کی ضرورت ہے ملک کو بدترین معاشی صورتحال کا سامناہے ۔
پوچھنا چاہتا ہوں وطن عزیز کو بدترین معاشی صورتحال میں دھکیلا کس نے ہے ۔وطن عزیز پر سالہاسال سے سیاست دان اور جرنیل حکومت کرتے آرہے ہیں ۔یہی اس معاشی بہران کے ذمہ دار ہیں ۔قومیں بدریج بنتی ہیں ،انقلاب آہستہ آہستہ آتا ہے ۔جہاں مصمم عزم کا فقدان ہو ،مصلحت حقیقت پر غالب آئے سمجھ لی جئے سمت درست نہیں ہے ۔یہاں انقلاب بھی نہیں آئے گا۔
جماعت الدعوہ اورفلاح انسانیت فاﺅنڈیشن بہترین اورمنظم لوگوں کی جماعت ہے ۔اقوام متحدہ فلاح انسانیت فاونڈیشن کو بہتر ین سماجی خدمات بالخصوص زلزلہ زدگان کی فلاح وبہبود کے حوالے سے اعترافی لیٹر جاری کرچکی ہے ۔یہ حقیقت کسی بھی شخص اورصاحب اقتدار سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ۔ان کے خلاف کسی تھانے میں کوئی مقدمہ درج نہیں ہے ۔جہاں بھی قدرتی آفت آتی ہے یا کوئی بھی حادثہ ہو یہ اللہ تعالیٰ کے بندے انسانوں کی رہنمائی اورفلاح وبہبود کے لیے ہر اول دستہ کا رول پلے کرتے ہیں ۔فائر برگیڈ کا محکمہ ہو یا انہار، سیلاب ہو یا زلزلہ زدگان کی امداد ان کی خدما ت قابل تحسین ہیں ۔پہاڑ ہوں یا ریگستان ایف آئی ایف کے نوجوانوں نے ہمیشہ عمدہ کردار ادا کیا ہے ۔پھر ہم سب اگاہ ہیں کہ ایف آئی ایف سے جڑے لوگ کسی بھی منفی سرگرمی کا کبھی حصہ نہیں رہے ۔مزید یہ کہ یہ سینکڑوں پر مشتمل جماعت نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں سے وابستہ ارض پاک سے محبت کرنے والوں اور وطن عزیز پر قربان ہونے والوں کی جماعت ہے ۔
حکومت اس تنظیم سے وابستہ ہزاروں لوگوں کو بے روز گار کرنا چاہتی ہے تویہ کوئی درست اقدام نہیں ہے ۔اگر حکومت ایف آئی ایف کو ختم ہی کرنا چاہتی ہے تو کم ازکم ریاست کا یہ فرض ہے کہ تمام ڈرائیورز کو 1122میں نوکریاں دے ۔ تعلیمی یافتہ اساتذہ کو سرکاری جابز ، انجینئرز کو ملازمتیں فراہم کرے۔اس سے بڑھ کر ان کی خدمات کا سہارا لیتے ہوئے ان کی خدمات سے فائدہ اٹھایا جائے ۔ ریاست اپنی قوت کو ضائع نہیں کرتی بلکہ اس سے فائدہ اٹھاتی ہے ۔
رہی بات وزراءکے موقف کی کہ دباﺅ نہیں ہے تویہ کھلا جھوٹ ہے ۔یہ سب کچھ بیرونی آقاﺅں کے دباﺅ کی وجہ سے ہی ہورہا ہے ۔ورنہ لبنان کو ہی دیکھ لیجئے حزب اللہ پر پابندی لگوانے کے لیے اسرائیل تمام جتن کرتاہے ۔لبنانی حکومت بین الاقوامی دنیا کے پریشر کو جوتے کی نوک پر بھی نہیں رکھتی ۔ساری دنیا کو معلوم ہے کہ بھارتی قابض افواج جموں کشمیر میںانسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کررہے ہیں کیا کوئی بھارتی افواج کو دہشت گرد قرار دلوا سکتاہے ۔ساری دنیا جانتی ہے کہ مودی گجرات کا قصاب ہے ۔قتل وغارت گری کر کے ،اقلیتوں کا خون بہا کر اقتدار کی راہ ہموار کرتاہے سانحہ حکومت گجرات کے بعد مودی جی پر امریکہ جانے پر پابندی تھی اس کے باوجود جیسے ہی مودی جی وزیراعظم بنے امریکہ نے اپنی گود میں بٹھالیا ۔ساری دنیا جانتی ہے کہ بھارت میں اقلیتوں پر شب خون مارا جاتاہے ۔عورتوں کی عصمت دری کی جاتی ہے ۔دلتوں اورمسلمانوں پر آوازے کسے جاتے ہیں ۔بین الاقوامی دنیا خاموش رہتی ہے ۔
آر ایس ایس کی 90ہزار سے زیادہ شاخیں ہیں ۔اقلیتوں کاخون بہانا بھارت کو ہندو سٹیٹ ڈکلیئرکروانا اس کا ماٹو ہے ۔کیا بین الاقوامی دنیا آر ایس ایس کو دہشت گر د قرار دے سکتی ہے ۔ امریکہ پاکستان کو افغانستان میں ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا کرتامگر جب بات آئی مذاکرات کی توطالبان کے سامنے بیٹھ گیا ؟ اگر پاکستان ذمہ دار تھا تو مذاکرا ت تو پاکستان سے ہی کرنے چاہیے تھے کیوں امریکہ طالبان کے سامنے بیٹھا ۔حقیقت سادہ سی ہے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے پاکستان کا نام لیا جاتا تھاتاکہ دنیا کو یہ باور کرایاجاسکے کہ سپرپاور کہاں طالبان کے ہاتھوں رسوا ہوا ہے ۔ایسا ہی کچھ حال بھارت کا ہے ۔پاکستانی بارڈر پر جدید تارے نصب کرنے ،کیمرہ لگانے کے باوجود در اندازی کا ڈھول پیٹتا ہے ۔اپنی سکیورٹی ناکامیاں چھپانے کے لیے الزامات پاکستان پر لگاتا ہے ۔اب توبھارت میں آوازیں بلند ہوناشروع ہوگئیں ہیں کہ پٹھان کوٹ ،اُوڑی ،اورپلوامہ حملے کے پیچھے بھارتی راج حکومت کا کردار تھا ۔معلوم نہیں پاکستان حکمران کب ہوش کے ناخن لیں گے ۔یہ کھلی حقیقت ہے کہ مذہبی جماعتوں نے ہمیشہ پاکستان کی خاطر قربانیاں دیں ۔وطن عزیز کو نقصان اسلام پسندوں نے نہیں سیاست دانوں اورڈکٹیٹرزاوربیوروکریٹس نے پہنچایا ۔خود قوم کے سپوتوں کو وطن عزیز کے مفاد میں کھڑا کیا اورخود ہی انہیں پابندسلاسل کیا یہ رویہ ختم ہوناچاہیے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانا چاہیے ۔پاکستان کا ہرشہری خواہ وہ کسی بھی مکتب فکر سے تعلق رکھتا ہے وہ قابل احترام اورقابل عزت ہے ۔ہر سیکولر اتناہی محب وطن ہے جتنا اسلام پسند ،پاکستان کا ہرشہری محبت وطن ہے خواہ وہ مسلمان ہویا غیرمسلم ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*