بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> حویلیاں طیارہ حادثہ کی تحقیقاتی رپورٹ۔۔کیا سیکھا؟
تحقیقاتی رپورٹ
تحقیقاتی رپورٹ

حویلیاں طیارہ حادثہ کی تحقیقاتی رپورٹ۔۔کیا سیکھا؟

حویلیاں طیارہ حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پی آئی اے مرمتی شعبے کو حادثے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، رپورٹ میں طیارے میں اہم تکنیکی خرابیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ہزار گھنٹے کے بعد ٹربائن بلیڈز کی تبدیلی لازم ہے، طیارے کے مذکورہ انجن کی مرمت 11 نومبر 2016 کو کی گئی، مرمت ہونے کے وقت تک بلیڈز 10 ہزار 4 گھنٹے پورے کرچکے تھے، مرمت کے وقت ٹربائن کے بلیڈز تبدیل کیے جانے تھے جو کہ نہیں کیے گئے، مرمت کے بعد حادثے کے وقت تک مذکورہ جہاز 93 گھنٹے مزید پرواز کر چکا تھا۔بلاشبہ اگر تحقیقاتی رپورٹ پی آئی اے کے متعلقہ شعبوں کی نااہلی کو بیان کر رہی ہے جبکہ اسکے علاوہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے نگرانی و معائنے کے معیار پر بھی سوالیہ نشان ہے۔اب سوچنا ہوگا کہ اس سانحے کی رپورٹ سے ہم نے کیا سیکھا ؟ کیا کمی تھی ؟ اور کہاں کوتاہی؟ اور ہمارے کردار میں خامی؟اب لازم ہے کہ پی آئی اے کو چاہیے کہ اپنے تمام جہازوں کی مرمت سے متعلق قواعد پر سختی سے عمل کرے، اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے ٹھوس اقدامات کرے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*