بنیادی صفحہ -> تعلیم -> انسان کو مضبوط بنانے والا روبوٹک لباس
مضبوط
مضبوط

انسان کو مضبوط بنانے والا روبوٹک لباس

لاہور(ویب ڈیسک) ماہرین نے ایک اور کامیابی حاصل کرلی – انسان کو مضبوط بنانے والا لباس تیار کرلیا جو انسان کو 20 گنا تک مضبوط بناتا ہے – جس کے بعد 100 پونڈ وزن اٹھائے تو وہ پانچ پونڈ وزنی معلوم ہوگا-
وہ وقت قریب ہے جب نحیف انسان 200 پونڈ (90 کلوگرام) وزن اٹھاسکیں گے اور مزدور ایک وقت میں دگنا یا تین گنا وزن اٹھانے کے قابل ہوجائیں گے۔ سالٹ لیک امریکا میں واقع سارکوس کمپنی نے یہ روبوٹک لباس (ایکزو اسکیلیٹن) بنایا ہے جو پہننے والے کو 20 گنا مضبوط بناتا ہے۔ روبوٹک لباس کا نام ’گارجیئن ایکس او میکس‘ رکھا گیا ہے جو بیٹری سے چلنے والا دنیا کا پہلا روبوٹ نظام ہے جسے پورے بدن پر پہنا جاسکتا ہے۔ کمپنی کو اس کے آرڈرملنا شروع ہوگئے ہیں اور 2020ء تک اس کی فروخت شروع ہوجائے گی۔ روبوٹک لباس میں سب سے بڑا چیلنج چھوٹی بیٹری کو جوڑ کر روبوٹ لباس بنانا تھا کیونکہ تار سے جڑنے کے بعد پہننے والا بجلی کے ساکٹ کا محتاج ہوجاتا ہے اور آزادانہ گھوم پھر نہیں سکتا اسی کی تعمیر میں انجینئرز کو کئی سال لگے۔ اب ایک بار بیٹری چارج کرنے سے لباس 8 گھنٹے تک کام کرتا ہے اور خالی بیٹریوں کو بڑی آسانی سے چارج شدہ بیٹریوں سے بدلا جاسکتا ہے۔ پہننے والا جب وزن اٹھاتا ہے تو اسے وزن کے بیسویں حصے کا احساس ہوتا ہے یعنی کوئی 100 پونڈ وزن اٹھائے تو وہ پانچ پونڈ وزنی معلوم ہوگا، اب تک سارکوس نے اس نظام کی قیمت نہیں بتائی ہے۔ اسی طرح مزدور بہت سہولت سے 200 پونڈ وزن اٹھاسکتا ہے تاہم اس سے زائد میں لباس کا توازن خراب ہوسکتا ہے۔ 2020ء میں پہلا روبوٹ لباس سامنے آجائے گا اور اب اس دوڑ میں ایل جی اور فورڈ سمیت کئی کمپنیاں شامل ہیں۔

چین کے خلائی جہاز نے تاریخ رقم کردی
لاہور(ویب ڈیسک ) چین کے خلائی جہاز نے چاند کے عقبی حصے میں کامیاب لینڈنگ کرکے تاریخ رقم کردی –
ذرائع کے مطابق : بین الاقوامی میڈیا کے مطابق چینی خلائی ایجنسی کا روبوٹ جہاز ’چینگ 4 مشن‘ چاند کے ’تاریک حصے‘ میں اترنے والا پہلا جہاز بن گیا ہے۔ چاند کی اس سطح کو تاریک پہلو اس لیے کہا جاتا ہے کہ اسے پہلے کبھی دیکھا نہیں گیا تھا اور ‘تاریک’ کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں روشنی نہیں ہوتی۔ چینگ فور چاند کے قطب جنوبی-ائیٹکن بیسن پر اترنے میں کامیاب ہوا جسے چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے ‘خلابازی کی تاریخ کا اہم قدم’ قرار دیا ہے۔ ماضی میں چاند پر جانے والے مشن اس حصے میں گئے تھے جو زمین کے رخ پر ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے جب کوئی جہاز چاند کی پچھلے حصے میں گیا ہو۔ چینی خلائی گاڑی مخلتف قسم کے آلات سے لیس ہے جو چاند کی ارضیاتی خصوصیات جانچنے کے علاوہ حیاتیاتی تجربہ بھی کرے گی۔ واضح رہے کہ ہم زمین سے چاند کا صرف ایک رخ دیکھ سکتے ہیں کیونکہ چاند کی اپنی محوری گردش میں اتنا ہی وقت لگتا ہے جتنی دیر میں وہ زمین کے گرد چکر لگاتا ہے جبکہ چاند کے دونوں جانب دن اور رات کا وقت یکساں ہوتا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*