بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر

لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر

لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر
صفدر علی حیدری
چنی گوٹھ اسٹیشن پر ٹرین کی تین تباہ حال اور جلی ہوئی بوگیاں اپنی بربادی کی دکھ بھری داستان سنا رہی ہیں۔ ایک دو نہیں شیخ صاحب کے دور وزارت میں یہ ساتواں بڑا حادثہ ہے۔ جبکہ کل ملا کر سو حادثے ہو چکے? جن میں سو سے زائد افراد اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں۔ کتنی ڈھٹائی سے شیخ جی پھر بھی فرما رہے ہیں کہ سب سے کم حادثات ان کے دور حکومت میں ہوئے ہیں۔
چنی گوٹھ اسٹیشن پر بوگیوں کی حالت دیکھتے ہیں تو رونا آتا ہے۔ بوگی جل کر خاکستر ہو گئی ہیں تو ان سینکڑوں افراد پر کیا بیتی ہو گی جو اس بد قسمت ٹرین میں سوار تھے اور آخری اطلاعات آنے پر چھہتر لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ اور اس تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے آج سے دو سال قبل پٹرول اکٹھا کرتے ہوئے دو سو سے زائد افراد زندہ جل مرے تھے۔ ابھی تو ان کا درد باقی تھا? ابھی تو اس قیامت خیز سانحے کی یاد باقی تھی کہ سرائیکی وسیب پر ایک اور قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ یہ سانحہ بھی تا دیر ہمیں رلاتا رہے گا۔ ٹی وی پر بار بار عمران خان کا بیان چلایا جا رہا ہے کہ ٹرین کا کوئی بڑا حادثہ ہو جائے تو سب سے پہلے ریلوے کا وزیر استعفی دیتا ہے تاکہ شفاف تحقیقات ہو سکیں۔ کپتان کا یہ مطالبہ سعد رفیق کے حوالے سے تھا اور یہ تب کی بات ہے جب آپ اپوزیشن میں تھے۔ لیکن آج جب کہ وہ حکومت میں ہیں تو انہوں نے شیخ جی کا استعفی مانگا نہ اس کا مطالبہ کیا۔ گویا ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور۔
حادثہ یہ ہے حادثہ درپیش ہے اور سانحہ یہ کہ حادثہ در حادثہ در حادثہ کے بعد بھی نہ غیر جانب دارانہ تحقیقات ہوتی ہیں نہ مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جاتی ہے اور نہ کوئی ایسا بندوبست کیا جاتا ہے کہ ہم پھر سے ایسے حادثات کا شکار نہ ہوں۔افسوس کبھی ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ میڈیا والے دو دن پروگرامز کرتے ہیں اور
” خلقت شہر تو کہنے کا فسانے مانگے ” کے مصداق کسی اور ایشو پر گرد اڑانے لگتے ہیں اور یوں ایک اچھا بھلا موضوع وقت کی گرد دھندلا دیا کرتی ہے۔ سچ کہتے ہیں کہ ناکامی کے کے کئی باپ ہوتے ہیں جبکہ کامیابی یتیم ہوتی ہے۔ اگر اتفاق سے ہم کسی بات یا کام میں کامیاب ہو جائیں تو اسے اپنی صلاحیتوں کا کمال کہتے ہیں جبکہ اپنی نااہلی و ناکامی کا ملبہ کسی اور سر تھوپ کر خود ہر ذمہ داری سے جان چھڑا لیتے ہیں۔ ابھی زیادہ عرصہ تو نہیں گزرا جب اسی علاقے میں ایک چلتی گاڑی اسٹیشن پر رکی گاڑی سے ٹکرا گئی تھی اور بہت سی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا تھا۔ اگر آئے روز وقوع پذیر حادثات پر تحقیقات کرا لی جاتیں تو آج ہم اس سانحے کا ہرگز شکار نہ ہوتے۔ عینی شاہدین کی اکثریت کے بقول یہ ہولناک آگ کسی مولوی کے چولہے سے لگی۔ ایک آدھ نے شارٹ سرکٹ کو اس وجہ بنا کر پیش کیا جس کا امکان بہت کم دکھائی دیتا ہے۔ ہمارے تبلیغی جماعت کے لوگ جہاں بھی جاتے ہیں اپنا سازو سامان ساتھ لے جاتے ہیں اور ان میں گیس کا چولہا ایک بنیادی و لازمی عنصر ہے۔ اب دیکھیں کہ یہ کتنی بڑی بد قسمتی ہے کہ ان کو روکا بھی گیا تب بھی وقتی طور پر بات مان لینے کے بعد بھی وہ اپنی ضد سے باز نہ آئے اور ایک معمولی سی غفلت نے سینکڑوں گھروں میں صف ماتم بچھا دی۔ ایک معمولی سی ضد ایک بہت بڑے انسانی المیے کا روپ دھار گئی۔ کاش ہم ایک قوم بن پاتے۔ اپنے انفرادی مفادات پر اجتماعی مفاد کو ترجیح دے پاتے تو ایسے کئی سانحے وجود میں آنے سے قبل دم توڑ جاتے۔
ہم ایک عرصہ سے یہ رونا روتے چلے آئے ہیں کہ ریلوے کا محکمہ مسلسل خسارے میں جا رہا ہے۔ ایک ایسا شعبہ جہاں انسانی جان کی کوئی قدر وقیمت نہ ہو۔ جہاں ایک بار سفر کرنے کے بعد آدمی یہ عہد کر لیتا ہو کہ ایسی غلطی پھر کبھی نہیں کرے گا۔ جہاں بد انتظامی اپنے عروج پر ہو وہاں ایسی ہی ابتری در آتی ہے جو ہم اکثر ان قومی اداروں میں دیکھ رہے ہیں جو مسلسل ابتری کا شکار ہیں۔ خدارا کمیٹی کمیٹی اور تحقیقات تحقیقات کھیلنا ترک کر دیں۔اگر آپ کچھ کر نہیں سکتے اور بہتری نہیں لا سکتے تو کم ازکم ابتری میں اپنا حصہ مت ڈالیں۔ شیخ جی مان لیجیے کہ میڈیا میڈیا اور چینل چینل کھیلنے کے بعد آپ اس قابل نہیں رہے کہ اتنی بڑی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھا پائیں۔ آپ اپنی زبان درازی سے ہی اپنے لیے بہت سی جگہ بنا لیتے اور سیاسی اکھاڑا جیت لیا کرتے ہیں۔ خدا را اب بس کر دیں۔ اس بے چاری قوم پر ترس کھائیں اور وہی کام کریں جو آپ کو آتا ہے۔ روزانہ کسی نہ کسی نیوز چینل پر تشریف لا کر بے پر کی اڑایا کریں۔ چینلز کی ریٹنگ بھی بڑھے اور آپ کے سیاسی نمبر بھی۔
قوم جائے بھاڑ میں کہ ان کی تو شاید قسمت اس شعر جیسی ہے
حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا
لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*