بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> خود پسندی یا اخلاص

خود پسندی یا اخلاص

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ
قارئین اکرام: آپکی خدمت میں ایک قومی روزنامے کے فرنٹ پیج پر چھپنے والی یہ سٹوری حاضر خدمت ہے ۔”گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے پی کے ایل آئی سے متعلق سابق چیف جسٹس ثابق نثار کے فیصلے کو واپس لیتے ہوئے ڈاکٹر سعید کو پاکستان کڈنی این لیور انسٹیٹیوٹ کے صدرکے عہدے پر بحال کر دیا ہے اور ان پر بیرون ملک جانے سے متعلق لگائی جانیوالی پابندی بھی اٹھا لی گئی ہے۔ صحافی بابر ستار نے ”دی نیوز“ میں آرٹیکل شائع کیا ہے جس میں انہوں نے پی کے ایل آئی کے صدر ڈاکٹر سعید اور سابق چیف جسٹس ثابق نثار کے درمیان ہونے والی ملاقات اور اس کے بعد ان کے خلاف ہونے والے سوموٹو سے متعلق کہانی بیان کی ہے اور اسی آرٹیکل کا حوالہ دیتے ہوئے صحافی وسیم عباسی نے ٹوئٹرپر پیغام جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مجھے یہ تمام تفصیل پہلے سے ہی معلوم تھی تاہم میں اس کو ڈاکٹر صاحب کی اجاز ت کے بغیر عوامی نہیں کر سکتا تھا تاہم 11 مارچ 2018ءسے پہلے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور پی کے ایل آئی کے بانی پروفیسرڈاکٹر سعید اور انکی اچھی سلام دعا تھی اور دونوں افراد ایک مشترکہ دوست کے گھر محفل میلاد پر بھی جاتے تھے۔وسیم عباسی کا کہناتھا کہ محفل میں ڈاکٹر سعید اور چیف جسٹس ثاقب گردوں کی فروخت کی غیر قانونی تجارت کو روکنے پر بات کرتے تھے۔ پھر وہ چیف جسٹس بن گئے۔ 11 مارچ کو ڈاکٹر سعید اور مشترکہ دوست فیملی کے ہمراہ چیف صاحب کے گھر میں دعوت پر گئے جہاں ثاقب نثار کے بھائی ڈاکٹر ساجد نثار بھی اچانک پہنچ گئے جو کہ سروسز ہسپتال میں فرائض انجام دے رہے ہیں۔ڈاکٹر ساجد نثار نے اپنے تعارف کے فورا بعد اپنے بھائی ثاقب نثار سے کہنا شروع کر دیا کہ بھائی جان ان سے پوچھیں کہ سرکاری ہسپتال سے پی کے ایل آئی میں تنخواہیں کیوں زیادہ ہیں؟ حیرت زدہ ڈاکٹر سعید نے واضح کیا کہ پی کے ایل آئی نے دنیا کے بہترین ڈاکٹرز کو تعینات کیا ان کی پرائیوٹ پریکٹس بند کی ہے اس لیے تنخواہ مناسب رکھی۔وسیم عباسی کے مطابق ڈاکٹر ساجد نثاربولتے رہے اس دوران ڈاکٹر سعید نے جواب دیا تو چیف صاحب خود کھڑے ہو گئے اور غصے میں تقریباً چیختے ہوئے فرمایا کہ میں چیف سیکریٹری اور ہیلتھ منسٹر سے بات کرتا ہوں، بس پھر کیا تھا محفل ادھوری چھوڑ کر ڈاکٹر سعید واپس آ گئے اور ایک ہفتے کے بعد پی کے ایل آئی کیخلاف سو موٹو ایکشن ہو گیا۔دوسری جانب صحافی ”بابر ستار“ نے دی نیوز میں لکھے گئے آرٹیکل میں کہا کہ یہ سب اس وقت شروع ہوا جب ثاقب نثار نے ہسپتالوں کے دورے کرنا شروع کیے اور صحت کے شعبے میں اصلاحات کا کام شروع کیا اور انہوں نے پانی کے معاملے کی طرف بھی توجہ دلائی تاہم 24 مارچ 2018 ءکو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے پی کے ایل آئی کے ڈاکٹرز کو سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹرز سے زائد تنخواہیں دینے کے معاملے پر سو موٹو لیا۔پی کے ایل آئی کے صدر ڈاکٹر سعید نے امریکہ میں ٹیکساس ٹیک ہیلتھ سائنسز سینٹر میں بطور چیئرمین ڈپارٹمنٹ آف یورولوجی کے بہترین کامیابی حاصل کی اور انہوں نے پاکستان آکر اپنے ملک کیلئے خدمات صرف کرنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ شفا انٹرنیشنل میں ڈائٹریکٹر ٹرانسپلانٹ سرجری کام کرتے ہوئے انہیں خیال آیا کہ کیوں نہ ایسا ادارہ قائم کیا جائے جو کہ فنڈنگ کے ذریعے چلایا جائے لیکن اس میں سہولیات بالکل پرائیوٹ جیسی ہوں کیونکہ یہ بہت تکلیف دہ بات ہوتی ہے جو کہ زندگی بچانے والا علاج چاہتے ہیں لیکن اس کے اخراجات برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ڈاکٹر سعید کا خیال تھا کہ ایسا سٹیٹ آف دی آرٹ عوامی ادارہ بنایا جائے جو کہ ان کا علاج بھی کرے جو اس کے اخراجات برداشت کر سکتے ہیں اور غریبوں کا بھی علاج ہواوراس پر حکومت سبسڈی دے۔ڈاکٹر سعید اختر نے یہ منصوبہ ان لوگوں کے سامنے رکھا اس پر غور کریں کہ پاکستان میں اس قسم کے ماڈل کے ہسپتال کی ضرورت ہے جہاں فنڈ ریاست کی جانب سے فراہم کیے جائیں لیکن اس میں بیوروکریٹس اور انتظامی مداخلت نہ ہو۔اس منصوبے کی باز گشت سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف تک پہنچی اور انہوں نے اس کی اہمیت سمجھی کہ دراصل ڈاکٹر سعید اختر کس قسم کا ادارہ قائم کرنا چاہتے ہیں اور اس طرح یہ پی کے ایل آئی ہسپتال وجود میں آیا۔ تاہم 11 مارچ 2018 کا دن آیا جس دن ڈاکٹر سعید اختر اپنے ایک مشترکہ دوست کے ہمراہ چیف جسٹس کے گھر گئے تاہم وہاں پر گردوں اور جگر کی غیر قانونی پیوندکاری کو روکنے سے متعلق بات چیت ہوئی تاکہ عطیہ کرنیوالوں کی زندگیوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔تاہم یہ ملاقات اس وقت یو ٹرن لے گئی جب ثاقب نثار کے بھائی آئے اور انہوں نے کہا کہ بھائی جان ان سے پوچھیں کہ سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹروں سے زائد تنخواہیں پی کے ایل آئی میں کیوں دی جارہی ہیں تاہم اس دوران چیف جسٹس غصے میں آ گئے اور انہوں نے کہا کہ میں اس پر سو موٹو لوں گا تاہم اس دوران ڈاکٹر سعید اختر اور ان کی اہلیہ نے حالات کو بھانپا اور وہاں سے چلے جانا ہی بہتر سمجھا تاہم اس کے ایک ہفتے کے بعد پی کے ایل آئی پر سوموٹو نوٹس ہو گیا۔جس کے بعد ڈاکٹر سعید کا نام ای سی ایل پر ڈال دیا گیا اور ان کے بورڈ کو معطل کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کمیٹی قائم کر دی جبکہ ڈاکٹرز کو زائد تنخواہیں دینے پر فرانزک آڈٹ کا بھی حکم دیا گیا۔تاہم گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے فیصلے کو واپس لے لیا ہے اور ڈاکٹر سعید اختر کو عہدے پر بحال کرتے ہوئے پابندیاں بھی اٹھا لی ہیں۔اب سول یہ پیدا ہوتا ہے کہ ماہر امراض جگر جناب ڈاکٹر سعید اختر کو جس ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑا اُس کا ذمہ دار کون ہے؟ سابق چیف جسٹس کو جسطرح سماج میں نفرت کا نشان بنایا گیا اُس سے اُن کی فیملی کی کیا حالت ہوگی؟ سابق چیف جسٹس نے اگر اخلاص کے ساتھ یہ والا سو موٹو لیا لیکن اِس کے پیچھے کہانی تو کوئی او ر ہی نکلی ہے۔ کیا چیف جسٹس صاحب نے اپنی ذاتی تسکین کے لےے ایک ایسی شخصیت کو معاشرے میں بے عزت کردیا جو کہ اپنے وطن کی خاطر سب کچھ چھوڑ چھاڑ پاکستان آیا تھا۔ چیف جسٹس کے ڈاکٹر سعید اختر کے خلاف اُٹھانے جانے والے اقدامات کو اُن کی چیف جسٹس صاحب کی نکوری سے فراغت کے بعد ختم کردیا ہے تو اِس کا کیا مطلب ہے۔ اِس طرح جناب سابق چیف جسٹس نے جو دیگر سو مو ٹو لیے تھے اُن کے متعلق اب کیا رائے قائم کی جاسکتی ہے۔ اللہ پاک پیارے وطن اپنا خاص کرم فرمائے آمین۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*