بنیادی صفحہ -> اہم خبریں -> احتساب عدالت نے شہبازشریف کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھجوادیا
عدالتی ریمانڈ

احتساب عدالت نے شہبازشریف کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھجوادیا

لاہور(ویب ڈیسک): احتساب عدالت نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب اوراپوزیشن لیڈرشہبازشریف کی آشیانہ ہاؤسنگ کیس میں پندرہ روزہ ریمانڈ میں توسیع کی درخواست مسترد کرکے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھجودیا ہے. تفصیلات کے مطابق کے مطابق نیب نے لیگی صدرکو ریمانڈ میں پندرہ روزکی توسیع کے لیے احتساب عدالت میں‌پیش کیا لیکن عدالت نے ریمانڈمیں توسیع کی درخواست مسترد کرکے شہبازشریف کو جیل بھجوادیا ہے. نیب نے عدالت میں مؤقف اختیارکیا کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب سے آشیانہ کیس میں ابھی تحقیقات جاری ہیں اس لیے مزید 15 روز کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے جس کی شہبازشریف کے وکیل نے مخالفت کی اوردلائل دیے کہ اب تک نیب میرے مؤکل کا 64 روزکا ریمانڈ حاصل کرچکاہے لیکن تفتیش سے کیا حاصل ہواہے ابھی تک عدالت کو نہیں بتایا گیاجوکہ غیر قانونی ہے. عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد مختصرفیصلے میں پاکستان مسلم لیگ ن کے صدرشہبازشریف کو جیل بھجوانے کا حکم دیدیاہے.

اعظم سواتی کا معافی نامہ مسترد، آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت کاروائی کا فیصلہ
لاہور(ویب ڈیسک): سپریم کورٹ آف پاکستان میں وفاقی وزیربرائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اعظم سواتی کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی. چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں بنچ نے اعظم سواتی کا معافی نامہ مستردکردیا اورآرٹیکل 62 ون ایف کے تحت کاروائی کا حکم دیدیا ہے. اعظم سواتی کے خلاف 62 ون ایف کے تحت ٹرائل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوگا. چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے آئی جی اسلام آباد تبادلہ ازخودنوٹس کی سماعت کی،وفاقی وزیر اعظم سواتی نے جمع سپریم کورٹ میں جمع کرادیا تھا،چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے رپورٹ پڑھ لی ہے،اعظم سواتی کیخلاف آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ٹرائل ہوگا،صرف یہ بتا دیں کہ آپ ٹرائل کس سے کرانا چاہتے ہیں؟۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ حاکم ہیں،محکوم کےساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں؟بھینس دراصل آپ کے فارم ہاؤس میں داخل ہی نہیں ہوئی، بچوں اور خواتین کو اٹھا کر جیل میں ڈال دیا گیا، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آئی جی صاحب آپ نے اب تک اس معاملے پرکیا کیا؟چیف جسٹس نے آئی جی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپ کی ایک ماہ کی کارکردگی ہے؟آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ سریہ معاملہ عدالت میں زیرالتواتھا، چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی زیرالتوا نہیں تھا،آپ کودیکھنا تھا اس معاملے میں کیاکرناہے،نئے آئی جی نے آتے ہی سرنگوں کردیا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*