بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> جمیل اطہرٓ قاضی ”دیار مجددؒ سے داتا نگر تک“

جمیل اطہرٓ قاضی ”دیار مجددؒ سے داتا نگر تک“

جمیل اطہرٓ قاضی ”دیار مجددؒ سے داتا نگر تک“
شاہد ندیم احمد
زندگی میں ہر شخص کی نظر سے بہت یادگار اور کچھ عام کتابیں گزرتی ہیں،لیکن کچھ ایسی کتب ہوتی ہیں جو اپنے سادہ اسلوب، حقیقت پر مبنی بیانیے اور پر اثر انداز سے قاری کواپنی پہلی سطر سے ہی گرفت میں لے لیتی ہیں، ایسی کتب کا سحر صرف ان میں تحریر کردہ مواد کی وجہ سے ہی اثر اندازنہیں ہوتا، بل کہ اسے لکھنے والے کی شخصیت اور مزاج بھی کتاب کو ایک ایسی روح عطا کرتا ہے جو کتاب سے نکل کر قاری میں حلول کر جاتی ہے،ایسی کتب مطالعے کے دوران قاری کی طبیعت پر بوجھ نہیں بنتیں اورنہ ہی بوریت کا احساس دلاتی ہیں،بل کہ اُن میں تحریر کردہ ا لفاظ آپ کے دل و دماغ میں اترتے چلے جاتے ہیں اور قاری بار بارکتاب پڑھنے کے بعد بھی اس کے حصار میں محصوررہتا ہے، ایسا ہی کچھ اثر“جمیل اطہرٓ قاضی کی کتاب ”دیار مجددؒ سے داتا نگر تک“پڑھ کر محسوس ہونے لگتا ہے۔
”دیار مجددؒ سے داتاؒ نگر تک“ ممتاز صحافی، رائٹر، کالم نگار اور دانشور جمیل اطہر قاضی کی داستان حیات ہے جو 110خوبصورت موضوعات کے ساتھ424 صفحات پر مشتمل ہے۔کتاب کے آخر ی تیس صفحات پر نامور شخصیات کے ساتھ ان کی یادگار تصاویر ہیں۔ محترم جمیل اطہر قاضی کی عمر اس وقت ماشاء اللہ 78 برس ہے، انہوں نے تقریباََ 64 برس صحافت کی وادی پُرخار میں گزارے اور آج بھی جذبہ جنوں کے ساتھ صحافتی سفر جاری ہے۔ گویا یہ کتاب 64 سالہ صحافتی، سماجی اور ثقافتی تاریخ کے ریفرنس کے طور پر جانی جائے گی ۔جمیل اطہرٓ قاضی نے اپنی کتاب ”دیار مجددؒ سے داتا نگر تک“ میں اپنے بچپن سے لے کر صحافتی زندگی کے تمام سفر کو انتہائی سچائی سے بیان کرنے کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی کی ملنے والی ممتاز شخصیات کے بارے میں تحریریں شامل کی ہیں،یہ یادداشتیں ایک یادگار مرقع ہیں۔
دیارِ مجددؒ سے داتاؒ نگر تک“ کہنے کو تو جناب جمیل اطہر قاضی کی ذاتی زندگی کے نشیب و فراز کی داستان ہے جس میں انہوں نے اپنی جائے پیدائش سرہند سے لاہور آمد اور یہاں طویل قیام، اس دوران اپنے روز و شب کی مصروفیات اور حالات کے تغیر و تبدل کا تذکرہ کیا ہے، مگر اس کے مطالعے سے ہمیں ان کی ذاتی زندگی سے کہیں زیادہ گزشتہ پون صدی کے دوران خطے کے سیاسی و سماجی حالات کے اتار چڑھاؤ سے آگاہی ہوتی ہے، اور تاریخ کے بعض ایسے گوشے ہمارے سامنے آتے ہیں جو عام طور پر نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔زیر نظر کتاب کا مطالعہ کہیں سے بھی شروع کیا جائے،ہر عنوان پہلے سے زیادہ دلچسپ اور ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔میں ذاتی طور پرمحترم جمیل اطہر قاضی کا مشکور ہوں کہ انہوں نے ایک طویل ملاقاتی نشست کے دوران دیارِ مجددؒ سے داتاؒ نگر تک“نذر کی گئی،میں نے دیارِ مجددؒ سے داتاؒ نگر تک“کا دوبار مطالعہ کیا،مگر تشنگی کم نہ ہوئی،اس کتاب کو نہ جانے کیوں بار بار پڑھنے کو دل کرتا ہے۔میری ذاتی رائے میں ادیب کی ظاہری نفاست کے ساتھ اس کی باطن کی پاکیزگی کتاب کی تحریرمیں جذب ہے جو قاری کے دل کو منور کرنے کے ساتھ دماغ کے بند دریچوں کو کھولنے لگتی ہے۔دیارِ مجددؒ سے داتاؒ نگر تک“میں جہاں مصنف نے اپنے روحانی سفر میں سر گزشت لکھی،وہاں وطنِ عزیز کی بہت سی ممتاز دینی، سیاسی اور صحافتی شخصیات سے تفصیلی ملاقات کا موقع بھی قاری کو کتاب کے مطالعے سے حاصل ہوتا ہے۔ محترم جمیل اطہر قاضی کی خودنوشت خاص طور پر پاکستانی صحافت اور یہاں کی صحافتی سیاست کی ایک تاریخی دستاویز ہے جس کا مصنف خود ایک چلتا پھرتا کردار رہا ہے۔اگر وہ یہ کتاب نہ لکھتے تو اُردو صحافت میں بہت بڑاخلاء رہ جاتا،اس لیے نوواردانِ صحافت اور پاکستان کی صحافت کی تشکیل و ترقی کے مختلف مراحل و مدارج سے دلچسپی رکھنے والوں کو اس کتاب کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے جو یقینا ان کے ذوق کی تسکین کے ساتھ عملی زندگی میں رہنمائی کاباعث ہوگا۔
توقع ہے کہ محترم جمیل اظہر قاضی سلسلہ تصنیف کو یہیں ختم نہیں کریں گے،کیو نکہ جس شخص نے میدان صحافت میں اتنی بھر پورکامیاب زندگی گزاری اورتغمہ امتیاز حاصل کیا،اس کے پاس دیگر موضوعات کی کمی نہیں ہو گی،وہ اپنی زندگی کے دیگر واقعات وتجربات سے قاری کی تشنگی کی پیاس بوجھانے کے لئے تحریر وتصنیف کے سلسلہ کو جاری رکھیں گے۔زیر نظر ایک سو دس مندرجات 424 صفحات پر مشتمل کتاب کو ناشر ادارہ ’بک ہوم‘ لاہور نے اپنی روایات کے مطابق نہایت اعلیٰ معیار، عمدہ سفید کاغذ اور نفیس طباعت کا اہتمام کیا ہے، حروف خوانی بھی بہت احتیاط سے کی گئی ہے۔ کتاب کے آخر میں دبیز ملائم کاغذ کے 32 صفحات پر مصنف کی خاندانی اور اعلیٰ سیا سی، صحافتی اور سماجی شخصیات کے ساتھ مختلف مواقع کی تصاویر بھی شامل کی گئی ہیں جس سے کتاب کی وقعت اور افادیت میں خاطر خواہ اضافہ ہوگیا ہے۔ رنگین سرورق کتاب کے نام کی معنویت کا عکاس ہے جسے شیخ احمد سرہندی حضرت مجدد الف ثانیؒ اور حضرت علی ہجویریؒ کی آخری آرام گاہوں اور ان سے پھوٹتی رشد و ہدایت کی روشنی کی کرنوں سے مزین کیا گیا ہے،کتاب کی جلد مضبوط اور حسین گردپوش سے آراستہ ہے،حسب توقع علمی، صحافتی اور سیاسی حلقوں میں ”دیارِ مجددؒ سے داتاؒ نگر“ تک کی بھر پور پذیرائی قابل ستائش ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*