بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> ملکی سلامتی سے وابستہ سیاسی دوکانداریاں!

ملکی سلامتی سے وابستہ سیاسی دوکانداریاں!

ملکی سلامتی سے وابستہ سیاسی دوکانداریاں!
شاہد ندیم احمد
سر زمین پا کستان اپنی تاریخ کے ایسے مرحلے سے گزر رہی ہے جس میں ہر چیلنج پوری توجہ اور یکسوئی کا طالب ہے، داخلی سطح پر معیشت کا بحران، مہنگائی اور بیروز گاری کی صورت حال عوام کیلئے پریشان کن ہے،جبکہ بیرونی سطح پر مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورت حال اور ایف اے ٹی ایف جیسے اداروں کے مطالبات، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور برادر مسلم ممالک کے باہمی اختلافات سے پیدا شدہ فضا جیسے طولانی تفصیل کے حامل اثرات ہیں۔اندرون ملک سیاسی بے چینی اس پر مستزاد ہے جسے جلد دور کیا جانا چاہئے۔ مولانا فضل الرحمٰن کی پارٹی نے دیگرسیاسی پارٹیوں کی حمایت سے اسلام آباد میں جو دھرنا دے رکھا تھا، اس کا اختتام اچھی خبر ضرور ہے، مگر ”پلان بی“ کے نام سے ملک بھر میں شاہراہیں بند کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا گیا، اس سے قومی زندگی بری طرح متاثر ہو گی۔ آمدورفت اور تجارتی مال کی ترسیل کا نظام متاثر ہونا حکومت کے لئے تو پریشان کن ہوگا، مگر کئی حوالوں سے اس کا تعلق ریاستی سلامتی کے تقاضوں سے بھی جاملتا ہے، عوامی مسائل اور پریشانیوں میں بھی اضافہ ہو گا۔ یہ ایسی صورت حال ہے جس میں بالخصوص حکومت کو زیادہ سیاسی سوجھ بوجھ سے کام لینا اور مفاہمت کا ماحول پیدا کرناچاہیے، جبکہ دھرنا دینے اور احتجاج کرنے والوں کو بھی یہ ملحوظ رکھنا ہوگا کہ احتجاج کا جمہوری حق آئین کی پاسداری و ملکی سلامتی سے مشروط ہے۔
پرامن احتجاج ہر شہری کا حق اور جمہوریت کا حسن ہے،ماضی میں سبھی مذہبی اور سیاسی جماعتیں اپنے اس حق کو استعمال کرتی رہی ہیں، لیکن اس سے کسی قسم کا عدم استحکام پیدا نہیں ہوا، آج تک حکومتیں دھرنوں سے قائم ہوئیں نہ ہی گرائی گئیں،اس حقیقت سے آشنائی کے باوجود حکومت مخالف احتجاجی سیاست بیرونی ایجنڈے کی نشاندہی کرتاہے۔ مولانا نے بروقت دھرنے کے خاتمے کا اعلان کر کے ایک منجھے اور سلجھے ہوئے سیاستدان کا ثبوت فراہم کیا ہے جس کی جمہوریت سے وابستہ تمام اداروں نے تعریف کی ہے،لیکن اب مولانا فضل الرحمن کو ملکی اور عالمی سطح پر قائم ہونے والے اپنے اس امیج کو اپنے پلان بی کے ذریعے خراب نہیں کرنا چاہیے۔ مولانا نے پلان بی کا اعلان کیا ہے جس میں بڑی شاہراہوں کو بند کرنا اور بین الصوبائی رابطے کو منقطع کرنا شامل ہے۔یقینی طور پر مولانا کے پلان بی سے خلقِ خدا کو نقصان ہو گا۔مسافروں، مریضوں،سکولز اور کالجز جانے والے بچوں کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا،جس کے عوام پر غلط اثرات مرتب ہونگے۔ گزشتہ روز جے یو آئی کے کارکنوں نے پلان بی کے تحت ملک کی اہم شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند کر دیا تھا، یہ سلسلہ مزید کچھ دن جاری رہا تو مولانا نے اسلام آباد دھرنہ پر امن طور پر ختم کر کے جو نیک نامی کمائی، وہ داغدار ہو جائے گی۔
مولانا فضل الرحمن نے جس انداز میں اپنے کارکنوں کو سڑکیں بند کرنے کا حکم دیا ہے، اس سے ہماری معیشت پر برے اثرات مرتب ہونگے،جبکہ پہلے ہی ہماری معیشت زبوں حالی کا شکار ہے،ایک طرف مولانا مہنگائی کا رونا روتے ہیں تو دوسری طرف مہنگائی پیدا کرنے والے اسباب کے خود ہی موجب بن رہے ہیں۔ اس سے معاشرے میں ان کے بارے میں بُرے تاثرات قائم ہونگے،پہلے ہی زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ مولانا عوامی کی بجائے ذاتی ایجنڈے کے تحت احتجاجی سیاست کی راہ پر گامزن ہیں۔اگرچہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی مولانا کے بی پلان میں شامل نہیں ہیں،اس لئے صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی جو آزادی مارچ میں مولانا کی اتحادی تھی، اسے بھی اپنے زیر انتظام صوبے میں آئین و قانون کی رٹ قائم رکھنی پڑے گی۔سندھ حکومت کے وزیر اطلاعات برملا کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنے صوبے میں
ہرکسی قسم کی بندش کے خلاف ہیں۔اگر جے یو آئی نے ہنگامہ برپا کیا تو سختی سے اسے روکا جائے گا۔ اس لئے مولانا فضل الرحمن کو کم از کم اپنے اتحادیوں کو کسی آزمائش سے دوچار نہیں کرنا چاہیے۔ جے یو آئی کے اسلام آباد دھرنے میں مرکزی قیادت اور مولانا فضل الرحمن خود بھی تمام تر صورت حال سے آگاہ رہتے تھے،لیکن جب ملک بھر میں ان کے کارکنان سڑکوں پر بیٹھیں گے تو مسافروں‘ گاڑیوں کے ڈرائیورں اور ہلپروں سے ان کا سامنا ہو گا جہاں پر لڑائی جھگڑے کے خدشے کو ٹالا نہیں جا سکتا، اگر کوئی جانی یا مالی نقصان ہوا تو پھراس کا ازالہ مشکل ہو جائے گا، لہٰذا مولانا کومفاہمتی پالیسی پر کاربند رہتے ہوئے احتجاج کا سلسلہ ختم کرنا چاہئے،کیونکہ ان کے حالیہ پرامن دھرنے سے ان قوتوں کی حوصلہ شکنی ہوئی جو دھرنے کی آڑ میں اپنے مذموم مقاصد کو پروان چڑھانے کے لئے بیتاب بیٹھی تھیں۔ مولانا کا پلان بی اپوزیشن تحریک میں انکی ”سولوفلائٹ“ ہی بنا رہنے کا امکان ہے،وہ اس تحریک کے جس جارحانہ موڈ میں نظر آتے ہیں، اس سے پورے سسٹم کو نقصان پہنچنا بعیدازقیاس قرار نہیں دیا جا سکتا، جبکہ اس جارحانہ سیاست کے ملک کی بقاء و سلامتی اور قومی مفادات پر بھی منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
اس تناظر میں حکومت کو بھی اپنی مخالف جے یو آئی کی احتجاجی تحریک سے عہدہ براہونے کیلئے سخت انتظامی اقدامات کے بجائے افہام و تفہیم کا کوئی درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے جس کیلئے حکومت کی جانب سے پہلے بھی حکومتی مذاکراتی ٹیم تشکیل دے کر کوششیں بروئے کار لائی جاتی رہی ہیں اور اسی طرح حکومتی حلیف مسلم لیگ (ق) کے صدر چودھری شجاعت حسین بھی اپنے طور پر حکومت اور مولانا فضل الرحمان میں افہام و تفہیم کا کوئی قابل عمل راستہ نکالنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ یہی مفاہمتی کوششیں اب بھی بروئے کار لائی جاسکتی ہیں۔ اگر حکومت نے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند کردیئے تو اپوزیشن کی دوسری جماعتیں بھی ملک کے لاک ڈاؤن والی جارحانہ احتجاجی سیاست کا حصہ بن سکتی ہیں، اس لئے بہتر یہی ہے کہ فہم و تدبر سے کام لیتے ہوئے ملک میں کسی قسم کی افراتفری اور قیاس کی فضا پیدا نہ ہونے دی جائے،بصورت دیگر جمہوری نظام اور ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی اس ارض وطن کے بدخواہوں کی خواہشات پوری ہوسکتی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان سمیت اپوزیشن قیادتوں کو بھی ملک کی سلامتی کو درپیش آج کے سنگین خطرات کا احساس ہونا چاہیے، لہٰذا وہ جارحانہ سیاست سے گریز کرتے ہوئے ملکی تقاضوں کو مدنظر رکھ کر اپنی دھرنا اور احتجاجی پالیسی پر نظر ثانی کریں، تاکہ ملکی ترقی میں حائل رکاوٹیں دور ہو سکیں۔ سیاستدانوں کی سیاسی دکانداریاں بہرصورت ملک کی سلامتی کے ساتھ ہی وابستہ ہیں، انہیں ملک کی سلامتی اور خودمختاری پر اپنی سیاست کو ہرگز ترجیح نہیں دینی چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*