بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> محکمہ پولیس کے بدنما کلچر پر طمانچہ

محکمہ پولیس کے بدنما کلچر پر طمانچہ

محکمہ پولیس کے بدنما کلچر پر طمانچہ
شاہد ندیم احمد
وزیراعظم عمران خان عوام سے بہت سارے وعدے کے ساتھ تبدیلی کے نام پر برسر اقتدار آئے ہیں، ان کے وعدوں میں سے ایک اہم ترین وعدہ ادارہ جاتی اصلاحات ہیں، ان اصلاحات میں سے اہم ترین پولیس اصلاحات ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے خاص طور پر پنجاب پولیس اصلاحات لانے اور اسے سیاسی اثر و رسوخ سے پاک کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ وہ پنجاب میں تھا نہ کلچر کے خاتمے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان سے پہلے بھی حکمرانوں نے پنجاب میں پولیس کلچر تبدیل کرنے کے اعلان اور وعدے کیے، مگر وہ پنجاب پولیس کا کچھ نہیں بگاڑ سکے۔ا گر عمران خان واقعی تھانہ کلچر تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں دو کام ضرور کرنا ہوں گے، ایک پولیس قوانین اور ڈھانچے کی تبدیلی اور دوسرا پولیس کی تربیت کے پورے نظام اور طریق کار میں تبدیلی ضروری ہے،کیو نکہ پولیس کے قوانین اور پورا ڈھانچہ نو آبادیاتی ہے جو کہ 21 ویں صدی کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں،یہی وجہ ہے کہ تھانے آج بھی عقوبت خانے بنے ہوئے ہیں اور شریف آدمی تھانے جانے کے تصور سے کانپتا ہے۔ پولیس کا سارا نظام فرسودگی اور بدعنوانی کے نرغے میں ہے۔اس کے باوجود یہ کہنا غلط ہو گا کہ سارے پولیس والے رشوت لیتے ہیں اور پورا محکمہ پولیس ہی بدعنوان ہے۔ پولیس بھی سماج کا عکس ہے جس طرح سماج میں ہر طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں، اسی طرح پولیس میں بھی ہر طرح کے لوگ موجود ہیں۔ دراصل مسئلہ کسی کی ذاتی ایمانداری یا بدعنوانی کا نہیں، بلکہ مسئلہ پولیس کے بحیثیت مجموعی تاثر اور عوامی رائے کا ہے جو کہ یقیناًمنفی ہے۔ پولیس میں آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جن کی دیانتداری اور کارکردگی پر انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی اور ایسے بھی لوگ ہیں جو کہ اپنے ادارے کے لیے بدنامی کا باعث ہیں۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کا زمہ دار پولیس کا ادارہ ماضی میں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہاہے، برسراقتدار سیاسی شخصیات اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے رہے جس کی وجہ سے پولیس عوام کو انصاف اور ریلیف فراہم کر نے میں اپنے حقیقی مقصد سے دور ہوتی چلی گئی اور یہ صورتحال نہ صرف محکمہ پولیس کے لیے بدنامی باعث بنی،بلکہ امن و امان کے قیام میں محکمہ پولیس کی عملداری کمزور رہی، اور بااثر جرائم پیشہ عناصر قانون کی دھجیاں بکھیرتے نظر آتے رہے ہیں۔عوام کی جانب سے ان گھمبیر حالات میں پولیس نظام میں اصلاحات، اور بار بار پولیس وردی بدلنے کی بجائے لہجے بدلنے، اور پولیس کا برتاؤ خوشگوار بنانے کی ضرورت پر زور دیاجاتا رہااور مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ ہمیں ایسے غیر سیاسی و غیر جانبدار پولیس نظام کی ضرورت ہے جو کہ عدم تحفظ کا شکار ہوئے بغیر صرف قانون کی بالادستی کو مقدم سمجھتے ہوئے شہریوں کی جان ومال کی حفاظت کر سکے۔اس حوالے سے موجودہ آئی جی پنجاب اور ایڈیشنل آئی جی ٹریننگ کی کاوشیں قابل ستائش ہیں،اُمید کی جاتی ہے کہ اعلیٰ قیادت کی کاوشوں کی بدولت مستقبل میں پولیس کا عوام کے ساتھ عمومی رویہ شاید تبدیل ہو جائے،تاہم اس کے لیے سیاسی کی بجائے میرٹ پر تعیناتی محکمے کی گار کردگی کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے۔یہ سیاسی وسفارشی تعیناتیوں کانتیجہ ہے کہ آئے روز بلخصوص صوبہ پنجاب کے اضلاع میں پولیس گردی کے واقعات عالمی سطح پر محکمہ پولیس کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔
اس حوالے سے ضلع شیخوپورہ میں پولیس گردی کے واقعات میں اضافہ تشویش کا باعث ہے، پولیس کی جانب سے شہریوں کو تحفظ دینے کی بجائے مدعی پارٹی سے ساز باز کرکے شہریوں پر ناجائز مقدمات بنائے جا رتے ہیں۔ تھانوں میں رشوت خوری اور شہریوں سے ناانصافی ہو رہی ہے، جبکہ ڈی پی او شیخوپورہ کی جانب سے کرپٹ پولیس افسران کیخلاف
کارروائی میں غفلت کا مظاہرہ کیا جا تاہے،چونکہ وہ خود سیاسی اسیر ہیں،اسی لیے سیاسی لوگوں کی خوشنودی وطیرہ بن گیا ہے،مظلوموں کی دادرسی کی بجائے سیاسی پریشر گروپ کی زبان بولتے نظر آتے ہیں،محکمہ پولیس میں سیاسی باؤ کے فیصلے مظلوم شہریوں کیلئے شدید پریشانی کا باعث ہیں۔گزشہ بھی شہریوں کی جانب سے اعلیٰ حکام سے پولیس گردی اور اعلی پولیس افسران کی غفلت و لاپرواہی پر نوٹس کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے،مگرسیاسی دباؤکاروائی راہ میں بڑی روکاوٹ ہے،حالیہ لیڈی کانسٹیبل سے وکیل کی دست درازی میں ڈی پی او شیخوپورہ کا وقت کے ساتھ بدلتا رویہ،اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی بجائے، بار وکلاء کے د باؤ میں بیک فٹ پر آکر پس پردہ زیادتی کرنے والوں کا ساتھ دیا جارہا ہے،اسی دوغلانہ رویہ کا منہ بولتا ثبوت ملزم وکیل کی کمزور ایف آئی آر پر ضمانت کا ہو جانا ہے۔
بلا شبہ فروزوالا کچہری میں خاتون پولیس اہلکار(فائزہ نواز)کے منہ پر احمد مختار نامی وکیل کے تھپڑ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے،مجرم کو نشان عبرت بنانے کی اشدضرورت ہے،مگر یہ طمانچہ ایک خاتون،بہن،بیٹی کے منہ پر نہیں،بلکہ محکمہ پولیس کے اس بدنما کلچر اور دوغلانہ رویئے کے منہ پر طمانچہ ہے جوسیاسی دباؤ اور ذاتی مفاد کے پیش نظر مظلوم کی بجائے ظالم کی پشت پناہی کرتانظر آتا ہے۔ یہ پولیس کے دوغلانہ رویہ کا نتیجہ ہے کہ لیڈی کا نسٹیبل کے والدین کو کہناپڑا کہ ہم اپنی بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کے بعد تھپڑ کھانے کیلئے نہیں بھیجتے اورانصاف نہ ملنے پر خاتون اہلکار نے استعفیٰ دے دیا۔ ہمارے ہاں تھوڑے عرصے بعد کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ یا سانحہ پیش آنے پر پولیس اور انصاف کی فراہمی کے نظام کے بارے میں بحث چھڑ جاتی ہے،میرٹ کی افادیت کے گن گائے جاتے ہیں، لیکن فوری عملی اقدامات کے فقدان میں کچھ حاصل نہیں ہوتا،اس مرتبہ اس ضمن میں یہ نئی بات ضرورہے کہ وزیر اعظم عمران خان اور ان کے مشیران بظاہر پولیس اصلاحات کے بارے میں پُر جوش دکھائی دیتے ہیں،لیکن تاحال اس ضمن میں کوئی ٹھوس عملی قدم نہیں اٹھا ئے جاسکے ہیں،البتہ وعدے اور دعوؤں کے زیر سایہ عوام دست سوال نظر آتے ہیں کہ انہیں سیاسی ومفاداتی کلچر میں جکڑے نظام کی موجودگی میں حقیقی انصاف کب اور کیسے ملے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*