بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> قیام امن کیلئے افغان بھارت گٹھ جوڑ کا خاتمہ

قیام امن کیلئے افغان بھارت گٹھ جوڑ کا خاتمہ

قیام امن کیلئے افغان بھارت گٹھ جوڑ کا خاتمہ
تحریر:شاہد ندیم احمد
افغانستان اور پاکستان کی سرزمین پر بسنے والے لوگ صدیوں سے مذہب، ثقافت اور تہذیب و تمدن کی مشترکہ اقدار کی بنیاد پر ہر خوشی غمی میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ آپس کی رشتہ داریاں، تجارت، آزادانہ نقل و حرکت سے قیام پاکستان کے بعد بھی دونوں ملکوں کے درمیان محض نام کی سرحد قائم رہی، تاہم افغانستان میں غیر ملکی فوجوں کے داخل ہونے کے بعد دہشت گردوں کی مدد سے بھارت نے صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھایا، پاکستان اور افغانستان میں ہونے والے دہشت گردی کے بہت سے واقعات میں بھارتی ایجنسیوں کا ہاتھ ہونا ایک کھلی حقیقت ہے۔ صورتحال سے نمٹنے کے لئے پاکستان نے کثیر سرمایہ خرچ کرکے سرحد پر باڑ لگانے کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے، اس سے دشمن کے مقاصد کو زک پہنچ رہی ہے یہی وجہ ہے کہ باڑ لگانے کے عمل کو سبوتاژ کرنے کے لئے دہشت گردوں کی جانب سے فائرنگ کے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں۔حالیہ دیر میں رونما ہونے والا سانحہ بھی باڑ لگانے کے دوران پیش آیا جس میں تین فوجی جوان شہید ہوئے، اسی طرح شمالی وزیرستان میں گشت پر مامور فوجی دستے پر ہونے والی فائرنگ سے ایک جوان شہید ہو گیا،بھارت کی جانب سے سر حد کے دونوں جانب سے در اندازی کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان بار ہا افغان قیادت کو بھارت کے خطرناک عزائم سے آگاہ کرچکا ہے، اس امن مذاکراتی عمل کے انتہائی حساس دور میں افغان قیادت سمیت عالمی برادری کو صورت حال کا نوٹس لینا چاہئے، خصوصاً امریکہ کی ذمہ داری ہے کہ بھارت کو خطے میں قیامِ امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے سے باز رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
بھارت اور افغانستان دو ایسے ہمسائے ہیں جن کی وجہ سے پاکستان طویل عرصے سے سکیورٹی مسائل کا شکار ہے۔ افغانستان اور بھارت سٹرٹیجک تعلقات کی آڑ میں ایسے منصوبوں میں شراکت دار ہیں جن کا مقصد پاکستان کے معاشی و دفاعی مفادات کو نقصان پہنچانا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان سب سے بڑا تنازع کشمیر کا ہے،اس تنازع کشمیر کی وجہ سے پورے خطے کی ترقی کا عمل رک چکاہے۔ بھارت کی جانب سے 5اگست 2019ء کو یکطرفہ طور پر مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کر دی گئی، بھارت نے افواج کی تعداد میں اضافہ کر کے مقبوضہ کشمیر کے ہر گھر کے سامنے بندوق بردار فوجی کھڑے کر دیے، یہ بھارتی اہلکار 40روز سے کشمیریوں کی زندگی اجیرن کئے ہوئے ہیں۔ پاکستان نے مظلوم کشمیریوں کے لئے اقوام متحدہ، او آئی سی، یورپی یونین اورچھوٹے بڑے دوسرے پلیٹ فارمز پر بھر پور آواز بلند کی ہے۔ عالمی میڈیا مسلسل کشمیر کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کر رہاہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور عالمی برادری بھارت کے مقابلے میں پاکستان اورکشمیریوں کے موقف پر توجہ دے رہے ہیں۔ یہ بدلتی عالمی صورت حال بھارت کی جھنجلاہٹ کا باعث بن رہی ہے۔ بھارت عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں جاری کرفیو سے ہٹانا چاہتا ہے،کنٹرول لائن پر فائرنگ اور حملوں کے ذریعے اسے توقع ہے کہ وہ عالمی توجہ کو منتشر کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ کنٹرول لائن پر بھارتی فائرنگ کی زد میں عام طور پر سویلین آبادی آرہی ہے،جبکہ شہری آبادی کو نشانہ بنانا ایک سنگین جنگی جرم ہے، مگر بھارت کسی بین الاقوامی قانون کو خاطر میں لائے بغیر جرم کئے جا رہا ہے۔ پاک افواج سرحد کے دونوں جانب بھارتی کاروائیوں کا موثر جواب دے رہی ہے،مگر بھارتی کاروائیاں خطے میں بڑی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔پا کستان نے جہاں ہمیشہ بھارت کو مذاکرات سے درینہ مسائل حل کرنے کی دعوت دی،وہاں افغانستان میں امن اور استحکام کی خاطر لازوال قربانیاں دی ہیں۔ چار عشروں سے لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان میں مقیم ہیں،آج بھی پاکستان میں رجسٹرڈ افغانوں کی تعداد 15لاکھ سے زاید ہے جن کی خوراک اور دوسری ضروریات کا خیال رکھا جاتا ہے۔
طالبان کے دور میں پاک افغان تعلقات میں بہتری دکھائی دی، تاہم نائن الیون نے صورت حال کو تبدیل کر دیاہے۔ پاکستان کو امریکہ اور نیٹو کے جارحانہ اقدامات کا ایک عرصہ تک سامنا بھی کرنا پڑاہے۔ بھارت نے امریکہ کی مدد سے افغانستان میں خفیہ آپریشن کرنے کے ساتھ پاک ایران اور پاک افغان تعلقات خراب کرنے کی بھی کوشش کرتا رہا ہے۔ افغانستان سے آنے والے بھارتی دہشت گردوں نے پاکستان میں تخریبی کارروائیاں جاری رکھیں تو پاکستان نے سرحد پر باڑ لگانے کا فیصلہ کیا،تاکہ دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکی جا سکے گی۔یہ سرحدی باڑ جن علاقوں میں لگ چکی ہے، وہاں اس کے نتائج حوصلہ افزا ہیں۔ 2640ء کلو میٹر طویل پاک افغان سرحد پر کشیدگی کا مطلب پاکستان کی توجہ لائن آف کنٹرول اور پاک بھارت سرحد سے ہٹانا ہے۔
بلا شبہ پاکستان میں دہشتگردی کیلئے افغان بھارت گٹھ جوڑ ایک ناسور کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، اس گٹھ جوڑ کی موجودگی میں افغانستان میں امن کا قیام ممکن نہیں، افغانستان میں قیام امن سے ہی خطے میں امن ہو سکتا ہے۔ افغان بھارت نامراد قرتبوں ہی سے افغانستان میں امن عمل کی راہ میں ایک بار پھر رخنہ پڑ چکا ہے۔ بھارت اور افغان انتظامیہ امریکہ طالبان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کیلئے سازشوں کے جال بنتے رہے ہیں،کیو نکہ افغان امن مذاکرات بھارت کے مفاد میں نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایک حملے کو جواز بنا کر مذاکرات کا دروازہ بند کر دیا جس پر افغان انتظامیہ سانس لے رہی ہے، کیونکہ اس کی جانب سے امریکہ طالبان مذاکرات کی کھل کر مخالفت کی جاتی رہی ہے۔اگر افغانستان میں امن قائم ہوتا ہے تو بھارت کے پاکستان میں دہشتگردی کرانے کے راستے بھی مسدود ہو جائینگے،اس لیے بھارت افغان امن مذ اکرات ناکام بنانے کی سازشوں میں سرگرم عمل ہے۔افغانستان کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے بھارت کا آلہ کار بننے سے گریز کرنا چاہئے اور امریکہ کوبھی امن کیخلاف بھارت اور افغانستان کے مشترکہ ایجنڈے سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*