بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> مطلوب و مقصودِ علم

مطلوب و مقصودِ علم

مطلوب و مقصودِ علم
شیخ ریحان انور
تعلیم کا مطلوب و مقصود معاشرے کے رویوں میں ایسی تبدیلی لانا ہے جس پہ عمل کرتے ہوئے معاشرے کو مثبت سمت کی جانب گامزن کیا جا سکے۔ایسی تبدیلی جس کی بدولت قوم کے بگاڑ کو سدھار میں منتقل کیا جا سکے۔ اسی باعث ہر سکول و کالج طفلانِ مکتب کو، اور ہر منبر و محراب متلاشیانِ حق کو ”علم“ کی فرضیت سمجھاتے ہوئے نظر آتے ہیں اور اس کی شان و عظمت کے قصیدوں میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے دکھائی دیتے ہیں۔
چونکہ کسی بھی علم کی اہمیت اس کے نتیجہ اور مقصد میں پنہاں ہوتی ہے لہٰذا جب وہ مقصد عیاں ہوتا ہے تو ہی کوئی شخص اس کے عملی دھارے میں شامل ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔مثبت تبدیلیوں کے سیلِ رواں میں آگے آنا ہی علم کی عملی تصویر اور جھلک ہے۔ ڈگریوں کے انبا ر سمیٹنا اور سجاسنوار کر رکھنا اور دوسروں پر اس کا رعب جھاڑنا علم نہیں، بلکہ اصل علم وہ ہے جو کردار کی زینت بنتا معاشرے میں مثبت اثر دکھاتا نظر آئے۔ علم کا ماخذ و منبع ربِّ کریم کی ذات ِ بے مثال ہے۔ لہٰذا اسی خالق کُل کائنات کے سکھلائے گئے علم کو عملی میدان میں اتار دینا ہی اس کی خوشنودی اور رضا ہے۔ علم جو پہلا زینہ بتاتا ہے، وہ ہے ”انسانیت“۔ دنیا کے تمام مذاہب نے علم کا عملی مظہر ”دردِ انسانیت“ ہی سے تعبیر کیا ہے۔ اسی کی ترویج و اشاعت اور اسی کے راگ الاپتے دنیا کے علمبردار نظر آتے ہیں۔ مطلوب ومقصود میں پہلا نمبر اسی کا ہے جو کسی ذی شعور اور با علم حلقے سے تعبیر کی جاتی ہے۔ جس کی بدولت حیاتِ انسانی سہل اور کسی قدر نور سے بھرپور دِکھنے لگتی ہے۔ صاحب ِ علم و دانش سے یہ توقع رکھنا عین درست ہے مگر جاہل بھی اکثر اوقات ایسے کردار پیش کر جاتے ہیں کہ پڑھے لکھے ان کے سامنے ہیچ تصور ہوتے ہیں۔بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بعض اوقات ان پڑھ کی تربیت و خدا خوفی تعلیم یافتہ کے عمل و کردارپر سبقت لے جاتی ہے۔
صاحبِ علم کے اوپر جو اس کے بعد بڑی ذمہ داری عا ئد ہوتی ہے وہ خیانت سے دوری اور امانت سے وفاداری ہے۔ اسی کی خاطر ہی عظیم مصلحین اپنی زندگیاں وقف کر چکے ہیں۔ اور یہ مسئلہ اتنا ہی اہم ہے، جتنا زندگی کیلئے پانی و ہوا۔ امانت کی پاسداری عرفِ عام میں کسی کی طرف سے گروی رکھوائی چیز کو وقتِ مقررہ تک حفاظت سے رکھنا اور صحیح و سالم لوٹانا، مگر امانت کا مفہوم اپنے اندر بے پناہ وسعت اور جامعیت سموئے ہوئے ہے۔ یہ کہنا درست ہو گا کہ اسلام کی عمارت امانت پہ کھڑی نظر آتی ہے۔ علم بھی ہمیں اطوارِ امانت ہی سکھاتا ہے۔ اگر علم ایسا کچھ نہیں کر پارہا تو ایسا علم غیر منافع بخش تصور کیا جائے گا جس سے محسنِ انسانیت ﷺ بھی پناہ مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ ایسے علم سے بچا جو منافع بخش نہ ہو۔
صاحب ِ علم کا امین ہونا اس کے علم کی معراج ہے اور امانت داری ہی مطلوب و مقصود ہے۔اور یہ بھی قابلِ فکر بات ہے کہ امانت نہیں تو ایمان بھی نہیں۔ امانت کی آسان لفظوں میں جامع تشریح یہ ہے کہ ”کسی کا حق کسی کو دے دینا“۔ تعلیم حقوق کی ادائیگی میں عدل سکھاتی ہے۔ اللہ کا حق اللہ کو، مخلوق کا مخلوق کو، اولاد کا حق اولاد کو، رعایا کا حق وغیرہ وغیرہ۔ کسی بھی حق میں ہیر پھیر خیانت کے زمرے میں آتا ہے۔صادق و امین کے لقب سے مشہور ہونے والی ہستی حضرت محمد ﷺ کے امتی پر بھی تو امانت داری فرض ہے۔ پھر وہ چاہے مشورہ طلبی میں، راز کی حفاظت میں ہو، تجارت ہو یا زندگی کے دیگر معاملات، ہر جگہ خوفِ خدا اور امانت کی پاسداری کی اشد ضرورت ہے۔ امانت کی اس قدر فضیلت ہے کی نبی آخرالزماں ﷺ نے فرمایا کہ ”تمہارے مردوں کو غسل وہ دے جو امانت دار ہو“۔ ایک اور موقع پر یہاں تک فرما دیا کہ ”رب جسے ہلاک کرنا چاہے اس سے شرم و حیا چھین لیتا ہے، پھر ”امانت داری“ چھین کر اسے رحمت سے محروم کر دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ اسلام کا قلادہ اس کی گردن سے نکل جاتا ہے“۔
قصہِ مختصر یہ کہ حساب و کتاب کے مراحل میں آسانی کے لیے اس امر کی پابندی از حد ضروری ہے کہ جب قیامت کو رب ا لعزت پوچھے کہ ابنِ آدم اپنے علم پر کتنا عمل کیا تو وہاں یہ کہنا آسان ہو سکے کہ علم کا جو مقصد تھا، میں اسے احسن طریقے سے نبھا کر آیا ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*