بنیادی صفحہ -> دنیا کی خبریں -> یورپ میں شدید برفباری سے نظامِ زندگی درہم برہم ہوگیا
برفباری

یورپ میں شدید برفباری سے نظامِ زندگی درہم برہم ہوگیا

لاہور(ویب ڈیسک): یورپ بھر میں شدید برفباری کے باعث ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا ہے، سردی کے باعث 17 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔قطب شمالی سے اٹھنیوالی یخ بستہ ہواؤں کے نتیجے میں یورپ برف سے ڈھک گیا ہے، آسٹریا اور جرمنی کے سرحدی علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، چند گھنٹوں میں تین تین فٹ برف پڑنے سے نظام زندگی مفلوج اور لوگ محصور ہوکر رہ گئے، برفانی تودے گرنے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔ جرمن شہر’برک ٹیس گاڈن‘ میں کئی روز کی برفباری کے بعد ہنگامی حالت نافذ کردی گئی، فوجی گاڑیوں میں برف میں گھرے عوام کو کھانے پینے کی اشیاء پہنچائی گئی ہیں جبکہ فوجی نجی و سرکاری عمارتوں اور سڑکوں سے برف ہٹانے میں مصروف ہیں۔پولینڈ، ناروے، چیک ری پبلک اور سلواکیہ میں بھی برفباری کے باعث مشکلات کا سامنا ہے، یونان کے بعض حصوں میں درجہ حرارت منفی23 ڈگری تک گرگیا ہے۔دوسری جانب ترکی میں بحیرہ روم کے ساتھ واقع شہر میں ہر شے برف سے ڈھک گئی ہے اور گھروں سے باہر نکلنا دشوار ہوگیا ہے۔

مریخ کی سطح کے نیچے کیا ہے؟ سراغ لگانے کے لیے سائنسدانوں نے اہم کامیابی حاصل کرلی
لاہور(ویب ڈیسک): مریخ سے آنے والی معلومات کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک طرف یورپ کے خلائی ادارے ای ایس اے نے برف سے بھرے ایک گڑھے کی تصویر جاری کی ہے تو دوسری طرف ناسا کا مشن ان سائٹ بھی اپنے مختلف آلات کو کام میں لا رہا ہے۔زمین کا قطبِ شمالی اپنے برفانی مناظر کے لیے مشہور ہے، لیکن جیسا کہ آپ ان تصاویر میں دیکھ سکتے ہیں، سردیوں میں برف سے صرف ہمارا ہی سیارہ نہیں ڈھکا ہوتا۔یہ مریخ کے قطب شمالی کے قریب واقع کورولیو کریٹر ہے جس کی تصاویر یورپی خلائی ادارے نے جاری کی ہیں۔ یہ کریٹر 82 کلومیٹر چوڑا ہے اور 1.8 کلومیٹر کی گہرائی تک برف سے بھرا ہے۔یہ تصاویر مارز ایکسپریس ہائی ریزولیوشن کیمرے سے لی گئی ہیں۔ مارز ایکسپریس مِشن ای ایس اے کا کسی دوسرے سیارے پر بھیجا جانے والا پہلا مشن ہے۔ اسے دو جون 2003 میں لانچ کیا گیا اور اسی سال 25 دسمبر کو یہ مریخ کے مدار میں داخل ہو گیا۔اسی دوران امریکی خلائی ادارے ناسا کے مریخ پر بھیجے جانے والے تازہ ترین مِشن اِن سائٹ نے اپنے آلات استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔مِشن کے روبوٹِک بازو نے ایک ایسا گھنٹی نما آلہ اپنے سامنے فرش پر رکھ دیا ہے جو زلزلوں کو ناپنے کا کام کرے گا۔فرانس اور برطانیہ میں بنایا گیا یہ آلہ مریخ پر آنے والے زلزلوں سے، جنھیں مارز کویک کہا جا رہا ہے، پیدا ہونے والی آوازوں کو سننے کی کوشش کرے گا، جس سے مریخ کی اندرونی ساخت کا اندازہ لگانے میں مدد ملے گی۔یہ سارا ڈیٹا مجموعی طور پر مریخ کی سطح پر پتھروں کی تہوں کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا۔ ان معلومات کا موازنہ پھر زمین کے ڈیٹا کے ساتھ کیا جا سکے گا۔تمام آلات کو چالو ہونے میں کچھ ہفتے لگ سکتے ہیں۔ سیسمومیٹر کو مریخ کی ہواں کے شور اور بدلتے درجہ حرارت سے بچانے کے لیے اس پر ایک غلاف لگایا گیا ہے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*