بنیادی صفحہ -> ٹیکنالوجی -> سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال بچوں کی نشوونما کیلئے خطرناک

سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال بچوں کی نشوونما کیلئے خطرناک

لاہور(ویب ڈیسک) چھٹی سے آٹھویں جماعت تک کے 1000 بچوں پر کیے گئے ایک مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ جو بچے سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، ان میں کھانے پینے اور کھیلنے کودنے کے معمولات بھی اسی قدر متاثر ہوتے ہیں۔

اگرچہ اس تحقیق سے یہ تو ثابت نہیں ہوا کہ بچوں میں اس طرزِ عمل کی وجہ سوشل میڈیا ہے لیکن بڑھتے بچوں کی نشوونما کے حوالے سے ایک اہم خدشہ ضرور سامنے آیا ہے۔ یہ مطالعہ جنوبی آسٹریلیا کی فلنڈرز یونیورسٹی میں شعبہ نفسیات کے تحت کیا گیا جس میں ایسے 1000 بچے رجسٹر کیے گئے جو 11 سے 13 سال کے تھے جبکہ وہ چھٹی سے آٹھویں جماعت میں پڑھ رہے تھے۔

واضح رہے کہ 13 سال وہی عمر ہوتی ہے جب کسی بچے میں بالغ ہونے کا عمل (نوبلوغت) شروع ہوتا ہے جو 17 سے 19 سال تک کی عمر میں مکمل ہوجاتا ہے۔ اس دوران لڑکے اور لڑکیوں میں جسمانی اور نفسیاتی طور پر کئی تبدیلیاں آتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ نوبلوغت کا زمانہ، بچوں کی نشوونما میں اہم ترین دور تصور کیا جاتا ہے۔ اگر اس دوران بچے کی جسمانی اور ذہنی نشوونما میں کوئی خلل پڑجائے تو اس کے اثرات آخری عمر تک برقرار رہتے ہیں۔ مذکورہ مطالعے میں نوبلوغت کی دہلیز پر قدم رکھنے والے بچوں میں چار سوشل میڈیا پلیٹ فارمز یعنی فیس بُک، اسنیپ چیٹ، انسٹاگرام اور ٹمبلر کا استعمال مدنظر رکھتے ہوئے، ان بچوں میں کھانے پینے اور کھیلنے کودنے سے متعلق معمولات کا جائزہ لیا گیا۔ ایک بات یہ سامنے آئی کہ وہ بچے انسٹاگرام اور اسنیپ چیٹ کا زیادہ استعمال کررہے تھے کیونکہ ان دونوں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں رابطے کےلیے تصاویر اور ویڈیوز سے زیادہ کام لیا جاتا ہے۔ مطالعے کی غرض سے ان میں جسمانی ورزش، کھانا چھوڑ دینا یا وقت پر نہ کھانا اور اسی طرح کی دوسری عادات کا جائزہ لیا گیا جن کا تعلق کھانے پینے میں بے اعتدالی (اِیٹنگ ڈِس آرڈر) سے ہے۔ 45 فیصد لڑکوں اور 52 فیصد لڑکیوں نے کھانے پینے میں مسلسل بے اعتدالی کا اعتراف کیا جبکہ مطالعے میں شریک تمام بچوں میں سے 75 فیصد لڑکیوں اور 70 فیصد لڑکوں کے پاس کم از کم ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ تھا۔ اس تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو بچے جتنا زیادہ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں، ان میں کھانے پینے کے معمولات بھی اسی قدر زیادہ متاثر ہوتے ہیں جس کا اثر ان کی اپنی صحت اور نشوونما پر پڑتا ہے۔ بعض دیگر ماہرین نے اس بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت پر زور دیا ہے کیونکہ ترقی یافتہ ممالک کے بچوں میں کھانے پینے میں بے اعتدالی اور موٹاپے کے مسائل اس وقت سے بڑھتے جارہے ہیں کہ جب سوشل میڈیا کا کوئی وجود نہیں تھا۔ ہوسکتا ہے کہ سوشل میڈیا اس رجحان میں اضافے کی وجہ بنا ہو اور اکیلا ہی اس کا ذمہ دار نہ ہو۔ تاہم، اس مفروضے کو غلط یا درست ثابت کرنے کےلیے جامع اور وسیع البنیاد تحقیق کے بغیر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ مذکورہ تحقیق کے نتائج ’’انٹرنیشنل جرنل آف اِیٹنگ ڈِس آرڈرز‘‘ کے حالیہ شمارے میں شائع ہوئے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*