بنیادی صفحہ -> صحت -> سوشل میڈیا کا استعمال غلط فیصلوں کی وجہ بن سکتا ہے: ماہرین
سوشل میڈیا
سوشل میڈیا

سوشل میڈیا کا استعمال غلط فیصلوں کی وجہ بن سکتا ہے: ماہرین

لاہور(ویب ڈیسک) ماہرین سوشل میڈیا کے ضرورت سے زیادہ استعمال کے بہت سے نقصانات بیان کر چکے ہیں اور نقصانات پر بہت سی تحقیقات بھی کرچکے ہیں مگر اب ماہرین نے ایک نئی تحقیق کی ہے جس میں ماہرین نےانکشاف کیا ہےکہ فیس بک، ٹویٹر اور دیگر سوشل میڈیا کا حد سے زائد استعمال لوگوں میں غلط فیصلوں کی وجہ بناتا ہے۔
جرنل آف بیہیویئر ایڈکشنس میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے یہ اپنی نوعیت کا پہلا مطالعہ ہے جس میں سوشل میڈیا اور غلط فیصلوں کے درمیان تعلق واضح کیا گیا ہے۔ مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کے ماہر نفسیات ڈار میشی اور ان کے ساتھیوں نے یہ سروے کیا ہے۔ مطالعے میں 71 افراد شرہل پوئے جس میں فیس بک پر زیادہ وقت دینے والے افراد سے طویل سوالنامہ پر کرایا گیا۔ اس میں ان کے کام اور انہیں مکمل نہ کرنے کے احساسات کا جائزہ لیاگیا۔ ایک سوال میں فیس بک کے استعمال اور تعلیم یا ملازمت پر اس کے اثرات کے بارے میں بھی پوچھا گیا۔ ماہرین نے شرکا کو ایک کھیل میں شامل کیا جسے ’ آئیووا گیمبلِنگ ٹاسک‘ کہا جاتا ہے اور ماہرین اسے فیصلہ سازی کے لیے نفسیات میں عام استعمال کرتے ہیں۔ اس میں شرکا تاش کی گڈیوں کو دیکھتے ہوئے بہترین فیصلہ کرتے ہیں۔ ڈار نے بتایا کہ جو لوگ سوشل میڈیا کا جتنا زیادہ استعمال کررہے تھے اس گیم میں انہوں نے غیرمعمولی غلط فیصلے کیے جبکہ دیگر شرکا نے درست اور قدرے بہتر فیصلے کئے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ منشیات استعمال کرنے والوں سے بھی اسی قسم کے فیصلے ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کوکین، افیم اور دیگر نشہ آور اشیا کے عادی آئیووا گیمبلنگ ٹاسک میں اسی قسم کے فیصلے دکھا چکے ہیں۔ یعنی سوشل میڈیا کا بے جا استعمال کرنے والوں کا فیصلہ سازی پر اثر عین منشیات کے عادی افراد کی طرح ہی ہوتا ہے۔ میشی کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے بہت سے فوائد ہیں لیکن جب اس کی عادت پڑجائے تو اس سے انسان پر بہت مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اسی بنا پر ہم سوشل میڈیا کے مسلسل استعمال کو ایک لت سے تعبیر کررہے ہیں۔ اسی بنا پر ماہرین نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر بے تحاشہ وقت گزارنا ایک خطرناک عمل ہے جس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*